بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(1۔ الفاتحة:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۙ
(1۔ الفاتحة:2)
hifz
►
تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کاربّ ہے۔
ہر (قسم کی) تعریف کا اللہ (ہی) مستحق ہے (جو) تمام جہانوں کا رب (ہے)۔
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۙ
(1۔ الفاتحة:3)
hifz
►
بے انتہا رحم کرنے والا، بن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
بے حد کرم کرنے والا‘ بار بار رحم کرنے والا۔
مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ؕ
(1۔ الفاتحة:4)
hifz
►
جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔
(اور) جزا سزا کے وقت کا مالک ہے۔
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ؕ
(1۔ الفاتحة:5)
hifz
►
تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔
(اے خدا)! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۙ
(1۔ الفاتحة:6)
hifz
►
ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔
ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ۬ۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ (ع)
(1۔ الفاتحة:7)
hifz
►
ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تُو نے انعام کیا۔ جن پر غضب نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہوئے۔
ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا ہے جن پر نہ تو تیرا (بعد) میں غضب نازل ہوا (ہے) اور نہ وہ (بعد میں) گمراہ (ہو گئے) ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(2۔ البقرة:1)
baqarah tilawat1 hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں۔)
الٓـمّٓ ۚ
(2۔ البقرة:2)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
اٴَنَااللہُ اٴَعْلَمُ: میں اللہ سب سے زیادہ جاننےوالا ہوں۔
میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔
ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ۚۖۛ فِیْهِ ۚۛ هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۙ
(2۔ البقرة:3)
quran fazail hifz baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
یہ ”وہ“ کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔
یہی کامل کتاب ہے‘ اس (امر) میں کوئی شک نہیں‘ متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے۔
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۙ
(2۔ البقرة:4)
momin attribute baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم انہیں رزق دیتے ہیں اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو (کچھ) ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَۃِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ؕ
(2۔ البقرة:5)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 momin attribute rakat1
►
اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اُتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے اُتارا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اس پر ایمان لاتے ہیں اورآئندہ ہونے والی (موعود باتوں) پر( بھی ) یقین رکھتے ہیں۔
اُولٰٓئِکَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(2۔ البقرة:6)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور یہی ہیں وہ جو فلاح پانے والے ہیں۔
یہ لوگ (یقیناً) اس ہدایت پر (قائم) ہیں جو ان کے رب کی طرف سے (آئی) ہے اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
(2۔ البقرة:7)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (اس حال میں کہ) برابر ہے اُن پر خواہ تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
ایسے لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے (اور) تیرا ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے لئے یکساں (اثر پیدا کرتا) ہے (جب تک وہ اس حالت کو نہ بدلیں) ایمان نہیں لائیں گے۔
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ ؕ وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (ع)
(2۔ البقرة:8)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی شنوائی پر بھی۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (مقدر) ہے۔
اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لئے ایک بڑا عذاب (مقدر) ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۘ
(2۔ البقرة:9)
tafseer khamisas1 baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور یومِ آخر پر بھی، حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘ حالانکہ وہ ہرگز ایمان نہیں رکھتے۔
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ؕ
(2۔ البقرة:10)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے سوا کسی اور کو دھوکہ نہیں دیتے۔ اور وہ شعور نہیں رکھتے۔
وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں‘ مگر (واقعہ میں) وہ اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دیتے۔ اور وہ سمجھتے نہیں۔
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ
(2۔ البقرة:11)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat1
►
ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ پس اللہ نے ان کو بیماری میں بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے بہت دردناک عذاب (مقدر) ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
ان کے دلوں میں ایک بیماری تھی پھر اللہ نے ان کی بیماری کو (اور بھی) بڑھا دیا اور انہیں ایک دردناک عذاب پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ
(2۔ البقرة:12)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم تو محض اصلاح کرنے والے ہیں۔
اور جب ان سے کہا جائے (کہ) زمین میں فساد نہ کرو‘ تو کہتے ہیں‘ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
(2۔ البقرة:13)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
خبردار! یقیناً وہی ہیں جو فساد کرنے والے ہیں لیکن وہ شعور نہیں رکھتے۔
(کان کھول کر) سنو! یہی لوگ بلاشبہ فساد کرنے والے ہیں‘ مگر وہ (اس حقیقت کو) سمجھتے نہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:14)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ جیسا کہ لوگ ایمان لے آئے ہیں ۔ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لے آئیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں۔ خبردار! وہ خود ہی تو ہیں جو بے وقوف ہیں۔ لیکن وہ علم نہیں رکھتے۔
اور جب انہیں کہا جائے کہ (اسی طرح) ایمان لاٶ‘ جس طرح (دوسرے) لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم (اس طرح) ایمان لائیں جس طرح بیوقوف (لوگ) ایمان لائے ہیں یاد رکھو! (یہ جھوٹ بول رہے ہیں) وہ خود ہی بیوقوف ہیں مگر (اس بات کو) جانتے نہیں۔
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَکُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ
(2۔ البقرة:15)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کی طرف الگ ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو (ان سے) صرف تمسخر کر رہے تھے۔
اور جب وہ ان لوگوں سے ملیں جو ایمان لائے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو (اس رسول کو) مانتے ہیں اور جب وہ اپنے سرغنوں سے علیحدگی میں ملیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (ان مومنوں سے) ہنسی کر رہے تھے۔
اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ
(2۔ البقرة:16)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
اللہ (ضرور) اُن کے تمسخر کا جواب دے گا۔ اور اُنہیں کچھ عرصہ مہلت دے گا کہ وہ اپنی سرکشیوں میں بھٹکتے رہیں۔
اللہ انہیں (ان کی) ہنسی کی سزا دے گا اور انہیں اپنی سرکشیوں میں بہکتے ہوئے چھوڑ دے گا۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْهُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا کَانُوْا مُهْتَدِیْنَ
(2۔ البقرة:17)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat2
►
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی۔ پس ان کی تجارت نفع بخش نہ ہوئی اور وہ ہدایت پانے والے نہ ہو سکے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو انہیں دنیوی فائدہ پہنچا اور نہ انہوں نے ہدایت پائی۔
مَثَلُهُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَکَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ
(2۔ البقرة:18)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat3
►
ان کی مثال اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے آگ بھڑکائی۔ پس جب اس (آگ) نے اس کے ماحول کو روشن کر دیا، اللہ اُن (بھڑکانے والوں) کا نور لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے تھے۔
ان کی حالت اس شخص کی حالت کی طرح ہے جس نے آگ جلائی پھر جب اس (آگ) نے اس کے ارد گرد (کے علاقہ) کو روشن کر دیا تو اللہ ان کی روشنی کو لے گیا اور اس نے انہیں (قسم قسم کے) اندھیروں میں (اس حال میں) چھوڑ دیا (کہ) وہ (کوئی راہ نجات) نہیں دیکھتے۔
صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ۙ
(2۔ البقرة:19)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat3
►
وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں، وہ اندھے ہیں۔ پس وہ (ہدایت کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔
وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ لوٹیں گے نہیں۔
اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْکٰفِرِیْنَ
(2۔ البقرة:20)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat3
►
یا (ان کی مثال) اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے۔ اس میں اندھیرے بھی ہیں اور کڑک بھی اور بجلی بھی۔ وہ بجلی کے کڑکوں کی وجہ سے، موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ کافروں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔
یا (ان کا حال) اس بارش کی طرح ہے جو (گھٹا ٹوپ) بادل سے (برس رہی) ہو (ایسی بارش) جس کے ساتھ (قسم قسم کے) اندھیرے اور گرج اور بجلی ہوتی ہے‘ وہ اپنی انگلیوں کو کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے کانوں میں ڈال لیتے ہیں حالانکہ اللہ تمام کافروں کو تباہ کرنے والا ہے۔
یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (ع)
(2۔ البقرة:21)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat3
►
قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے۔ جب کبھی وہ اُن (کو راہ دکھانے) کے لئے چمکتی ہے وہ اس میں (کچھ) چلتے ہیں۔ اور جب وہ ان پر اندھیرا کر دیتی ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہے تو ان کی شنوائی بھی لے جائے اور ان کی بینائی بھی۔ یقینا اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی کو اچک کر لے جائے۔ جب بھی وہ ان پر چمکتی ہے تو وہ اس (کی روشنی) میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کر دیتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو یقیناً ان کی شنوائی اور ان کی بینائی کو ضائع کر دیتا اللہ ہر (اس) امر پر (جس کا وہ ارادہ کرے) یقیناً پوری طرح قادر ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۙ
(2۔ البقرة:22)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat4
►
اے لوگو! تم عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے۔ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
اے لوگو! اپنے (اس) رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں (بھی) اور انہیں (بھی) جو تم سے پہلے گزرے ہیں پیدا کیا ہے تا کہ تم (ہر قسم کی آفات سے) بچو۔
الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:23)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat4
►
جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو (تمہاری بقا کی) بنیاد بنایا اور آسمان سے پانی اُتارا اور اس کے ذریعہ ہر طرح کے پھل تمہارے لئے بطور رزق نکالے۔ پس جانتے بوجھتے ہوئے اللہ کے شریک نہ بناﺅ۔
(وہی ہے) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونے اور آسمان کو چھت کے طور پر بنایا ہے اور بادلوں سے پانی اتارا ہے‘ پھر اس (پانی) کے ذریعہ سے میووں کی قسم کا رزق تمہارے لئے نکالا ہے۔ پس تم سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ کے ہمسر نہ بناٶ۔
وَ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
(2۔ البقرة:24)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat4
►
اور اگر تم اس بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی سُورت تو لا کے دکھاﺅ، اور اپنے سرپرستوں کو بھی بلا لاﺅ جو اللہ کے سوا (تم نے بنارکھے) ہیں، اگر تم سچے ہو۔
اور اگر اس (کلام) کے سبب سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تم کسی (قسم کے) شک میں (مبتلا ہو گئے) ہو تو اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورۃ لے آٶ اور اپنے غیر اللہ مددگاروں کو (بھی اپنی مدد کے لئے) بلالو۔
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ ۚۖ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ
(2۔ البقرة:25)
baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat4
►
پس اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
اور اگر تم نے ایسا نہ کیا اور تم ہرگز (ایسا) نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ وہ کافروں کے لئے تیارکی گئی ہے۔
وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ
(2۔ البقرة:26)
kalam hayat akhrat baqarah tilawat1 hifz taraweeh1 rakat4
►
اور خوشخبری دے دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ جب بھی وہ اُن (باغات) میں سے کوئی پھل بطور رزق دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا جا چکا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس محض اس سے ملتا جلتا(رزق) لایا گیا تھا۔ اور ان کے لئے ان (باغات) میں پاک بنائے ہوئے جوڑے ہوں گے۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
اور تو ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں خوشخبری دے کہ ان کے لئے (ایسے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جب بھی ان (باغوں) کے پھل میں سے کچھ رزق انہیں دیا جائے گا‘ وہ کہیں گے یہ تو وہی (رزق) ہے جو ہمیں اس سے پہلے دیا گیا تھا اور ان کے پاس وہ (رزق) ملتا جلتا لایا جائے گا اور ان کے لئے ان (باغوں) میں پاک جوڑے ہونگے اور وہ ان (باغوں) کے اندر (ہمیشہ) بسیں گے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَهَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِهٖ کَثِیْرًا ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ کَثِیْرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ ۙ
(2۔ البقرة:27)
hifz taraweeh1 rakat5
►
اللہ ہرگز اس سے نہیں شرماتا کہ کوئی سی مثال پیش کرے جیسے مچھر کی بلکہ اُس کی بھی جو اُس کے اوپر ہے۔ پس جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ایمان لائے تو وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے ربّ کی طرف سے حق ہے۔ اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے انکار کیا تو وہ کہتے ہیں (آخر) یہ مثال پیش کرنے سے اللہ کا مقصد کیا ہے۔ وہ اس (مثال) کے ذریعہ سے بہتوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے ذریعہ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں ٹھہراتا۔
اللہ ہرگز نہیں رکتا کسی بات کے بیان کرنے سے خواہ وہ مچھر کے برابر ہو یا اس سے بھی بڑھ کر۔ پھر جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ (تو) جان لیتے ہیں کہ وہ ان کے رب کی طرف سے بالکل حق (بات) ہے اور جو لوگ کافر ہوئے وہ کہتے ہیں کہ (آخر) اللہ کا اس بات کے بیان کرنے سے منشا کیا ہے؟ (اصل بات یہ ہے کہ) وہ بہت (سے لوگوں) کو اس (قرآن) کے ذریعہ سے گمراہ قرار دیتا ہے اور بہت (سے لوگوں) کو اس (قرآن) کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے ذریعہ سے ان نافرمانوں کے سوا کسی کو گمراہ قرار نہیں دیتا۔
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ ۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
(2۔ البقرة:28)
hifz taraweeh1 rakat5
►
یعنی وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان (تعلقات) کو کاٹ دیتے ہیں جن کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔
جو اللہ کے عہد کو اس کے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو جسے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں‘ وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
(2۔ البقرة:29)
hifz taraweeh1 rakat5
►
تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو جبکہ تم مُردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کیا۔ وہ پھر تمہیں مارے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاﺅ گے۔
(اے لوگو)! تم کس طرح اللہ (کی باتوں) کا انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم بے جان تھے۔ پھر اس نے تمہیں جان دار بنایا‘ پھر (ایک دن آئے گا کہ) وہ تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا جس کے بعد تمہیں اس کی طرف لوٹایا جائے گا۔
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ٭ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰٮهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَ هُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (ع)
(2۔ البقرة:30)
hifz taraweeh1 rakat5
►
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کا سب پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور اسے سات آسمانوں کی صورت میں متوازن کردیا اور وہ ہرچیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔
وہ (خدا) وہی (تو) ہے جس نے ان تمام چیزوں کو جو زمین میں ہیں تمہارے (فائدہ کے) لئے پیدا کیا۔ پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں مکمل بنا دیا سات آسمان‘ اور وہ ہر ایک بات (کی حقیقت) کو خوب جانتا ہے۔
وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:31)
kalam malaikatullah haqiqat hifz taraweeh1 rakat6
►
اور (یاد رکھ) جب تیرے ربّ نے فرشتوں سے کہا کہ یقیناً میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا تُو اُس میں وہ بنائے گا جو اُس میں فساد کرے اور خون بہائے جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ اُس نے کہا یقیناً میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
اور (اے انسان! تو اس وقت کو یاد کر) جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں (اس پر) انہوں نے کہا کہ کیا تو اس میں (ایسے شخص بھی) پیدا کرے گا جو اس میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے اور ہم (تو وہ ہیں جو) تیری حمد کے ساتھ (ساتھ) تیری تسبیح (بھی) کرتے ہیں اور تجھ میں سب بڑائیوں کے پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں (اس پر اللہ نے) فرمایا میں یقیناً وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
(2۔ البقرة:32)
kalam malaikatullah haqiqat hifz taraweeh1 rakat6
►
اور اس نے آدم کو تمام نام سکھائے پھر ان (مخلوقات) کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا مجھے ان کے نام بتلاﺅ اگر تم سچے ہو۔
اور (اللہ نے) آدم کو سب نام سکھائے پھر (جن کے وہ نام تھے) ان کو ملائکہ کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم درست بات کہہ رہے ہو تو تم مجھے ان کے نام بتاٶ۔
قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ
(2۔ البقرة:33)
hifz taraweeh1 rakat6
►
انہوں نے کہا پاک ہے تُو۔ ہمیں کسی بات کا کچھ علم نہیں سوائے اُس کے جس کا تُو ہمیں علم دے۔ یقیناً تُو ہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
انہوں نے کہا تو بے عیب ہے جو (کچھ) تو نے ہمیں سکھایا ہے اس کے سوا ہمیں کسی قسم کا علم نہیں ہے یقیناً تو ہی کامل علم والا (اور ہر قول و فعل میں) حکمت کو مدنظر رکھنے والا ہے۔
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ
(2۔ البقرة:34)
hifz taraweeh1 rakat6
►
اُس نے کہا اے آدم! تُو اِن کو اُن کے نام بتا۔ پس جب اُس نے اُنہیں اُن کے نام بتائے تو اُس نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یقیناً میں ہی آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں اور میں وہ (بھی) جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ (بھی) جو تم چھپاتے ہو۔
(اس پر اللہ نے) فرمایا۔ اے آدم! ان فرشتوں کو ان کے نام بتا۔ پھر جب اس (یعنی آدم) نے ان کو ان کے نام بتائے (تو) فرمایا‘ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں یقیناً آسمانوں اور زمین کی چھپی باتیں جانتا ہوں اور میں (اسے بھی) جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو۔
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ اَبٰی وَ اسْتَکْبَرَ ٭۫ وَ کَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ
(2۔ البقرة:35)
kalam malaikatullah hifz taraweeh1 rakat7
►
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی خاطر سجدہ کرو تو وہ سب سجدہ ریز ہوگئے سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور استکبار سے کام لیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو۔ اس پر انہوں نے تو فرمانبرداری کی مگر ابلیس (نے نہ کی اس) نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ (پہلے سے ہی) کافروں میں سے تھا۔
وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا ۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
(2۔ البقرة:36)
hifz taraweeh1 rakat7
►
اور ہم نے کہا اے آدم! تُو اور تیری زوجہ جنت میں سکونت اختیار کرو اور تم دونوں اس میں جہاں سے چاہو بافراغت کھاﺅ مگر اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔
اور ہم نے (آدم سے) کہا (کہ) اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو بافراغت کھاٶ‘ مگر اس (یعنی فلاں) درخت کے قریب نہ جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاٶ گے۔
فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا کَانَا فِیْهِ ۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ
(2۔ البقرة:37)
hifz taraweeh1 rakat7
►
پس شیطان نے ان دونوں کو اس (درخت) کے معاملہ میں پھسلا دیا پس اُس سے انہیں نکال دیا جس میں وہ پہلے تھے ۔ اور ہم نے کہا تم نکل جاؤ (اس حال میں کہ) تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے (اس) زمین میں ایک عرصہ تک قیام اور استفادہ (مقدر) ہے۔
اور (اس کے بعد یوں ہوا کہ) شیطان نے اس (درخت) کے ذریعہ سے ان (دونوں) کو (ان کے مقام سے) ہٹا دیا اور (اس طرح) اس نے انہیں اس (حالت) سے جس میں وہ تھے نکال دیا اور ہم نے (انہیں) کہا (کہ یہاں سے) نکل جاٶ۔ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں اور (یاد رکھو کہ) تمہارے لئے ایک (مقررہ) وقت تک اسی زمین میں جائے رہائش اور سامان معیشت (مقدر) ہے۔
فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(2۔ البقرة:38)
hifz taraweeh1 rakat7
►
پھر آدم نے اپنے ربّ سے کچھ کلمات سیکھے۔ پس وہ اس پر توبہ قبول کرتے ہوئے جُھکا ۔ یقیناً وہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اس کے بعد آدم نے اپنے رب سے کچھ (دعائیہ) کلمات سیکھے (اور ان کے مطابق دعا کی) تو وہ اس کی طرف (پھر فضل کے ساتھ) متوجہ ہوا۔ یقیناً وہی (بندوں کی مصیبت کے وقت) بہت ہی توجہ کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ هُدًی فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ
(2۔ البقرة:39)
hifz taraweeh1 rakat7
►
ہم نے کہا اس میں سے تم سب کے سب نکل جاؤ۔ پس جب کبھی بھی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئی تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ کوئی غم کریں گے۔
(تب) ہم نے کہا (جاٶ) سب کے سب اس میں سے نکل جاٶ (اور یاد رکھو کہ) اگر پھر کبھی تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی (آئندہ کا) خوف ہوگا اور نہ وہ (سابق کوتاہی پر) غمگین ہوں گے۔
وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (ع)
(2۔ البقرة:40)
hifz taraweeh1 rakat7
►
اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور ہمارے نشانات کو جھٹلایا وہی ہیں جو آگ میں پڑنے والے ہیں۔ وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔
اور جو (لوگ) کفر کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ (ضرور) دوزخ (میں پڑنے) والے ہیں۔ وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے۔
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ
(2۔ البقرة:41)
hifz taraweeh1 rakat8
►
اے بنی اسرائیل! اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں بھی تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور بس مجھ ہی سے ڈرو۔
اے بنی اسرائیل! میرے اس احسان کو یاد کرو‘ جو میں تم پر کر چکا ہوں اور تم (نے) میرے (ساتھ جو) عہد (کیا تھا اس) کو پورا کرو۔ تب میں نے جو عہد تمہارے ساتھ کیا تھا میں اس کو پورا کروں گا اور مجھ (ہی) سے (ڈرو) پھر (میں کہتا ہوں کہ) مجھ (ہی) سے ڈرو۔
وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ وَ لَا تَکُوْنُوْۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِهٖ ۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ۫ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ
(2۔ البقرة:42)
hifz taraweeh1 rakat8
►
اور اس پر ایمان لے آؤ جو میں نے اُس کی تصدیق کرتے ہوئے اتارا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ اور اس کا انکار کرنے میں پہل نہ کرو اور میرے نشانات کے بدلے معمولی قیمت وصول نہ کرو اور بس میرا ہی تقویٰ اختیار کرو۔
اور اس (کلام) پر ایمان لاٶ جو میں نے (اب) اتارا ہے (اور) جو اس (کلام) کو جو تمہارے پاس ہے سچا کرنے والا ہے اور تم اس کے (سب سے) پہلے کافر نہ بنو‘ اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی قیمت مت لو۔ اور مجھ (ہی) سے (ڈرو) پھر (میں کہتا ہوں کہ) مجھ (ہی) سے ڈرو۔
وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:43)
hifz taraweeh1 rakat8
►
اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور حق کو چھپاؤ نہیں جبکہ تم جانتے ہو۔
اور جانتے بوجھتے ہوئے حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاٶ اور نہ حق کو (جانتے بوجھتے ہوئے) چھپاٶ۔
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ
(2۔ البقرة:44)
hifz taraweeh1 rakat8
►
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جُھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔
اور نماز کو قائم رکھو اور زکٰوۃ دو‘ اور خدا کی خالص پرستش کرنے والوں کے ساتھ مل کر خدا کی خالص پرستش کرو۔
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(2۔ البقرة:45)
hifz taraweeh1 rakat8
►
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو جب کہ تم کتاب بھی پڑھتے ہو ۔ آخر تم عقل کیوں نہیں کرتے؟
کیا تم (دوسرے) لوگوں کو (تو) نیکی (کرنے) کے لئے کہتے ہو اور اپنے آپ کو فراموش کر دیتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب (یعنی تورات) پڑھتے ہو پھر (بھی) کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّهَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ۙ
(2۔ البقرة:46)
hifz taraweeh1 rakat8
►
اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو اور یقیناً یہ عاجزی کرنے والوں کے سوا سب پر بوجھل ہے۔
اور صبر اور دعا کے ذریعہ سے (اللہ سے) مدد مانگو اور بے شک فروتنی اختیار کرنے والوں کے سوا (دوسروں کے لئے) یہ (امر) مشکل ہے۔
الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ (ع)
(2۔ البقرة:47)
hifz taraweeh1 rakat8
►
(یعنی) وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
(وہ فروتن) جو (اس بات پر) یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور اس بات پر بھی کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ٭ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:103)
tafseer shahid
►
اور انہوں نے پیروی کی اس کی جو شیاطین سلیمان کے ملک کے خلاف پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ وہ شیاطین تھے جنہوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور (اس کے برعکس) بابل میں جو دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا (اس کا قصہ یہ ہے) وہ دونوں کسی کو بھی کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک وہ (اُسے) یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش کے طور پر ہیں پس تُو کفر نہ کر ۔ پس وہ لوگ ان دونوں سے ایسی بات سیکھتے تھے جس کے ذریعے وہ خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے تھے اور اللہ کے اِذن کے سوا وہ اس ذریعہ سے کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں تھے۔ اور (اس کے برعکس جو لوگ شیاطین سے سیکھتے تھے) وہ وہی باتیں سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچانے والی تھیں اور فائدہ نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جس نے بھی یہ سودا کیا اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں رہے گا۔ پس بہت ہی برا تھا وہ (عارضی فائدہ) جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانیں بیچ دیں، کاش کہ وہ جانتے۔
نیز وہ (یہودی) اس (طریق عمل) کے پیچھے پڑ گئے جس کے پیچھے سلیمان کی حکومت کے زمانہ میں (اس کی حکومت کے) باغی پڑے رہتے تھے۔ اور سلیمان کافر نہ تھا بلکہ (اس کے) باغی کافر تھے۔ وہ لوگوں کو دھوکا دینے والی باتیں سکھاتے تھے اور (بزعم خود) اس بات کی (بھی نقل کرتے ہیں) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اتاری گئی تھی۔ حالانکہ وہ دونوں (تو) جب تک یہ نہ کہہ لیتے تھے کہ ہم (خداتعالیٰ کی طرف سے) آزمائش کے طور پر (مقرر ہوئے) ہیں۔ اس لئے (اے مخاطب! ہمارے احکام کا) انکار نہ کرنا‘ کسی کو (کچھ) نہیں سکھاتے تھے جس پر وہ (لوگ) ان (دونوں) سے وہ بات سیکھتے تھے جس کے ذریعہ سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کر دیتے تھے اور وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی کو بھی اس (بات) کے ذریعہ سے ضرر نہیں پہنچاتے تھے اور (اس کے بالمقابل) یہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن) تو وہ بات سیکھ رہے ہیں جو انہیں ضرر دے گی اور نفع نہیں دے گی اور یہ لوگ یقیناً جان چکے ہیں کہ جو اس (طریق) کو اختیار کر لے آخرت میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں اور وہ چیز جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ رکھا ہے‘ بہت ہی بری ہے‘ کاش کہ یہ جانتے۔
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(2۔ البقرة:107)
kalam hifz shahid
►
جو آیت بھی ہم منسوخ کر دیں یا اُسے بھلا دیں، اُس سے بہتر یا اُس جیسی ضرور لے آتے ہیں۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے؟
جس کسی پیغام کو بھی ہم منسوخ کر دیں یا بھلوا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسا (پیغام) ہم (دوبارہ دنیا میں) لے آتے ہیں‘ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر ایک امر پر (جس کا وہ ارادہ کرے) پورا (پورا) قادر ہے۔
بَلٰی ٭ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (ع)
(2۔ البقرة:113)
tafseer khamisas1 shahid
►
نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپرد کردے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجر اس کے ربّ کے پاس ہے۔ اور اُن (لوگوں) پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(اور بتاٶ کہ دوسرے لوگ) کیوں نہیں (داخل ہوں گے) جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے اور وہ نیک کام کرنے والا (بھی) ہو تو اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ (مقرر) ہے اور ان (لوگوں) کو نہ (آئندہ کے متعلق) کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ (کسی سابق نقصان پر) غمگین ہوں گے۔
وَ اِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ
(2۔ البقرة:125)
taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور جب ابراہیم کو اس کے ربّ نے بعض کلمات سے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر دیا تو اُس نے کہا میں یقیناً تجھے لوگوں کے لئے ایک عظیم امام بنانے والا ہوں۔ اُس نے عرض کیا اور میری ذرّیت میں سے بھی۔ اس نے کہا (ہاں مگر) ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچے گا۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے بعض باتوں کے ذریعہ سے آزمایا اور اس نے ان کو پورا کر دکھایا (اس پر اللہ نے) فرمایا کہ میں تجھے یقیناً لوگوں کا امام مقرر کرنے والا ہوں (ابراہیم نے) کہا اورمیری اولاد میں سے بھی (امام بنائیو) (اللہ نے) فرمایا (ہاں مگر) میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤی اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ
(2۔ البقرة:126)
tafseer khamisas1 taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور جب ہم نے (اپنے) گھر کو لوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا۔ اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو ۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک و صاف بنائے رکھو۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (یعنی کعبہ) کو لوگوں کے لئے باربار جمع ہونے کی جگہ اور امن (کا مقام) بنایا تھا اور (حکم دیا تھا کہ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناٶ۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکیدی حکم دیا تھا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک (اور صاف) رکھو۔
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
(2۔ البقرة:127)
taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے ربّ! اس کو ایک پُرامن اور امن دینے والا شہر بنا دے اور اس کے بسنے والوں کو جو اُن میں سے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائے ہر قسم کے پھلوں میں سے رزق عطا کر ۔ اس نے کہا کہ جو کفر کرے گا اسے بھی میں کچھ عارضی فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر میں اُسے آگ کے عذاب کی طرف جانے پر مجبور کردوں گا اور (وہ) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اے میرے رب اس (جگہ) کو ایک پرامن شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو بھی اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان لائیں انہیں (ہر قسم کے) پھل عطا فرما (اس پر اللہ نے) فرمایا اور جو شخص کفر کرے اسے (بھی) میں تھوڑی مدت تک فائدہ پہنچاٶں گا۔ پھر اسے مجبور کرکے دوزخ کے عذاب کی طرف لے جاٶں گا۔ اور (یہ) بہت برا انجام ہے۔
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
(2۔ البقرة:128)
taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور جب ابراہیم اُس خاص گھر کی بنیادوں کو اُستوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی (یہ دعا کرتے ہوئے) کہ اے ہمارے ربّ! ہماری طرف سے قبول کر لے۔ یقینا تو ہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور (اس کے ساتھ) اسماعیل بھی (اور وہ دونوں کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے رب ہماری طرف سے (اس خدمت کو) قبول فرما۔ تو ہی (ہے جو) بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا ۚ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(2۔ البقرة:129)
taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے دو فرمانبردار بندے بنادے اور ہماری ذریّت میں سے بھی اپنی ایک فرمانبردار اُمّت (پیدا کردے)۔ اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جُھک جا۔ یقیناً تُو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اے ہمارے رب! اور (ہم یہ بھی التجا کرتے ہیں کہ) ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار (بندہ) بنالے اور ہماری اولاد میں سے بھی اپنی ایک فرماں بردار جماعت (بنا) اور ہمیں ہمارے (مناسب حال) عبادت کے طریق بتا اور ہماری طرف (اپنے) فضل کے ساتھ توجہ فرما یقیناً تو (اپنے بندوں کی طرف) بہت توجہ کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْهِمْ ؕ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (ع)
(2۔ البقرة:130)
taraweeh3 rakat1 hifz
►
اور اے ہمارے ربّ! تو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس کی) حکمت بھی سکھائے اور اُن کا تزکیہ کر دے۔ یقینا تُو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔
اور اے ہمارے رب! (ہماری یہ بھی التجا ہے کہ تو) انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ یقیناً تو ہی غالب (اور) حکمتوں والا ہے۔
وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَهِیْدًا ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْهِ ؕ وَ اِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
(2۔ البقرة:144)
kalam qatl murtad
►
اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی اُمت بنادیا تاکہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگران ہو جائے۔ اور جس قبلہ پر تُو (پہلے) تھا وہ ہم نے محض اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم اُسے جان لیں جو رسول کی اطاعت کرتا ہے بالمقابل اس کے جو اپنی ایڑیوں کے بَل پھر جاتا ہے۔ اور اگرچہ یہ بات بہت بھاری تھی مگر ان پر (نہیں) جن کو اللہ نے ہدایت دی۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمانوں کو ضائع کر دے۔ یقینا اللہ لوگوں پر بہت مہربان (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
اور (اے مسلمانو! جس طرح ہم نے تمہیں سیدھی راہ دکھائی ہے) اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے تا کہ تم (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو‘ اور یہ رسول تم پر نگران ہو اور ہم نے اس قبلہ کو جس پر تو (اس سے پہلے قائم) تھا صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ تاہم اس شخص کو جو اس رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے اس شخص کے مقابل پر جو ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے (ایک ممتاز حیثیت میں) جان لیں۔ اور یہ (امر) ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے‘ (دوسروں کے لئے) ضرور مشکل ہے اور اللہ (ایسا) نہیں کہ تمہارے ایمانوں کو ضائع کرے۔ اللہ یقیناً سب انسانوں پر نہایت مہربان (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
وَ لِکُلٍّ وِّجْهَۃٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ؕ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(2۔ البقرة:149)
naiki promotion manzil
►
اور ہر ایک کے لئے ایک مطمحِ نظر ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کرکے لے آئے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
اور ہر ایک (شخص) کا ایک (نہ ایک) مطمح نظر ہوتا ہے جسے وہ (اپنے آپ) پر مسلط کر لیتا ہے سو (تمہارا مطمح نظر یہ ہو کہ) تم نیکیوں (کے حصول) میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں کہیں (بھی) ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کرکے لے آئے گا اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا (پورا) قادر ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ
(2۔ البقرة:154)
taraweeh3 rakat2 hifz
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو (اللہ سے) صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو صبر اور دعا کے ذریعہ سے (اللہ کی) مدد مانگو۔ اللہ یقیناً صابروں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
(2۔ البقرة:155)
taraweeh3 rakat2 hifz
►
اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مُردے نہ کہو بلکہ (وہ تو) زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کے متعلق (یہ) مت کہو کہ وہ مردہ ہیں (وہ مردہ) نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر تم نہیں سمجھتے۔
وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۙ
(2۔ البقرة:156)
taraweeh3 rakat2 hifz
►
اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دےدے۔
اور ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک (سے) اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی (کے ذریعہ) سے ضرور آزمائیں گے اور (اے رسول)! تو (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادے۔
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَۃٌ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ؕ
(2۔ البقرة:157)
taraweeh3 rakat2 hifz
►
اُن لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقیناً اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
جن پر جب (بھی) کوئی مصیبت آئے (گھبراتے نہیں بلکہ یہ) کہتے ہیں کہ ہم (تو) اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
اُولٰٓئِکَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ
(2۔ البقرة:158)
taraweeh3 rakat2 hifz
►
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے ربّ کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں (نازل ہوتی) ہیں اور رحمت (بھی) اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۙ
(2۔ البقرة:184)
taqdeer allah khamisas1 kalam roza arkan islam taraweeh
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر (بھی) روزوں کا رکھنا (اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تا کہ تم (روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے) بچو۔
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ؕ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(2۔ البقرة:185)
fidya ramadan infaq taraweeh
►
گنتی کے چند دن ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے۔ اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
(سو تم روزے رکھو) چند گنتی کے دن۔ اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میںہو تو (اسے) اور دنوں میں تعداد (پوری کرنی) ہوگی اور ان لوگوں پر جو اس (یعنی روزہ) کی طاقت نہ رکھتے ہوں (بطور فدیہ) ایک مسکین کا کھانا دینا (بشرط استطاعت) واجب ہے اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم علم رکھتے ہو تو (سمجھ سکتے ہو کہ) تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَ الْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ؕ وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۫ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰی مَا هَدٰٮکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
(2۔ البقرة:186)
ramadan fazail fiqh taraweeh
►
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اِس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اُس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔
رمضان کا مہینہ وہ (مہینہ) ہے جس کے بارہ میں قرآن (کریم) نازل کیا گیا ہے‘ (وہ قرآن) جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت (بنا کر بھیجا گیا) ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے (ایسے دلائل) جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی (قرآن میں) الٰہی نشان بھی ہیں اس لئے تم سے جو شخص اس مہینہ کو (اس حال میں) دیکھے (کہ نہ مریض ہو نہ مسافر) اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد (پوری کرنی واجب) ہوگی۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا‘ اور (یہ حکم اس نے اس لئے دیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو اور) تا کہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس (بات) پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تا کہ تم (اس کے) شکر گذار بنو۔
وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ؕ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ
(2۔ البقرة:187)
tafseer khamisas1 taraweeh
►
اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اور (اے رسول)! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو (تو جواب دے کہ) میں (ان کے) پاس (ہی) ہوں۔ جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ سو چاہیے کہ وہ (دعا کرنے والے بھی) میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔
اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَ عَفَا عَنْکُمْ ۚ فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَکُمْ ۪ وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ ۙ فِی الْمَسٰجِدِ ؕ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ
(2۔ البقرة:188)
women ramadan fiqh
►
تمہارے لئے (ماہِ) صیام کی راتوں میں اپنی بیویوں سے تعلقات جائز قرار دیئے گئے ہیں۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اپنے نفسوں کا حق مارتے رہے ہو۔ پس وہ تم پر رحمت کے ساتھ جھکا اور تم سے درگذر کی۔ لہٰذا اب ان کے ساتھ (بے شک) اِزدواجی تعلقات قائم کرو اور اس کی طلب کرو جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر (کے ظہور) کی وجہ سے (صبح کی) سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے تمہارے لئے ممتاز ہو جائے۔ پھر روزے کو رات تک پورا کرو۔ اور ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرو جبکہ تم مساجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔
تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے وہ تمہارے لئے ایک (قسم) کا لباس ہیں اور تم ان کے لئے ایک (قسم) کا لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے۔ اس لئے اس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری (اس حالت کی) اصلاح کر دی۔ سو اب تم (بلاتامل) ان کے پاس جاٶ اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس کی جستجو کرو۔ اور کھاٶ اور پیو۔ یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ اس کے بعد (صبح سے) رات تک روزوں کی تکمیل کرو۔ اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو ان کے (یعنی بیویوں کے) پاس نہ جاٶ۔ یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدّیں ہیں۔ اس لئے تم ان کے قریب (بھی) مت جاٶ۔ اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے تا کہ وہ (ہلاکتوں سے) بچیں۔
وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ
(2۔ البقرة:191)
kalam khamisas2 shahid
►
اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ یقیناً اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور (کسی پر) زیادتی نہ کرو (اور یاد رکھو) اللہ زیادتی کرنے والوں سے ہر گر محبت نہیں کرتا۔
وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَ الْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ
(2۔ البقرة:192)
taqdeer allah khamisas1 kalam shahid
►
اور (دورانِ قتال) انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی تم انہیں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے تمہیں انہوں نے نکالا تھا۔ اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے وہاں قتال کریں۔ پس اگر وہ تم سے قتال کریں تو پھر تم اُن کو قتل کرو۔ کافروں کی ایسی ہی جزا ہوتی ہے۔
اور جہاں بھی ان (ناحق لڑنے والوں) کو پاٶ انہیں قتل کرو اور تم (بھی) انہیں اس جگہ سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور (یہ) فتنہ قتل سے (بھی) زیادہ سخت (نقصان دہ) ہے اور تم ان سے مسجد حرام کے قرب (وجوار) میں (اس وقت تک) جنگ نہ کرو جب تک وہ (خود) تم سے اس میںجنگ کی (ابتدا) نہ کریں اور اگر وہ تم سے (وہاں بھی) جنگ کریں تو تم بھی انہیں قتل کرو‘ ان کافروں کی یہی سزا ہے۔
وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحْسِنُوْا ۚۛ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
(2۔ البقرة:196)
all hifz qatl self addiction infaq
►
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں (اپنے تئیں) ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
اور اللہ کے راستے میں (مال و جان) خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں (اپنے آپ کو) ہلاکت میں مت ڈالو اور احسان سے کام لو۔ اللہ احسان کرنے والوں سے یقیناً محبت کرتا ہے۔
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰهَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ
(2۔ البقرة:201)
tafseer khamisas1 paper
►
پس جب تم اپنے (حج کے) ارکان ادا کرچکو تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباءکا ذکر کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ ذکر۔ پس لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو کہتا ہے اے ہمارے ربّ! ہمیں (جو دینا ہے) دنیا ہی میں دےدے۔ اور اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
پھر جب تم اپنے عبادتیں پوری کر چکو تو (گذشتہ زمانہ میں) اپنے باپ دادوں کو یاد کرنے کی طرح اللہ کو یاد کرو۔ یا (اگر ہو سکے تو) (اس سے بھی) زیادہ (دل بستگی سے) یاد کرو۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (یہی) کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں (آرام) دے اور ان کا آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں ہوتا۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
(2۔ البقرة:202)
hifz
►
اور اُنہی میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی حَسَنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حَسَنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
اور ان میں سے کچھ (ایسے بھی ہوتے) ہیںجو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں (اس) دنیا (کی زندگی) میں (بھی) کامیابی دے اور آخرت میں (بھی) کامیابی (دے) اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ ۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
(2۔ البقرة:246)
infaq
►
کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھائے۔ اور اللہ (رزق) قبض بھی کر لیتا ہے اور کھول بھی دیتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
کیا کوئی ہے جو اللہ کو (اپنے مال کا) ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے تا کہ وہ اسے اس کے لئے بہت بہت بڑھائے اور اللہ (کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ بندہ کا مال) لیتا ہے اور بڑھاتا ہے اور (آخر) تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔
فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۟ۙ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰٮهُ اللّٰهُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ
(2۔ البقرة:252)
tafseer khamisas1 paper
►
پس انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دے دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور اللہ نے اسے ملک اور حکمت عطا کئے اور اُسے جو چاہا اُس کی تعلیم دی۔ اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں بچانے کا سامان نہ کیا جاتا تو زمین ضرور فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ تمام جہانوں پربہت فضل کرنے والا ہے۔
پھر (وہ جنگ میں کود پڑے اور) انہوں نے اللہ کے ارادہ کے مطابق انہیں شکست (دے) دی۔ اور داٶد نے جالوت کو قتل کیا اور اللہ نے اسے حکومت اور حکمت بخشی اور جو کچھ اسے (یعنی اللہ کو) منظور تھا اس کا علم اسے (یعنی داٶد کو) عطا کیا۔ اور اگر اللہ انسانوں کو (شرارت سے) نہ ہٹائے رکھتا یعنی بعض (انسانوں) کو بعض کے ذریعہ سے (نہ روکتا) تو زمین تہ و بالا ہو جاتی۔ لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے (اس لئے اس فساد کو روک دیتا ہے)
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۬ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
(2۔ البقرة:256)
hifz taraweeh3 rakat3 tilawat
►
اللہ ! اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا (اور) قائم باِلذات ہے۔ اُسے نہ تو اُونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔ اُسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کون ہے جواس کے حضور شفاعت کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔ وہ جانتا ہے جو اُن کے سامنے ہے اور جو اُن کے پیچھے ہے۔ اور وہ اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتناوہ چاہے۔ اس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ اور وہ بہت بلند شان (اور) بڑی عظمت والاہے ۔
اللہ وہ (ذات) ہے جس کے سوا پرستش کا (اور) کوئی مستحق نہیں۔ کامل حیات والا (اپنی ذات میں) قائم (اور سب کو) قائم رکھنے والا۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند (کا وہ محتاج ہے) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں سفارش کرے۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ (سب ہی کچھ) جانتا ہے اور وہ اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو (بھی) پا نہیں سکتے۔ اس کا علم آسمانوں پر (بھی) اور زمین پر (بھی) حاوی ہے‘ اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ اور وہ بلند شان (رکھنے) والا (اور) عظمت والا ہے۔
لَاۤ اِکْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ۟ۙ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ٭ لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ
(2۔ البقرة:257)
kalam khamisas1 qatl murtad tilawat malaikatullah hifz taraweeh3 rakat3
►
دین میں کوئی جبر نہیں۔ یقیناہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہوچکی۔ پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔ اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں (کیونکہ) ہدایت اور گمراہی کا (باہمی) فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔ پس (سمجھ لو کہ) جو شخص (اپنی مرضی سے) نیکی سے روکنے والے (کی بات ماننے) سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے تو اس نے (ایک) نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو (کبھی) ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۬ؕ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـُٔهُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (ع)
(2۔ البقرة:258)
tilawat hifz taraweeh3 rakat3
►
اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے۔ وہ ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے دوست شیطان ہیں۔ وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔
اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست نیکی سے روکنے والے (لوگ) ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ لوگ آگ (میں پڑنے) والے ہیں۔ وہ اس میں رہیں گے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
(2۔ البقرة:262)
infaq arkan
►
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اُگاتا ہو۔ ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جسے چاہے (اس سے بھی) بہت بڑھا کر دیتا ہے۔ اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے اس فعل) کی حالت اس دانہ کی حالت کے مشابہ ہے جو سات بالیں اگائے (اور) ہر بالی میں سو دانہ ہو۔ اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے‘ (اس سے بھی) بڑھا (بڑھا کر) دیتا ہے اور اللہ وسعت دینے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰی ۙ کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ فَمَثَلُهٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَکَهٗ صَلْدًا ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّمَّا کَسَبُوْا ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
(2۔ البقرة:265)
tafseer khamisas1 paper
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا اذیت دے کر ضائع نہ کیا کرو۔ اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کی خاطر خرچ کرتا ہے اور نہ تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یومِ آخر پر۔ پس اس کی مثال ایک ایسی چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی (کی تہ) ہو۔ پھر اس پر موسلادھار بارش برسے تو اُسے چٹیل چھوڑ جائے۔ جو کچھ وہ کماتے ہیں اس میں سے کسی چیز پر وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
اے ایمان دارو! تم صدقات کو احسان جتانے اور تکلیف دینے (کے فعل) سے اس شخص کی طرح ضائع نہ کرلو جو لوگوں کے دکھانے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اس کی حالت تو اس پتھر کی حالت کے مشابہ ہے جس پر کچھ مٹی (پڑی ہوئی) ہو۔ اور اس پر تیز بارش ہو اور وہ اسے (دھو کر پھر) صاف پتھر (کا پتھر) کردے۔ یہ (ایسے لوگ ہیں کہ) جو کچھ کماتے ہیں اس کا کوئی حصہ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔ اور اللہ اس قسم کے کافروں کو (کامیابی کی) راہ نہیں دکھاتا۔
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللّٰهُ ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(2۔ البقرة:285)
hifz baqarah2 tilawat taraweeh3 rakat4
►
اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور خواہ تم اُسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اسے چھپاؤ، اللہ اس کے بارہ میں تمہارا محاسبہ کرے گا۔ پس جسے وہ چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
جو کچھ (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو یا اسے چھپائے رکھو‘ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر ایک چیز پر بڑا قادر ہے۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِکَتِهٖ وَ کُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۟ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ٭۫ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ
(2۔ البقرة:286)
hifz baqarah2 tilawat taraweeh3 rakat4
►
رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے ربّ کی طرف سے اس کی طرف اتارا گیا اور مومن بھی۔ (اُن میں سے) ہر ایک ایمان لے آیا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (یہ کہتے ہوئے کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ تیری بخشش کے طلبگارہیں۔ اے ہمارے ربّ! اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔
جو کچھ بھی اس رسول پر اس کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے‘ اس پر وہ (خود بھی) ایمان رکھتا ہے اور (دوسرے) مومن بھی (ایمان رکھتے ہیں) یہ سب (کے سب) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے ایک (دوسرے) کے درمیان (کوئی) فرق نہیں کرتے اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا ہے اور ہم اس کے دل سے فرمانبردار ہو چکے ہیں۔ (یہ لوگ دعائیں کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف (ہمیں) لوٹنا ہے۔
لَا یُکَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ؕ لَهَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اکْتَسَبَتْ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِهٖ ۚ وَ اعْفُ عَنَّا ٝ وَ اغْفِرْ لَنَا ٝ وَ ارْحَمْنَا ٝ اَنْتَ مَوْلٰٮنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (ع)
(2۔ البقرة:287)
hifz baqarah2 tilawat taraweeh3 rakat4
►
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے لئے ہے جو اس نے کمایا اور اس کا وبال بھی اسی پر ہے جو اس نے (بدی کا) اکتساب کیا۔ اے ہمارے ربّ! ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔ اور اے ہمارے ربّ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر(ان کے گناہوں کے نتیجہ میں) تُو نے ڈالا۔ اور اے ہمارے ربّ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم کر۔ تُو ہی ہمارا والی ہے۔ پس ہمیں کافر قوم کے مقابل پر نصرت عطا کر۔
اللہ کسی شخص پر سوائے اس (ذمہ داری) کے جو اس کی طاقت میں ہو کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ جو اس نے (اچھا) کام کیا ہو (وہ) اس کے لئے (نفع مند) ہوگا۔ اور جو اس نے (برا) کام کیا ہو (وہ) اسی پر (وبال ہو کر) پڑے گا (اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! اگر کبھی ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دیجیو۔ اے ہمارے رب! اور تو ہم پر (اس طرح) ذمہ داری نہ ڈالیو جس طرح تو نے ان لوگوں پر جو ہم سے پہلے (گذر چکے) ہیں ڈالی تھی۔ اے ہمارے رب! اور اسی طرح ہم سے (وہ بوجھ) نہ اٹھوا‘ جس (کے اٹھانے) کی ہمیں طاقت نہیں اور ہم سے درگذر کر۔ اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر (کیونکہ) تو ہمارا آقا ہے۔ پس کافروں کے گروہ کے خلاف ہماری مدد کر۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ
(3۔ آل عمران:8)
kalam khamisas2 tilawat1 aleimran
►
وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُسی میں سے محکم آیات بھی ہیں‘ وہ کتاب کی ماں ہیں۔ اور کچھ دوسری متشابہ (آیات) ہیں۔ پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اُس میں سے اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم مشابہ ہے حالانکہ اللہ کے سوا اور اُن کے سوا جو علم میں پختہ ہیں کوئی اُس کی تاویل نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، سب ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔ اور عقل مندوں کے سوا کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔
وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس کی بعض (آیتیں تو) محکم آیتیں ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور (ہیں جو) متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو فتنہ کی غرض سے اور اس (کتاب) کو (اس کی حقیقت سے) پھیر دینے کے لئے ان (آیات) کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو اس (کتاب) میں سے متشابہ ہیں۔ حالانکہ اس کی تفسیر کو سوائے اللہ کے اور علم میں کامل دستگاہ رکھنے والوں کے (کہ) جو کہتے ہیں (کہ) ہم اس (کلام) پر ایمان رکھتے ہیں (اور جو کہتے ہیں کہ یہ) سب ہمارے رب کی طرف سے ہی ہے کوئی نہیں جانتا اور عقل مندوں کے سوا کوئی بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
(3۔ آل عمران:9)
tilawat1 aleimran
►
اے ہمارے ربّ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہو۔ اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔ یقیناً تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔
اے ہمارے رب! تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت (کے سامان) عطا کر۔ یقیناً تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (ع)
(3۔ آل عمران:10)
tilawat1 aleimran
►
اے ہمارے ربّ! تُو یقیناً لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شک نہیں۔ یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
اے ہمارے رب! تو یقیناً سب لوگوں کو اس دن جس (کی آمد) میں کوئی شک (وشبہ) نہیں جمع کرے گا۔ اللہ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ ۟ وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ
(3۔ آل عمران:26)
tilawat2 aleimran taraweeh
►
پس کیا حال ہوگا ان کا جب ہم انہیں ایک ایسے دن کے لئے اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور وہ کوئی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔
جب ہم اس دن کہ جس (کی آمد) میں کوئی شک (وشبہ) نہیں انہیں جمع کریں گے تو ان کا کیا حال ہوگا اور ہر شخص نے جو کچھ کمایا ہوگا (اس دن) وہ اسے پورا پورا دے دیا جائے گا اور ان پر (کچھ بھی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الْخَیْرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(3۔ آل عمران:27)
tilawat2 aleimran taraweeh
►
تُو کہہ دے اے میرے اللہ! سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے فرمانروائی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے فرمانروائی چھین لیتا ہے۔ اور تُو جسے چاہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔ خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تُو ہر چیز پر جسے تُو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
تو کہہ اے اللہ جو سلطنت کا مالک ہے تو جسے چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت لے لیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے غلبہ بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ سب بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو یقیناً ہر ایک چیز پر قادر ہے۔
تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ ۫ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ۫ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ
(3۔ آل عمران:28)
tilawat2 aleimran taraweeh
►
تُو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تُو مُردہ سے زندہ نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ نکالتا ہے۔ اور تُو جسے چاہتا ہے بغیرحساب کے رزق عطا کرتا ہے۔
تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بے جان سے جان دار نکالتا ہے اور جان دار سے بے جان نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰٮۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰهِ الْمَصِیْرُ
(3۔ آل عمران:29)
tilawat2 aleimran
►
مومن، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ پکڑیں۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ سے بالکل کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ سوائے اس کے کہ تم ان سے پوری طرح محتاط رہو۔ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبردار کرتا ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔
مومن مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ صرف ان سے پوری طرح بچ کر رہنا تمہارے لئے جائز ہے اور (تم میں سے) جو شخص ایسا کرے اس کا اللہ سے کسی بات میں بھی (کوئی تعلق) نہ ہوگا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف (تمہیں) لوٹنا ہوگا۔
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(3۔ آل عمران:30)
tilawat2 aleimran
►
تُو کہہ دے خواہ تم اسے چھپاﺅ جو تمہارے سینوں میں ہے یا اسے ظاہر کرو اللہ اسے جان لے گا۔ اور وہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
تو (ان سے) کہہ دے (کہ) جو (کچھ) تمہارے سنیوں میں ہے اسے خواہ چھپاٶ یا اسے ظاہر کرو (بہرحال) اللہ اسے جان لے گا۔ اور جو کچھ (بھی) آسمانوں میں ہے وہ اسے اور جو کچھ زمین میں ہے اسے (بھی) جانتا ہے۔ اور اللہ ہر ایک چیز پر بڑا قادر ہے۔
یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ۚۖۛ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ ۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ (ع)
(3۔ آل عمران:31)
tilawat2 aleimran
►
جس دن ہر جان جو نیکی بھی اُس نے کی ہوگی اُسے اپنے سامنے حاضر پائے گی اور اُس بدی کو بھی جو اُس نے کی ہوگی۔ وہ تمنا کرے گی کہ کاش اس کے اور اس (بدی) کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا۔ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبردار کرتا ہے۔ حالانکہ اللہ بندوں سے بہت مہربانی سے پیش آنے والا ہے۔
(اس دن سے ڈرو) جس دن ہر شخص ہر نیکی کو جو اس نے کی ہوگی (اپنے) سامنے موجود پائے گا اور جو بدی اس نے کی ہوگی اسے بھی۔ وہ خواہش کرے گا کہ کاش اس (بدی) کے اور اس کے درمیان لمبا فاصلہ ہوتا۔ اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر شفقت کرنے والا ہے۔
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
(3۔ آل عمران:32)
khamisas1 tafseer filbadih tilawat2 aleimran
►
تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
تو کہہ کہ (اے لوگو) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو (اس صورت میں) وہ (بھی) تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ
(3۔ آل عمران:33)
tilawat2 aleimran
►
تُو کہہ دے اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی۔ پس اگر وہ پِھر جائیں تو یقیناً اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
تو کہہ (کہ) تم اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرو (اس پر) اگر وہ منہ پھیر لیں تو (یاد رکھو کہ) اللہ کافروں سے ہر گز محبت نہیں کرتا۔
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ ۚ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
(3۔ آل عمران:36)
hifz
►
جب عمران کی ایک عورت نے کہا اے میرے ربّ! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے یقیناً وہ میں نے تیری نذر کر دیا (دنیا کے جھمیلوں سے) آزاد کرتے ہوئے۔ پس تُو مجھ سے قبول کر لے۔ یقیناً تُو ہی بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
(یاد رکھو) جب (آل) عمران کی عورت نے کہا کہ اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے (اسے) آزاد کرکے میں نے تیری نذر کر دیا ہے۔ پس تو (اسے) میری طرف سے جس طرح ہو قبول فرما۔ یقیناً تو ہی بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
وَ رَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ۬ۙ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَهَیْـَٔۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَکُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَ اُبْرِیٴُ الْاَکْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ ۙ فِیْ بُیُوْتِکُمْ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۚ
(3۔ آل عمران:50)
kalam amad masih all
►
اور وہ رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف (یہ پیغام دیتے ہوئے) کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشان لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی طرز پر پیدا کروں گا۔ پھر میں اس میں پھونکوں گا تو (معاً) وہ اللہ کے حکم سے پرندہ (یعنی طیرِروحانی) بن جائے گا۔ اور میں پیدائشی اندھے اور مبروص کو شفا بخشوں گا۔ اور میں اللہ کے حکم سے (روحانی) مُردوں کو زندہ کروں گا۔ اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کھاؤ گے اور اپنے گھروں میں کیا جمع کرو گے۔ یقیناً اس میں تمہارے لئے ایک بڑا نشان ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔
اور بنی اسرائیل کی طرف رسول (بنا کر اسے اس پیغام کے ساتھ بھیجے گا) کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشان لے کر آیا ہوں (اور وہ یہ ہے) کہ میں تمہارے (فائدہ کے)بعض طینی خصلت رکھنے والوں سے پرندہ( کے پیداکرنے )کی طرح(مخلوق) پیدا کروں گا۔ پھر میں ان میں ایک نئی روح پھونکوں گا۔ جس پر وہ اللہ کے حکم کے ماتحت اڑنے والے ہو جائیں گے اور میں اللہ کے حکم کے ماتحت اندھے کو اور مبروص کو اچھا کروں گا اور مردوں کو زندہ کروں گا اور جو کچھ تم کھاٶ گے اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرو گے اس کی تمہیں خبر دوں گا (اور) اگر تم مومن ہو تو اس میں تمہارے لئے ایک نشان ہوگا۔
اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْۤا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ
(3۔ آل عمران:56)
kalam all hifz wafat masih shahid
►
جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے، اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالادست کرنے والا ہوں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
(اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا۔ اے عیسیٰ! میں تجھے (طبعی طور پر) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور عزت بخشوں گا اور کافروں (کے الزامات) سے تجھے پاک کروں گا اور جو تیرے پیرو ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں لوٹنا ہوگا۔ تب میں ان باتوں میں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ
(3۔ آل عمران:57)
all hifz
►
پس جہانتک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے کفر کیا تو اُن کو میں اِس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شدید عذاب دوں گا اور ان کے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔
پس جو لوگ کافر ہیں انہیں میں اس دنیا (میں بھی) اور آخرت میں (بھی) سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
(3۔ آل عمران:58)
all hifz
►
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے تو اُن کو وہ اُن کے بھرپور اَجر دے گا۔ اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
اور جو لوگ مومن ہیں اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کیے ہیں وہ انہیں ان (کے اعمال) کا اجر پورا (پورا) دے گا۔ اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
ذٰلِکَ نَتْلُوْهُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّکْرِ الْحَکِیْمِ
(3۔ آل عمران:59)
all hifz
►
یہ ہے وہ جسے ہم آیات اور حکمت والے ذکر میں سے تیرے سامنے پڑھتے ہیں۔
اس کو یعنی آیات اور حکمت والی تعلیم کو ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں۔
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ کُنْ فَیَکُوْنُ
(3۔ آل عمران:60)
kalam all hifz ulohiyat masih muwazna shahid
►
یقیناً عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی سی ہے۔ اسے اس نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ”ہو جا “ تو وہ ہونے لگا (اورہو کر رہا)۔
(یاد رکھو) عیسیٰ کا حال اللہ کے نزدیک یقیناً آدم کے حال کی طرح ہے اسے (یعنی آدم کو) اس نے خشک مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس کے متعلق کہا کہ تو وجود میں آجا تو وہ وجود میں آنے لگا۔
اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ
(3۔ آل عمران:61)
all hifz
►
(یہ یقیناً) حق ہے تیرے ربّ کی طرف سے۔ پس تُو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اس لئے تو شک کرنے والوں میں سے نہ بن۔
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ
(3۔ آل عمران:62)
kalam all hifz mubahila shiaism viva
►
پس جو تجھ سے اس بارے میں اس کے بعد بھی جھگڑا کرے کہ تیرے پاس علم آ چکا ہے تو کہہ دے: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے نفوس کو اور تمہارے نفوس کو بھی۔ پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
اب جو (شخص) تیرے پاس علم (الٰہی) کے آچکنے کے بعد تجھ سے اس کے متعلق بحث کرے تو تو (اسے) کہہ دے (کہ) آٶ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو‘ اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو‘ اور ہم اپنے نفوس کو اور تم اپنے نفوس کو‘ پھر گڑ گڑا کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
(3۔ آل عمران:63)
all hifz
►
یقیناً یہی سچا بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اور یقیناً اللہ ہی ہے جو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔
یقیناً یہی سچا بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی (بھی) پرستش کا مستحق نہیں اور یقیناً اللہ ہی غالب (اور) حکمت والا ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ (ع)
(3۔ آل عمران:64)
all hifz
►
پس اگر وہ پھر جائیں تو یقیناً (جان لو کہ) اللہ مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔
پھر اگر وہ پھر جائیں تو (یاد رکھیں کہ) اللہ مفسدوں کو یقیناً خوب جانتاہے۔
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِکَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ
(3۔ آل عمران:65)
kalam hifz shiaism peace islam ibtida khamisas2
►
تُو کہہ دے اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اُس کا شریک ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا ربّ نہیں بنائے گا۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ یقینا ہم مسلمان ہیں۔
تو کہہ (کہ) اے اہل کتاب (کم سے کم) ایک ایسی بات کی طرف تو آجاٶ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنایا کریں۔ پھر اگر وہ پھر جائیں تو ان سے کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں۔
وَ قَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اکْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ۚۖ
(3۔ آل عمران:73)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
اور اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اس پر جو مومنوں پر اتارا گیا ہے دن کے پہلے حصّہ میں ایمان لے آؤ اور اس کے آخر پر انکار کردو شاید کہ وہ رجوع کرجائیں۔
اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مومنوں پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے ابتدائی حصہ میں تو ایمان لے آٶ اور اس کے پچھلے حصہ میں (اس سے) انکار کردو۔ شاید (اس ذریعہ سے) وہ پھر جائیں۔
وَ مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْکَ ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْکَ اِلَّا مَادُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ الْکَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ
(3۔ آل عمران:76)
all ahmadiyya blasphemy
►
اور اہلِ کتاب میں سے وہ بھی ہے کہ اگر تُو ڈھیروں ڈھیر امانت بھی اس کے پاس رکھوا دے تو وہ ضرور تجھے واپس کر دے گا۔ اور اُن میں ایسا بھی ہے کہ اگر تُو اس کو ایک دینار بھی دے تو وہ اسے تجھے واپس نہیں کرے گا سوائے اس کے کہ تُو اُس پر نگران کھڑا رہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر اُمیوں کے بارہ میں کوئی (الزام کی) راہ نہیں۔ اور وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں جبکہ وہ (اس بات کو) جانتے ہیں۔
اور اہل کتاب میں سے (کوئی تو) ایسا ہے کہ اگر تو اسے (مال کا) ایک ڈھیر امانت کے طور پر دے دے تو وہ اسے تجھے واپس کر دے گا اور (کوئی) ان میں سے (ایسا) ہے کہ اگر تو اسے ایک دینار امانت کے طور پر دے تو وہ وہ (بھی) تجھے واپس نہ دے گا۔ سوائے اس کے کہ تو اس (کے سر) پر کھڑا رہے۔ یہ (بات) اس سبب سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر امیوں کے بارہ میں کوئی گرفت نہیں اور وہ اللہ پر جانتے (بوجھتے) ہوئے جھوٹ باندھتے ہیں۔
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
(3۔ آل عمران:86)
kalam khamisas1 qatl murtad all
►
اور جو بھی اسلام کے سوا کوئی دین پسند کرے تو ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا۔
اور جو شخص اسلام کے سوا کسی (اور) دین کو (اختیار کرنا) چاہے تو (وہ یاد رکھے کہ) وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
کَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
(3۔ آل عمران:87)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
بھلا کیسے اللہ ایسی قوم کو ہدایت دے گا جو اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہوں اور وہ گواہی دے چکے ہوں کہ یہ رسول حق ہے، اور ان کے پاس کھلے کھلے دلائل آ چکے ہوں ۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
جو لوگ ایمان لانے کے بعد (پھر) منکر ہو گئے ہوں اور شہادت دے چکے ہوں کہ (یہ) رسول سچا ہے اور (نیز) ان کے پاس دلائل بھی آچکے ہوں انہیں اللہ کس طرح ہدایت پر لائے اور اللہ (تو) ظالم (لوگوں) کو ہدایت نہیں دیتا۔
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَۃَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۙ
(3۔ آل عمران:88)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
یہی وہ لوگ ہیں جن کی جزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی۔
یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں (کی) اور لوگوں (کی) سب ہی کی لعنت ہو۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ۙ
(3۔ آل عمران:89)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔ ان سے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ وہ کوئی مہلت دئے جائیں گے۔
وہ اس (لعنت) میں رہیں گے‘ نہ (تو) ان (پر) سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوْا ۟ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
(3۔ آل عمران:90)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
سوائے ان کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوائے ان لوگوں کے کہ جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں۔ اور اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ
(3۔ آل عمران:91)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے گئے، ان کی توبہ ہرگزقبول نہ کی جائے گی۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو گمراہ ہیں۔
جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے ہوں پھر وہ کفر میں اور بھی بڑھ گئے ہوں ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی۔ اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (ع)
(3۔ آل عمران:92)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے جبکہ وہ کافر تھے ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اُسے بطور فدیہ دینا چاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ اور ان کے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔
جو لوگ منکر ہو گئے ہوں اور کفر (ہی) کی حالت میں مر گئے ہوں‘ ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا (بھی) جسے وہ فدیہ کے طور پر پیش کرے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے اور ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۬ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ
(3۔ آل عمران:93)
kalam khamisas1 qatl murtad all infaq
►
تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔ اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقیناً اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے (خدا کے لئے) خرچ نہ کرو۔ اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ اسے یقیناً خوب جانتا ہے۔
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ هُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ۚ
(3۔ آل عمران:97)
masjid insaniyat hidayat
►
یقیناً پہلا گھر جو بنی نوع انسان (کے فائدے) کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو بَکَّہ میں ہے۔ (وہ) مبارک اور باعثِ ہدایت بنایا گیا تمام جہانوں کے لئے۔
سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے (فائدہ کے) لئے بنایا گیا تھا وہ ہے جو مکہ میں ہے وہ تمام جہانوں کے لئے برکت والا (مقام) اور (موجب) ہدایت ہے۔
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا ۪ وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا ۚ وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْهَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ
(3۔ آل عمران:104)
all ikhtilaf naiki badi taraweeh
►
اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر (کھڑے) تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔
اور تم سب (کے سب) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پراگندہ مت ہو اور اللہ کا احسان جو (اس نے) تم پر (کیا) ہے یاد کرو کہ جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارہ پر تھے مگر اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تا کہ تم ہدایت پاٶ۔
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(3۔ آل عمران:105)
all waqf naiki momin taraweeh
►
اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور نیک باتوں کی تعلیم دے اور بدی سے روکے اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّهُمْ ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(3۔ آل عمران:111)
all sahaba fazail naiki ummat nabisaw
►
تم بہترین امّت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔ ان میں مومن بھی ہیں مگر اکثر ان میں سے فاسق لوگ ہیں۔
تم (سب سے) بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے (فائدہ کے) لئے پیدا کیا گیا ہے۔ تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ ان میں سے بعض مومن بھی ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں۔
وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِکُمْ ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰکِرِیْنَ
(3۔ آل عمران:145)
kalam
►
اور محمدنہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقینا شکرگزاروں کو جزا دے گا۔
اور محمد صرف ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ پس اگر وہ وفات پا جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاٶ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکتا۔ اور اللہ شکر گذاروں کو ضرور بدلہ دے گا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ
(3۔ آل عمران:150)
kalam khamisas1 qatl murtad all
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم نے ان لوگوں کی اطاعت کی جو کافر ہوئے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بَل لوٹا دیں گے۔ پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے لوٹو گے۔
اے ایماندارو! اگر تم ان لوگوں کی فرمانبرداری کرو گے جو کافر ہیں تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل لوٹادیں گے جس کی وجہ سے تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاٶ گے۔
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَکُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا ۚ وَ مَاْوٰٮهُمُ النَّارُ ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ
(3۔ آل عمران:152)
kalam khamisas1 malaikatullah kaam paper
►
ہم ضرور ان لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس کو جس کے بارے میں اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی۔ اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
جو لوگ منکر ہیں ہم ان کے دلوں میں اس سبب سے کہ انہوں نے اس چیز کو اللہ کا شریک قرار دیا ہے جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری یقیناً رعب ڈال دیں گے اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کا ٹھکانا کیا ہی برا ہے۔
ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآئِفَۃً مِّنْکُمْ ۙ وَ طَآئِفَۃٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّۃِ ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّهٗ لِلّٰهِ ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَکَ ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا ؕ قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِهِمْ ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
(3۔ آل عمران:155)
taqdeer allah khamisas1 kalam paper
►
پھر اُس نے تم پر غم کے بعد تسکین بخشنے کی خاطر اونگھ اُتاری جو تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ رہی تھی۔ جبکہ ایک وہ گروہ تھا کہ جنہیں ان کی جانوں نے فکر مند کر رکھا تھا وہ اللہ کے بارہ میں جاہلیت کے گمانوں کی طرح ناحق گمان کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کیا اَہم فیصلوں میں ہمارا بھی کوئی عمل دخل ہے؟ تُو کہہ دے کہ یقیناً فیصلے کا اختیار کلیتہً اللہ ہی کو ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو تجھ پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں اگر ہمیں ذرا بھی فیصلے کا اختیار ہوتا تو ہم کبھی یہاں (اس طرح) قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو تم میں سے وہ جن کا قتل ہونا مقدر ہو چکا ہوتا، ضرور اپنے (پچھاڑ کھا کر) گرنے کی جگہوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے۔ اور (یہ اس لئے ہے) تاکہ اللہ اسے کھنگالے جو تمہارے سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔ اور تا کہ اسے خوب نتھار دے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔
پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر جمعیت خاطر (کی حالت) یعنی نیند نازل کی جو تم میں ایک گروہ پر طاری ہو رہی تھی اور ایک گروہ ایسا تھا کہ انہیں ان کی جانوں نے فکر مند کر رکھا تھا۔ وہ اللہ کی نسبت جاہلیت کے گمانوں کی طرح جھوٹے گمان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ کیا حکومت میں ہمارا بھی کچھ (دخل) ہے تو کہہ دے (کہ) حکومت ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے وہ (منافق) اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں جسے وہ تجھ پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا (بھی) حکومت میں کچھ دخل ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ تو کہہ دے (کہ) اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) رہتے تو بھی جن لوگوں پر لڑائی فرض کی گئی ہے وہ اپنے (قتل ہو کر) لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل کھڑے ہوتے (تا کہ اللہ اپنے حکم کو پورا کرے) اور تا کہ جو تمہارے سینوں میں ہے اللہ اس کا امتحان کرے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے (پاک و) صاف کرے اور اللہ سینوں کی باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۚۙ
(3۔ آل عمران:191)
kalam khamisas1 prove allah tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat5
►
یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحبِ عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقل مندوں کے لئے یقیناً کئی نشان (موجود) ہیں۔
الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(3۔ آل عمران:192)
tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat5
►
وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ (اور بے ساختہ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
(وہ عقل مند) جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوٶں پر اللہ کو یاد کرتے (رہتے) ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارے میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) اے ہمارے رب تو نے اس (عالم) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو (ایسے بے مقصد کام کرنے سے) پاک ہے۔ پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا (اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے) ۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
(3۔ آل عمران:193)
tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat5
►
اے ہمارے ربّ! جسے تُو آگ میں داخل کردے تو یقیناً اُسے تُو نے ذلیل کر دیا۔ اور ظالموں کے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔
اے ہمارے رب! جسے تو آگ میں داخل کرے گا اسے تو تو نے یقیناً ذلیل کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی (بھی) مددگار نہیں ہوگا۔
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ کَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۚ
(3۔ آل عمران:194)
tilawat3 aleimran shahid kalam imkan nabuwat taraweeh3 rakat5
►
اے ہمارے ربّ! یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سُنا جو ایمان کی منادی کر رہا تھا کہ اپنے ربّ پر ایمان لے آؤ۔ پس ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے ربّ! پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔
اے ہمارے رب! ہم نے یقیناً ایک ایسے پکارنے والے کی آواز جو ایمان (دینے) کے لئے بلاتا ہے (اور کہتا ہے) کہ اپنے رب پر ایمان لاٶ سنی ہے پس ہم ایمان لے آئے اس لئے اے ہمارے رب! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹادے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ (ملا کر) وفات دے۔
رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ
(3۔ آل عمران:195)
tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat5
►
اے ہمارے ربّ! اور ہمیں وہ وعدہ عطا کر دے جو تُو نے اپنے رسولوں پر ہمارے حق میں فرض کردیا تھا (یعنی میثاق النبییّن)۔ اور ہمیں قیامت کے دن رُسوا نہ کرنا۔ یقیناً تُو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
(اور) اے ہمارے رب! ہمیں وہ (کچھ) دے جس کا تو نے اپنے رسولوں (کی زبان) پر ہم سے وعدہ کیا ہے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل نہ کرنا۔ تو اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی ۚ بَعْضُکُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ
(3۔ آل عمران:196)
kalam khamisas1 qatl murtad tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat6
►
پس اُن کے ربّ نے اُن کی دعا قبول کرلی (اور کہا) کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ہرگز ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مَرد ہو یا عورت۔ تم میں سے بعض، بعض سے نسبت رکھتے ہیں۔ پس وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں دُکھ دئیے گئے اور انہوں نے قتال کیا اور وہ قتل کئے گئے، میں ضرور ان سے ان کی بدیاں دور کر دوں گا اور ضرور انہیں داخل کروں گا ایسی جنتوں میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ (یہ) اللہ کی جناب سے ثواب کے طور پر (ہے) اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔
چنانچہ ان کے رب نے (یہ کہتے ہوئے) ان کی (دعا) سن لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کروں گا۔ تم ایک دوسرے سے (تعلق رکھنے والے) ہو پس جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکلیف دی گئی اور انہوں نے جنگ کی اور مارے گئے میں ان کی بدیوں (کے اثر) کو ان (کے جسم) سے یقیناً مٹاٶوں گا اور میں انہیں یقیناً ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (یہ انعام) اللہ کی طرف سے بدلہ کے طور پر ملے گا۔ اور اللہ تو وہ ہے جس کے پاس بہترین جزا ہے۔
لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ؕ
(3۔ آل عمران:197)
tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat6
►
تجھے ہرگز دھوکہ نہ دے اُن لوگوں کا بستیوں میں آنا جانا جنہوں نے کفر کیا۔
جو لوگ کافر ہیں ان کا ملک میں آزادی سے پھرنا تجھے ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے۔
مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ۟ ثُمَّ مَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ
(3۔ آل عمران:198)
tilawat3 aleimran taraweeh3 rakat6
►
تھوڑا سا عارضی فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
یہ عارضی نفع ہے جس کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم (میں) ہوگا۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ
(3۔ آل عمران:199)
kalam khamisas1 hayat akhrat tilawat3 aleimran taraweeh
►
لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لئے جنّتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں۔ (یہ) اللہ کی طرف سے ان کی مہمانی کے طور پر (ہوگا) اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔
لیکن جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ہے ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں رہتے چلے جائیں گے (یہ) اللہ کی طرف سے مہمانداری کے طور پر ہوگا اور جو (کچھ) اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے اور بھی اچھا ہے۔
وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
(3۔ آل عمران:200)
tilawat3 aleimran taraweeh
►
اور یقیناً اہل کتاب میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور جو اُن کی طرف اتارا گیا تھا اللہ کے حضور عاجزانہ جھکتے ہوئے۔ وہ اللہ کی آیات معمولی قیمت کے بدلے نہیں بیچتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے اُن کا اَجر اُن کے ربّ کے پاس ہے۔ یقیناً اللہ حساب (لینے) میں بہت تیز ہے۔
اور اہل کتاب میں سے بعض لوگ یقیناً ایسے (بھی) ہیں جو اللہ (پر) اور جو (کچھ) تم پر اتارا گیا ہے (اس پر) اور جو (کچھ) ان پر اتارا گیا (اس پر) ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی (وہ) اللہ کے آگے فردتنی (بھی) اختیار کرنے والے ہیں (اور) اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑا مول نہیں لیتے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن (کے اعمال) کا بدلہ ان کے رب کے پاس ان کے لئے (محفوظ) ہے۔ اللہ یقیناً جلد حساب کرنے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (ع)
(3۔ آل عمران:201)
tilawat3 aleimran taraweeh
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو اور سرحدوں کی حفاظت پر مستعد رہو۔ اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اے ایمان دارو! صبر سے کام لو اور (دشمن سے بڑھ کر) صبر دکھاٶ اور سرحدوں کی نگرانی رکھو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاٶ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(4۔ النساء:1)
khutba nikah khamisas2 fiqh
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لیکر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا
(4۔ النساء:2)
khutba nikah khamisas2 fiqh
►
اے لوگو! اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں میں سے مَردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلا دیا۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے نام کے واسطے دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رِحموں (کے تقاضوں) کا بھی خیال رکھو۔ یقیناً اللہ تم پر نگران ہے۔
اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک (ہی) جان سے پیدا کیا۔ اور اس (کی جنس) سے (ہی) اس کا جوڑا پیدا کیا۔ اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں (پیدا کرکے دنیا میں) پھیلائے اور اللہ کا تقویٰ (اس لئے بھی) اختیار کرو کہ اس کے ذریعہ سے تم آپس میں سوال کرتے ہو۔ اور خصوصاً رشتہ داریوں (کے معاملہ) میں (تقویٰ سے کام لو) اللہ تم پر یقیناً نگران ہے۔
وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٰۤی اَلَّا تَعُوْلُوْا ؕ
(4۔ النساء:4)
shiaism rabias1 kalam khamisas2 fiqh
►
اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامیٰ کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔ دو دو اور تین تین اور چار چار۔ لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک (کافی ہے) یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔ یہ (طریق) قریب تر ہے کہ تم ناانصافی سے بچو۔
اور اگر تمہیں (یہ) خوف ہو کہ تم یتیموں (کے بارہ) میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو (صورت) تمہیں پسند ہو (کرلو‘ یعنی) (غیر یتیم) عورتوں میں سے دو دو (سے) اور تین تین (سے) اور چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں (یہ) خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی (عورت) سے یا ان (لونڈیوں) سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں نکاح کرو یہ (طریق اس بات کے) بہت قریب ہے کہ تم ظالم نہ ہو جاٶ۔
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَۃً ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَکُلُوْهُ هَنِیْٓــًٔا مَّرِیْٓــًٔا
(4۔ النساء:5)
khamisas2 fiqh
►
اور عورتوں کو ان کے مہر دِلی خوشی سے ادا کرو۔ پھر اگر وہ اپنی دِلی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں دینے پر راضی ہوں تو اُسے بلا تردّد شوق سے کھاؤ۔
اور عورتوں کو ان کے مہر دلی خوشی سے ادا کرو۔ پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے اس میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو یہ جانتے ہوئے کہ وہ تمہارے لئے مزے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے تم اسے بے شک کھاٶ۔
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
(4۔ النساء:9)
khamisas2 fiqh warasat
►
اور جب (ترکہ کی) تقسیم پر (ایسے) اقرباء(جن کو قواعد کے مطابق حصہ نہیں پہنچتا) اور یتیم اور مسکین بھی آجائیں تو کچھ اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور ان سے اچھی بات کہا کرو۔
اور جب (ترکہ کی) تقسیم کے وقت (دوسرے) قرابت دار اور یتیم اور مسکین (بھی) آجائیں تو اس میں سے کچھ انہیں (بھی) دے دو۔ اور انہیں مناسب (اور عمدہ) باتیں کہو۔
یُوْصِیْکُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ۚ فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَهَا النِّصْفُ ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنْ کَانَ لَهٗۤ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ؕ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
(4۔ النساء:12)
khamisas2 fiqh warasat
►
اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔ مرد کے لئے دو عورتوں کے حصّہ کے برابر (حصہ) ہے۔ اور اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں ہوں تو ان کے لئے دو تہائی ہے اُس میں سے جو اُس (مرنے والے) نے چھوڑا۔ اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے نصف ہے۔ اور اس (میّت) کے والدین کے لئے اُن میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ ہے اگر وہ صاحب اولاد ہو۔ اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین نے اس کا ورثہ پایا ہو تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے اور اگر اس (میّت) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہوگا، وصیت کی ادائیگی کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض چُکانے کے بعد۔ تمہارے آباءاور تمہاری اولاد، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع پہنچانے میں تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) حکمت والا ہے۔
اللہ تمہاری اولاد کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے (کہ) (ایک) مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے اور اگر (اولاد) عورتیں (ہی عورتیں) ہوں جو دو سے اوپر ہوں تو ان کے لئے (بھی) جو کچھ اس (مرنے والے) نے چھوڑا ہو (اس کا) دو تہائی مقرر ہے اور اگر ایک (ہی عورت) ہو تو اس کے لئے (ترکہ کا) آدھا ہے اور اگر اس (مرنے والے) کے اولاد ہو تو اس کے ماں باپ کے لئے (یعنی) ان میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ (مقرر) ہے اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ (ہی) اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ (مقرر) ہے لیکن اگر اس کے بھائی (بہن موجود) ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ (مقرر) ہے (یہ سب حصے) اس کی وصیت اور (اس کے) قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ادا ہوں گے) تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ (دادوں) اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے زیادہ نفع رساں ہے۔ (یہ) اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
وَ لَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ کَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ وَ اِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنْ کَانُوْۤا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَهُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ ؕ
(4۔ النساء:13)
khamisas2 fiqh warasat
►
اور تمہارے لئے اُس میں سے نصف ہوگا جو تمہاری بیویوں نے ترکہ چھوڑا اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پس اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے چوتھا حصہ ہوگا اس میں سے جو اُنہوں نے چھوڑا، وصیت کی ادائیگی کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض چکانے کے بعد۔ اور ان کے لئے چوتھا حصہ ہوگا اس میں سے جو تم نے چھوڑا اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اُن (بیویوں) کا آٹھواں حصہ ہو گا اس میں سے جو تم نے چھوڑا، وصیت کی ادائیگی کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض چکانے کے بعد۔ اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ورثہ تقسیم کیا جا رہا ہو جو کلالہ ہو (یعنی نہ اس کے ماں باپ ہوں نہ اولاد) لیکن اس کا بھائی یا بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہوگا۔ اور اگر وہ (یعنی بہن بھائی) اِس سے زیادہ ہوں تو پھر وہ سب تیسرے حصے میں شریک ہوں گے وصیت کی ادائیگی کے بعد جو کی گئی ہو یا قرض چکانے کے بعد۔ بغیر اس کے کہ کوئی تکلیف میں مبتلا کیا جائے۔ وصیت ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) بڑا بُردبار ہے۔
اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ جائیں اگر ان کے اولاد نہ ہو تو ان (کے ترکہ) کا آدھا (حصہ) تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد (موجود) ہو تو جو کچھ انہوں نے چھوڑا ہو اس کا چوتھا (حصہ) تمہارا ہے (یہ حصے) وصیت اور (ان کے) قرض (کی ادائیگی) کے بعد (بچے ہوئے مال میں سے ہوں گے) اور اگر تمہارے ہاں اولاد نہ ہو تو جو کچھ تم چھوڑ جاٶ اس میں سے چوتھا (حصہ) ان (بیویوں) کا ہے۔ اور اگر تمہارے ہاں اولاد ہو تو جو کچھ تم چھوڑ جاٶ اس میں سے آٹھواں (حصہ) ان کا ہے (یہ حصے) وصیت اور (تمہارے) قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے) اور جس مرد یا عورت کا ورثہ تقسیم کیا جاتا ہے اگر اس کا نہ باپ ہو نہ اولاد اور اس کا کوئی بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا (حصہ) ہوگا اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ (سب) تیسرے (حصے) میں شریک ہوں گے (یہ حصے) وصیت اور (مرنے والے کے) قرض (کی ادائیگی) کے بعد (بچے ہوئے مال کے لحاظ سے ہوں گے) (اس تقسیم میں) کسی کو ضرر پہنچانا مقصود نہیںہونا چاہیے (اور یہ) اللہ کی طرف سے (تمہیں) حکم (دیا جاتا) ہے اور اللہ خوب جاننے والا (اور) بردبار ہے۔
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْهُمَا ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
(4۔ النساء:17)
homosexuality kalam
►
اور تم میں سے وہ دو مرد جو اس (بے حیائی) کے مرتکب ہوئے ہوں انہیں (بدنی) سزا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے اِعراض کرو۔ یقیناً اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اور تم میں سے جو دو مرد ناپسندیدہ فعل کے قریب جائیں تو تم انہیں دکھ پہنچاٶ پھر اگر وہ دونوں توبہ کرلیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے چشم پوشی کرو۔ اللہ یقیناً بہت ہی توبہ قبول کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّهٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ مَقْتًا ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا (ع)
(4۔ النساء:23)
khamisas2 fiqh
►
اور عورتوں میں سے اُن سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباءنکاح کر چکے ہوں سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا۔ یقیناً یہ بڑی بے حیائی اور بہت قابلِ نفرین ہے۔ اور بہت ہی بُرا رستہ ہے۔
اور ان عورتوں میں سے جنہیں تمہارے باپ دادے نکاح میں لا چکے ہوں کسی سے نکاح نہ کرو مگر جو (پہلے) گذر گیا (سو گذر گیا) یہ (فعل) یقیناً گندہ اور غصہ دلانے والا تھا اور (یہ) بہت بری رسم تھی۔
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ وَ خٰلٰتُکُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُکُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِکُمْ وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۫ فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ۫ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۙ
(4۔ النساء:24)
khamisas2 fiqh
►
تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور جن بیویوں سے تم ازدواجی تعلقات قائم کر چکے ہو ان کی وہ پِچھلگ بیٹیاں بھی تم پر حرام ہیں جو تمہارے گھر میں پلی ہوں۔ ہاں اگر تم ان (یعنی بیویوں) سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کر چکے ہو تو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں۔ نیز تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی جو تمہاری پشت سے ہوں۔ نیز یہ بھی (تم پر حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو (اپنے نکاح میں) اکٹھا کرو سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور (تمہاری) بھتیجیاں اور (تمہاری) بھانجیاں اور تمہاری (رضاعی) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری ساسیں اور تمہاری وہ سوتیلی لڑکیاں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم خلوت کر چکے ہو اور وہ تمہارے گھروں میں پلتی ہوں تم پر حرام کی گئی ہیں۔ لیکن اگر تم نے ان (بیویوں) سے خلوت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں‘ اور (اسی طرح) تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہوں (تم پر حرام ہیں) اور یہ (بھی) کہ تم دو بہنوں کو (اپنے نکاح میں) جمع کرو۔ ہاں جو گذر گیا (سو گذر گیا) اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ۚ کِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ ۚ وَ اُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
(4۔ النساء:25)
khamisas2 fiqh warasat
►
اور عورتوں میں سے وہ (بھی تم پر حرام ہیں) جن کے خاوند موجود ہوں سوائے ان کے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوں۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر فریضہ ہے۔ اور تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے جو اس کے علاوہ ہے کہ تم (انہیں) اپنانا چاہو، اپنے اموال کے ذریعہ اپنے کردار کی حفاظت کرتے ہوئے نہ کہ بے حیائی اختیار کرتے ہوئے۔ پس اُن کو اُن کے مہر فریضہ کے طور پر دو اس بنا پر کہ جو تم اُن سے استفادہ کر چکے ہو۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو تم مہر مقرر ہونے کے بعد (کسی تبدیلی پر) باہم رضامند ہو جاؤ۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
اور (پہلے سے) منکوحہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) باستثنا ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں آجائیں۔ یہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہے اور جو ان (اوپر کی بیان کردہ عورتوں) کے سوا ہوں وہ تمہارے لئے (بعد نکاح) حلال ہیں (یعنی اس طرح سے) کہ تم اپنے مالوں کے ذریعہ (انہیں) طلب کرو بشرطیکہ تم شادی کرنے والے ہو زنا کرنے والے نہ ہو۔ پھر (یہ شرط بھی ہے کہ) اگر تم نے ان سے نفع اٹھایا ہو تو تم انہیں ان کے مہر بہ مقدار موعود ادا کرو۔ اور (مہر) مقرر ہو جانے کے بعد جس (کمی بیشی) پر تم باہم راضی ہو جاٶ اس کے متعلق تمہیں کوئی گناہ نہ ہوگا اللہ یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ ۟ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَکُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا
(4۔ النساء:30)
all qatl selbst
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اموال آپس میں ناجائز طریق پر نہ کھایا کرو۔ ہاں اگر وہ ایسی تجارت ہو جو تمہاری باہمی رضامندی سے ہو۔ اور تم اپنے آپ کو (اقتصادی طور پر) قتل نہ کرو۔ یقینا اللہ تم پر باربار رحم کرنے والا ہے۔
اے ایماندارو! تم آپس میں ناجائز طور پر اپنے مال نہ کھاٶ۔ ہاں یہ جائز ہے کہ (مال کا حصول) آپس کی رضا کے ساتھ تجارت کے ذریعہ سے ہو۔ اور تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اللہ یقیناً تم پر باربار رحم کرنے والا ہے۔
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ ۚ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا
(4۔ النساء:35)
mard huquq all aurat ziadti
►
مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔ اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو (پہلے تو) نصیحت کرو،پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر (عند الضرورت) انہیں بدنی سزا بھی دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو۔ یقیناً اللہ بہت بلند (اور) بہت بڑا ہے۔
مرد عورتوں پراس فضیلت کے سبب سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو دوسروں پر دی ہے اوراس سبب سے کہ وہ اپنے مالوں میں سے (عورتوںپر) خرچ کر چکے ہیں نگران (قرار دیئے گئے) ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبرداراوراللہ کی مدد سے پوشیدہ امورکی محافظ ہوتی ہیں اورجن کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو (تم) انہیں نصیحت کرواورانہیں خواب گاہوں میں اکیلا چھوڑ دواورانہیں مارو۔ پھراگروہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ تلاش کرو۔ اللہ یقیناً بہت بلند (اور) بڑا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ وَ مَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا
(4۔ النساء:39)
kalam malaikatullah khamisas1 paper
►
اور وہ لوگ جو اپنے اموال لوگوں کے سامنے دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ یومِ آخر پر۔ اور وہ جس کا شیطان ساتھی ہو تو وہ بہت ہی برا ساتھی ہے۔
اور جو لوگ اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ پیچھے آنے والے دن پر (ان کا انجام برا ہوگا) اور جس (شخص) کا شیطان ساتھی ہو (وہ یاد رکھے کہ) وہ بہت برا ساتھی ہے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ؕ
(4۔ النساء:70)
kalam khatam nabuwat imkan khamisas2 shahid
►
اور جو بھی اللہ کی اور اِس رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے (یعنی) نبیوں میں سے، صدیقوں میں سے، شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے۔ اور یہ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔
اور جو (لوگ بھی) اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین (میں) اور یہ لوگ (بہت ہی) اچھے رفیق ہیں۔
اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِکَ ؕ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا
(4۔ النساء:79)
taqdeer allah khamisas1 kalam taraweeh
►
تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ لے گی خواہ تم سخت مضبوط بنائے ہوئے بُرجوں میں ہی ہو۔ اور اگر انہیں کوئی حَسَنہ پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی بُرائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں(اے محمد!) یہ تیری طرف سے ہے۔ تُو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ پس ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے قریب تک نہیں پھٹکتے۔
تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی کیوں نہ) ہو اور اگر انہیں (یعنی مذکورہ بالا لوگوں کو) کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ تو کہہ دے (کہ) سب (کچھ) اللہ (ہی) کی طرف سے ہے پس ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے سمجھنے کے قریب (تک) نہیں جاتے۔
مَاۤ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ؕ وَ اَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًا
(4۔ النساء:80)
allah problems naiki badi taqdeer khamisas1 kalam taraweeh
►
جو بھلائی تجھے پہنچے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور جو ضرر رساں بات تجھے پہنچے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور ہم نے تجھے سب انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ بطور گواہ کافی ہے۔
جو بھلائی تجھے پہنچے وہ تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو برائی تجھے پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے۔اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ خوب اچھا گواہ ہے۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ؕ
(4۔ النساء:81)
nabisaw itaat kalam khamisas1 qatl murtad taraweeh
►
جو اِس رسول کی پیروی کرے تو اُس نے اللہ کی پیروی کی اور جو پِھر جائے تو ہم نے تجھے ان پر محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔
جو رسول کی اطاعت کرے (تو سمجھو کہ) اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تو (یاد رہے کہ) ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ ۫ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ ؕ وَ اللّٰهُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰهِ وَکِیْلًا
(4۔ النساء:82)
taraweeh
►
اور وہ (محض منہ سے) ”اطاعت“ کہتے ہیں! پھر جب وہ تجھ سے الگ ہوتے ہیں تو اُن میں سے ایک گروہ ایسی باتیں کرتے ہوئے رات گزارتا ہے جو اس سے مختلف ہیں جو تُو کہتا ہے۔ اور اللہ ان کی رات کی باتوں کو احاطہء تحریر میں لے آتا ہے۔ پس ان سے اِعراض کر اور اللہ پر توکّل کر اور اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے۔
اور وہ کہتے ہیں (کہ ہمارا کام تو) فرمانبرداری (ہے) پھر جب تیرے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ جو کچھ تو کہتا ہے اس کے مخالف تدبیریں کرتا ہے۔ اور جو تدبیریں وہ کرتے ہیں اللہ انہیں محفوظ کرتا جاتا ہے اس لئے تو ان سے اعراض کر اور اللہ پر بھروسہ رکھ اور اللہ کے بعد کسی اور کارساز کی ضرورت نہیں۔
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ؕ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا
(4۔ النساء:83)
kalam quran khamisas1 taqdeer allah ikhtilaf prove allah taraweeh
►
پس کیا وہ قرآن پر تدبّر نہیں کرتے؟ حالانکہ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔
پس کیا وہ (لوگ) قرآن پر غور نہیں کرتے اور (نہیں سمجھتے کہ) اگر وہ اللہ کے سوا (کسی اور) کی طرف سے ہوتا تو وہ یقیناً اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۫ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
(4۔ النساء:95)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کر رہے ہو تو اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو اور جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تُو مومن نہیں ہے۔ تم دنیاوی زندگی کے اموال چاہتے ہو تو اللہ کے پاس غنیمت کے کثیر سامان ہیں۔ اس سے پہلے تم اسی طرح ہوا کرتے تھے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔ پس خوب چھان بین کرلیا کرو۔ یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو بہت باخبر ہے۔
اے ایماندارو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو چھان بین کر لیا کرو۔اورجو تمہیں سلام کہے اسے (یہ) نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں۔ تم ورلی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ سو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں پہلے تم (بھی) ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا۔ پس تم پر لازم ہے (کہ) تم چھان بین کر لیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ یقیناً آگاہ ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ؕ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَۃً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا ۙ
(4۔ النساء:98)
kalam rabias1 shiaism khamisas1 malaikatullah kaam taraweeh
►
یقیناً وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ (اُن سے) کہتے ہیں تم کس حال میں رہے؟ وہ (جواباً) کہتے ہیں ہم تو وطن میں بہت کمزور بنا دیئے گئے تھے۔ وہ (فرشتے) کہیں گے کہ کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟۔ پس یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔
جن لوگوں کو ملائکہ نے اس حالت میں وفات دی کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ (ان سے) کہیں گے کہ تم کس (خیال) میں تھے؟ وہ (یعنی ہجرت سے گریز کرنے والے جواب میں) کہیں گے کہ ہم ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے (اس لئے ہجرت نہیں کی) وہ (فرشتے) جواب دیں گے کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی؟ کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے پس ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ رہنے کے لحاظ سے بہت (ہی) بری جگہ ہے۔
اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۙ
(4۔ النساء:99)
kalam rabias1 shiaism taraweeh
►
سوائے اُن مَردوں اور عورتوں اور بچوں کے جنہیں کمزور بنا دیا گیا تھا۔ جن کوکوئی حیلہ میسر نہیں تھا اور نہ ہی وہ (نکلنے کی) کوئی راہ پاتے تھے۔
ہاں وہ لوگ جو مردوں‘ عورتوں اور بچوں میں سے فی الواقع کمزور تھے (اور) وہ کسی تدبیر کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ کوئی راہ انہیں نظر آتی تھی۔
فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ ؕ وَ کَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا
(4۔ النساء:100)
taraweeh
►
پس یہی وہ لوگ ہیں، بعید نہیں کہ اللہ ان سے درگزر کرے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔
ان لوگوں کے متعلق خدا کی بخشش قریب ہے‘ کیونکہ اللہ ہے ہی بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا۔
وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّ سَعَۃً ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَی اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِکْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَی اللّٰهِ ؕ وَ کَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (ع)
(4۔ النساء:101)
kalam rabias1 shiaism taraweeh
►
اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے تو وہ زمین میں (دشمن کو) نامراد کرنے کے بہت سے مواقع اور فراخی پائے گا۔ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلتا ہے پھر (اس حالت میں) اسے موت آ جاتی ہے تو اُس کا اجر اللہ پر فرض ہوگیا ہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
اور جو (شخص بھی) اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ ملک میں حفاظت کی بہت سی جگہیں اور فراخی (کے سامان) پائے گا۔ اور جو (شخص) اللہ اور اس کے رسول کی طرف اپنے گھر سے ہجرت کرکے نکلے پھر اسے موت آجائے تو (سمجھو کہ) اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو چکا اور اللہ بہت (ہی) بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ۚ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰی بِهِمَا ۟ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤی اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
(4۔ النساء:136)
insaaf peace taraweeh
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔ پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔ اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلوتہی کرگئے تو یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔
اے ایماندارو! تم پوری طرح انصاف پر قائم رہنے والے (اور) اللہ کے لئے گواہی دینے والے بن جاٶ۔ گو (تمہاری گواہی) تمہارے اپنے (خلاف) یا والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف (پڑتی) ہو۔ اگر وہ (جس کے متعلق گواہی دی گئی ہے) غنی ہے یا محتاج ہے تو (دونوں صورتوں میں) اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ اس لئے تم (کسی ذلیل) خواہش کی پیروی نہ کیا کرو۔ تا عدل کر سکو اور اگر تم (کسی شہادت کو) چھپاٶ گے یا (اظہار حق سے) پہلو تہی کرو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِهٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ؕ وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِکَتِهٖ وَ کُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا
(4۔ النساء:137)
taraweeh
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس کتاب پر بھی جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور اس کتاب پر بھی جو اس نے پہلے اتاری تھی۔ اور جو اللہ کا انکار کرے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور یومِ آخر کا تو یقیناً وہ بہت ہی دُور کی گمراہی میں بھٹک چکا ہے۔
اے ایماندارو! اللہ اور اس کے رسول (پر) اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری ہے ایمان لاٶ اور جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور بعد میں آنے والے دن کا انکار کرے تو (سمجھ لو کہ) وہ پرلے درجہ کی گمراہی میں پڑ گیا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًا ؕ
(4۔ النساء:138)
kalam khamisas1 qatl murtad viva taraweeh
►
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے، اللہ ایسا نہیں کہ انہیں معاف کردے اور انہیں راستہ کی ہدایت دے۔
اور جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا‘ پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔ پھر کفر میں (اور بھی) بڑھ گئے۔ اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں (نجات کا) کوئی راستہ دکھا سکتا ہے۔
بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَۨا ۙ
(4۔ النساء:139)
kalam khamisas1 qatl murtad taraweeh
►
منافقوں کو بشارت دےدے کہ ان کے لئے بہت دردناک عذاب (مقدر) ہے۔
تو منافقوں کو (یہ) خبر سنا دے کہ ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُکْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَۨا ۙ
(4۔ النساء:141)
kalam khamisas1 qatl murtad paper maqala
►
اور یقیناً اس نے تم پر کتاب میں یہ حکم اتارا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے یا ان سے تمسخر کیا جا رہا ہے تو اُن لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں۔ ضرور ہے کہ اس صورت میں تم معاً اُن جیسے ہی ہو جاؤ۔ یقیناً اللہ سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔
اور اس نے اس کتاب میں تم پر یہ (حکم) اتار چھوڑا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کے متعلق اظہار انکار سنو یا ان سے استہزا ہوتا ہوا سنو۔ تو ان (ہنسی کرنے والوں) کے ساتھ (اس وقت تک) نہ بیٹھو جب تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مشغول (نہ) ہو جائیں۔ تم اس (ہسنی کرنے والوں کے پاس بیٹھنے کی) صورت میں یقیناً ان جیسے (متصور) ہوگے اللہ منافقوں اور کافروں سب کو یقیناً جہنم میں اکٹھا کرکے رہے گا۔
وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْهُ ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢا ۙ
(4۔ النساء:158)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
اور ان کے اس قول کے سبب سے کہ یقیناً ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کو جو اللہ کا رسول تھا قتل کر دیا ہے۔ اور وہ یقیناً اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے (کر مار) سکے بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دیاگیا اور یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اِس کا کوئی علم نہیں سوائے ظن کی پیروی کرنے کے۔ اور وہ یقینی طور پر اسے قتل نہ کر سکے۔
اور ان کے (یہ بات) کہنے کے سبب سے کہ اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کو ہم نے یقیناً قتل کر دیا ہے (یہ سزا انکو ملی ہے) حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر لٹکا کر مارابلکہ وہ ان کے لئے (مصلوب کے) مشابہ بنادیا گیا اور جن لوگوں نے اس (یعنی مسیح کے صلیب سے زندہ اتارے جانے ) میں اختلاف کیا ہے وہ یقیناً اس (کے زندہ اتارے جانے کی وجہ سے) شک میں(پڑے ہوئے) ہیں۔ انہیں اس کے متعلق کوئی بھی (یقینی) علم نہیں ہے۔ ہاں (صرف ایک) وہم کی پیروی (کر رہے ہیں) اور انہوں نے اس (واقعہ کی اصلیت) کو پوری طرح نہیں سمجھا (اور جو سمجھا ہے غلط سمجھا ہے)۔
یَسْتَفْتُوْنَکَ ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَکَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّهَا وَلَدٌ ؕ فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ؕ وَ اِنْ کَانُوْۤا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ؕ وَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (ع)
(4۔ النساء:177)
khamisas2 fiqh warasat
►
وہ تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں۔ کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی ایسا مَرد مر جائے جس کی اولاد نہ ہو مگر اس کی بہن ہو تو اس بہن کے لئے جو (ترکہ) اس نے چھوڑا اس کا نصف ہوگا اور وہ اس (بہن) کا (تمام تر) وارث ہوگا اگر اس کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر وہ (بہنیں) دو ہوں تو ان کے لئے اس میں سے دوتہائی ہوگا جو اس نے (ترکہ) چھوڑا۔ اور اگر بہن بھائی مَرد اور عورتیں (ملے جلے) ہوں تو (ہر) مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے (بات) کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ مبادا تم گمراہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔
وہ تجھ سے (ایک قسم کے کلالہ کے متعلق) فتویٰ پوچھتے ہیں‘ تو کہہ دے اللہ تمہیں (ایسے) کلالہ کے متعلق حکم سناتا ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا ہو اس کا نصف اس (بہن) کا ہوگا۔ اور اگر (وہ بہن مر جائے اور) اس کے اولاد نہ ہو تو وہ (یعنی اس کا بھائی) اس (کے سب ترکہ) کا وارث ہوگا اور اگر دو بہنیں ہوں تو جو کچھ اس (بھائی) نے چھوڑا ہو اس کا دو تہائی ان کا ہوگا اور اگروہ (وارث) بھائی بہنیں ہوں۔ مرد (بھی) اور عورتیں (بھی) تو (ان میں سے) مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے (یہ باتیں) تمہارے گمراہ ہو جانے (کے خدشہ) کی بنا پر بیان کرتا ہے اور اللہ ہر ایک امر کو خوب جانتا ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ ؕ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
(5۔ المائدة:4)
haramhalal kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
تم پر مُردار حرام کر دیا گیا ہے اور خون اور سؤر کا گوشت اور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور دم گھٹ کر مرنے والا اور چوٹ لگ کر مرنے والا اور گِر کر مرنے والا اور سینگ لگنے سے مرنے والا اور وہ بھی جسے درندوں نے کھایا ہو، سوائے اس کے کہ جسے تم (اس کے مرنے سے پہلے) ذبح کر لو اور وہ (بھی حرام ہے) جو معبودانِ باطلہ کی قربان گاہوں پر ذبح کیا جائے اور یہ بات بھی کہ تم تیروں کے ذریعہ آپس میں حصّے بانٹو۔ یہ سب فسق ہے۔ آج کے دن وہ لوگ جو کافر ہوئے تمہارے دین (میں دخل اندازی) سے مایوس ہو چکے ہیں۔پس تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔ پس جو بھوک کی شدت سے (ممنوعہ چیز کھانے پر) مجبور ہو چکا ہو اس حال میں کہ وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو تو اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
تم پر مردار اور خون اور سٶر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر اللہ کے سوا (کسی اور کا) نام بلند کیا گیا ہو اور گلا گھٹنے سے مرا ہوا یا کسی کند آلے کی چوٹ سے مرا ہوا۔ اور بلندی سے گر کر مرا ہوا۔ اور سینگ لگنے سے مرا ہوا (جانور) اور جسے (کسی) درندہ نے کھا لیا ہو۔ سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا ہو۔ اور جس (جانور) کو کسی بت کے تھان پر ذبح کیا گیا ہو۔ حرام کیا گیا ہے اور تیروں کے ذریعہ سے حصہ معلوم کرنا (بھی) ایسا کام کرنا نافرمانی (میں داخل) ہے۔ جو لوگ کافر ہیں وہ آج تمہارے دین (کو نقصان پہنچانے) سے ناامید ہوگئے ہیں۔ اس لئے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے (فائدہ کے) لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے لیکن جو شخص بھوک (کی حالت) میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو (اور حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے) تو (یاد رکھو کہ) اللہ یقیناً (مجبوری کی غلطیوں کو) بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ؕ وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ؕ وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰۤی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْهُ ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
(5۔ المائدة:7)
rabias1 shiaism fiqh wudhoo
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کی طرف جانے کے لئے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھو لیا کرو اور اپنے ہاتھوں کو بھی کہنیوں تک۔ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں بھی دھو لیا کرو۔ اور اگر تم جنبی ہو تو (پورا غسل کرکے) اچھی طرح پاک صاف ہو جایا کرو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی حوائج ِ ضروریہ سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم نے عورتوں سے تعلق قائم کیا ہو اور اس حالت میں تمہیں پانی نہ ملے تو خشک پاکیزہ مٹی کا تیمم کرو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لیا کرو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے لیکن چاہتا ہے کہ تمہیں بہت پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم شکر کیا کرو۔
اے ایماندارو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منہ (بھی) اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ (بھی) دھو لیا کرو۔ اور اپنے سروں کا مسح کیا کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاٶں (بھی دھو لیا کرو) اور اگر تم جنبی ہو تو نہا لیا کرو۔ اور اگر تم بیمار (ہو) یا سفر (کی حالت) میں ہو (اور تم جنبی ہو) یا تم میں سے کوئی (شخص) جائے ضرور سے آئے اور تم نے عورتوں سے مباشرت بھی کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے‘ تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اس سے (کچھ مٹی لیکر) اپنے مونہوں اور اپنے ہاتھوں کو ملو۔ اللہ تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں کرنا چاہتا‘ ہاں وہ تمہیں پاک کرنا اور تم پر اپنے احسان کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ تا کہ تم شکر کرو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۫ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعْدِلُوْا ؕ اِعْدِلُوْا ۟ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
(5۔ المائدة:9)
kalam khamisas2 peace insaaf
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔
اے ایماندارو! تم انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے لئے استادہ ہو جاٶ‘ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آماد نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ تم انصاف کرو‘ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔
یٰۤاَهْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۬ؕ قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۙ
(5۔ المائدة:16)
tafseer khamisas1 paper
►
اے اہلِ کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا وہ رسول آچکا ہے جو تمہارے سامنے بہت سی باتیں جو تم (اپنی) کتاب میں سے چُھپایا کرتے تھے خوب کھول کر بیان کررہا ہے اور بہت سی ایسی ہیں جن سے وہ صرفِ نظر کر رہا ہے۔ یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔
اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا ہے (اور) جو کچھ تم کتاب میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت (سا حصہ) تم سے بیان کرتا ہے اور بہت سے قصوروں کو بھی معاف کرتا ہے (ہاں) تمہارے لئے اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک روشن کتاب آچکی ہے۔
یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
(5۔ المائدة:17)
tafseer khamisas1 paper
►
اللہ اس کے ذریعہ انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اپنے اِذن سے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور انہیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
اللہ اس کے ذریعہ سے ان (لوگوں) کو جو اس کی رضا (کی راہ) پر چلتے ہیں سلامتی کی راہوں پر چلاتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کر لے جاتا ہے اور سیدھے راستہ کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے۔
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ
(5۔ المائدة:33)
kalam khamisas2
►
اسی بِنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کر دیا کہ جس نے بھی کسی ایسے نفس کو قتل کیا جس نے کسی دوسرے کی جان نہ لی ہو یا زمین میں فساد نہ پھیلایا ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ اور جس نے اُسے زندہ رکھا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا اور یقیناً ان کے پاس ہمارے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آ چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں سے کثیر لوگ زمین میں حدسے تجاوز کرتے ہیں۔
اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کر دیا تھا کہ (وہ خیال رکھیں کہ) جو کسی شخص کو بغیر اس کے کہ اس نے قتل کیا ہو یا ملک میں فساد پھیلایا ہو‘ قتل کر دے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو اسے زندہ کرے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ اور ہمارے رسول ان کے پاس یقیناً کھلے نشان لے کر آئے تھے۔ پھر بھی ان میں سے بہت سے (لوگ) ملک میں زیادتیاں کرتے جا رہے ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۫ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
(5۔ المائدة:55)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو ضرور اللہ (اس کے بدلے) ایک ایسی قوم لے آئے گاجس سے وہ محبت کرتا ہو اور وہ اُس سے محبت کرتے ہوں۔ مومنوں پر وہ بہت مہربان ہوں گے (اور) کافروں پر بہت سخت۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ رکھتے ہوں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ اس کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
اے ایماندارو! تم میں سے جو (شخص) اپنے دین سے پھر جائے تو (وہ یاد رکھے) اللہ (اس کی جگہ) جلد (ہی) ایک ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ جو مومنوں پر شفقت کرنے والے ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ پر سخت‘ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے پسند کرتا ہے (یہ فضل اسے) دے دیتا ہے اور اللہ وسعت بخشنے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
(5۔ المائدة:68)
shiaism matain umar shariat alamaat masihmaud masih wafat kalam khamisas1 taqdeer allah
►
اے رسول! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے ربّ کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اور اگر توُ نے ایسا نہ کیا تو گویا توُ نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ یقیناً اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اتارا گیا ہے اسے (لوگوں تک) پہنچا اور اگر تو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تو نے اس کا پیغام (بالکل) نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں (کے حملوں) سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ کافر لوگوں کو ہرگز (کامیابی کی) راہ نہیں دکھائے گا۔
مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَکْتُمُوْنَ
(5۔ المائدة:100)
kalam khamisas1 qatl murtad all
►
رسول پر اچھی طرح پیغام پہنچانے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔
رسول پر صرف (بات کا) پہنچانا (واجب) ہے اور جو بات عملاً) تم سے ظہور میں آجاتی ہے اور (اس کو بھی) جو تم سے (ابھی عملاً) ظہور میں نہیں آئی اللہ خوب جانتا ہے۔
وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ٭ بِحَقٍّ ؕ اِنْ کُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ
(5۔ المائدة:117)
shahid tafseer taraweeh
►
اور (یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابنِ مریم سے کہے گا کہ کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا پاک ہے تُو۔ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو۔ اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو ضرور تُو اسے جان لیتا۔ تُو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے۔ یقیناً تُو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔
اور جب اللہ نے کہا۔ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو تو اس نے جواب دیا کہ (ہم) تجھے (تمام عیبوں سے) پاک قرار دیتے ہیں۔ میری شان کے شایاں نہ تھا کہ میں (وہ بات) کہتا‘ جس کا مجھے حق نہ تھا اور اگر میں نے ایسا کہا تھا تو تجھے ضرور اس کا علم ہوگا جو کچھ میرے جی میں ہے تو جانتا ہے اور جو کچھ تیرے جی میں ہے میں نہیں جانتا۔ تو یقیناً (سب) غیب کی باتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ۚ وَ کُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ ؕ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ
(5۔ المائدة:118)
shahid tafseer taraweeh
►
میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تُو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تُو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تُو ہی ان پر نگران رہا اور تُو ہر چیز پر گواہ ہے۔
میں نے ان سے صرف وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرو‘ جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا‘ میں ان کا نگران رہا۔ مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا (میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
(5۔ المائدة:119)
taraweeh
►
اگر تُو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو یقیناً تُو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔
اگر تو انہیں عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخشنا چاہے تو تو بہت غالب (اور) بڑی حکمتوں والا (خدا) ہے۔
قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ؕ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
(5۔ المائدة:120)
kalam wafat masih qayamat taraweeh
►
اللہ نے کہا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچانے والا ہے۔ ان کے لئے جنّتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
اللہ نے فرمایا‘ یہ دن (ایسا) ہے جس میں صادقوں کو ان کی سچائی نفع دے گی۔ ان کو ایسے باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گے۔ وہ ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے (اور) یہ (ایک) بہت بڑی کامیابی ہے۔
لِلّٰهِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ ؕ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (ع)
(5۔ المائدة:121)
taraweeh
►
اللہ ہی کی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور اس کی بھی جو اُن کے اندر ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر امر پر پورا (پورا) قادر ہے۔
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ
(6۔ الأنعام:34)
tafseer khamisas1 paper
►
یقیناً ہم جانتے ہیں کہ تجھے ضرور غم میں مبتلا کرتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ پس یقیناً وہ تجھے ہی نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیات کا ہی انکار کرتے ہیں۔
ہم یقیناً جانتے ہیں (اور) یہی بات سچی ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ تجھے ضرور غمگین کرتا ہے کیونکہ وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں کا دانستہ انکار کرتے ہیں۔
وَ کَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَکْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ۚ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۘ
(6۔ الأنعام:82)
tafseer khamisas1 paper
►
اور میں اس سے کیسے ڈروں جسے تم شریک بنا رہے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے کہ تم ان کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو جن کے حق میں اس نے تم پر کوئی حجت نہیں اتاری۔ پس دونوں میں سے کونسا گروہ سلامتی کا زیادہ حقدار ہے اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔
اور میں اس (چیز) سے جسے تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کس طرح ڈر سکتا ہوں جبکہ اس (چیز) کو جس کے متعلق اس نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘ تم اللہ کا شریک بنانے سے نہیں ڈرتے سو اگر تم (کچھ) علم رکھتے ہو تو (بتاٶ کہ) ہم دونوں فریق میں سے کونسا امن (میں رہنے) کا زیادہ مستحق ہے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰٮهُمُ اقْتَدِهْ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ (ع)
(6۔ الأنعام:91)
shahid tafseer
►
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی۔ پس ان کی (اُس) ہدایت کی پیروی کر (جو اللہ ہی نے عطا کی تھی)۔ تو کہہ دے کہ میں تم سے اس کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ یہ تو تمام جہانوں کے لئے محض ایک نصیحت ہے۔
انہی (مذکورہ بالا لوگوں) کو اللہ نے ہدایت دی۔ پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ تو ان سے کہہ دے کہ میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ یہ تو صرف تمام جہانوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَکُوْا ؕ وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَکِیْلٍ
(6۔ الأنعام:108)
kalam khamisas1 qatl murtad all
►
اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں بنایا اور نہ ہی تُو ان پر نگران ہے۔
اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں مقرر کیا۔ اور نہ تو ان پر نگران ہے۔
وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰٮکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ
(6۔ الأنعام:129)
shahid tafseer
►
اور (یاد رکھ) وہ دن جب وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا (اور کہے گا) اے جنوں کے گروہ ! تم نے عوام الناس کا استحصال کیا۔ اور عوام النّاس میں سے ان کے دوست کہیں گے۔ اے ہمارے ربّ! ہم میں سے بعض نے بعض دوسروں سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس مقررہ گھڑی تک آپہنچے جو تُو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ وہ کہے گا تمہارا ٹھکانا آگ ہے (تم) اُس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہوگے سوائے اُس کے جو اللہ چاہے۔ یقیناً تیرا ربّ صاحبِ حکمت (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
اور اس دن (کو یاد کرو) جب وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا (پھر کہے گا) اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں میں سے اکثر کو (اپنے ساتھ ملا) لیا تھا اور ان کے انسان مددگار کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم میں سے بعضوں نے بعض سے فائدہ اٹھایا ہے‘ اور ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ وہ فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے اس میں تم ایک لمبے عرصہ تک رہو گے سوائے اس کے کہ خدا کی مشیت کچھ اور چاہے۔ تیرا رب یقیناً حکمت والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ (ع)
(6۔ الأنعام:155)
shahid kalam
►
پھر موسیٰ کو بھی ہم نے کتاب دی جو ہر اس شخص کی ضرورت پر پوری اترتی تھی جو احسان سے کام لیتا، اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی اور ہدایت تھی اور رحمت تھی تا کہ وہ اپنے ربّ کی لِقاءپر ایمان لے آئیں۔
اور جس نے نیکی کو اختیار کیا ہے اس پر (نعمت کو) پورا کرنے اور ہر اک امر کی وضاحت کرنے کے لئے اور ہدایت دینے اور رحم کرنے کی غرض سے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تا کہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔
وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ۫ۖ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا ۫ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا ۫ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ
(7۔ الأعراف:180)
taqdeer allah khamisas1 kalam paper
►
اور یقیناً ہم نے جہنم کے لئے جن و اِنس میں سے ایک بڑی تعداد کو پیدا کیا۔ ان کے دل ایسے ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ایسی ہیں کہ جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ایسے ہیں کہ جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ تو چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ یہ (ان سے بھی) زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی ہیں جو غافل لوگ ہیں۔
اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو رحمت کے لئے پیدا کیا ہے مگر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر جہنم کے مستحق ہو جاتے ہیں ان کے دل تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر (اصل بات یہ ہے کہ) وہ بالکل جاہل ہیں۔
وَ اِذَا قُرِیٴَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ
(7۔ الأعراف:205)
quran adaab fiqh khamisas1 namaz all
►
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور (اے لوگو)! جب قرآن پڑھا جائے‘ تو اس کو سنا کرو اور چپ رہا کرو۔ تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(8۔ الأنفال:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
یَسْـَٔلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ ۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
(8۔ الأنفال:2)
rabias2 shiaism maalefee taraweeh
►
وہ تجھ سے اموالِ غنیمت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ اموالِ غنیمت اللہ اور رسول کے ہیں۔پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے درمیان اصلاح کرو اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔
(اے رسول)! لوگ تجھ سے اموال غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں تو (ان سے) کہہ دے کہ اموال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے ہیں پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور آپس میں اصلاح کی کوشش کرو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۚۖ
(8۔ الأنفال:3)
momin attribute hifz taraweeh
►
مومن صرف وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اُس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کو ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے ربّ پر ہی توکل کرتے ہیں۔
مومن تو صرف وہی ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو بڑھا دیں۔ نیز (مومن وہ ہیں) جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ؕ
(8۔ الأنفال:4)
momin attribute taraweeh
►
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اُس میں سے ہی جو ہم نے اُن کو عطا کیا وہ خرچ کرتے ہیں۔
(اسی طرح حقیقی مومن وہ ہیں) جو نمازوں کو (شرائط کے مطابق) ادا کرتے ہیں۔ اور جو (کچھ) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ۚ
(8۔ الأنفال:5)
momin attribute taraweeh
►
یہی ہیں جو (کھرے اور) سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے ربّ کے حضور بڑے درجات ہیں اور مغفرت ہے اور بہت عزت والا رزق بھی۔
یہ (مذکورہ بالا صفات رکھنے والے) ہی سچے مومن ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لئے (بڑے بڑے) مدارج اور بخشش کا سامان اور معزز رزق ہے۔
وَ اِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰهُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَکُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ ۙ
(8۔ الأنفال:8)
kalam
►
اور (یاد کرو) جب اللہ تمہیں دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ دے رہا تھا کہ وہ تمہارے لئے ہے اور تم چاہتے تھے کہ تمہارے حصہ میں وہ آئے جس میں ضرر پہنچانے کی صلاحیت نہ ہو۔ اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو ثابت کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
اور (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کرتا تھا کہ وہ تم کو دیا جائے گا اور تم چاہتے تھے کہ وہ گروہ جس کے پاس ہتھیار نہیں ہیں تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کو اپنے احکام کے ذریعہ سے پورا کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ
(8۔ الأنفال:18)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
پس تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ ہے جس نے انہیں قتل کیا ہے اور (اے محمد!) جب تُو نے (ان کی طرف کنکر) پھینکے تو تُو نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ ہے جس نے پھینکے۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ وہ اپنی طرف سے مومنوں کو ایک اچھی آزمائش میں مبتلا کرے۔ یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
پس (یاد رکھو کہ) ان (کافروں) کو تم نے نہیں مارا تھا بلکہ ان کو اللہ نے مارا تھا۔ اور جب تو نے پتھر پھینکے تھے تو تو نے نہیں پھینکے تھے بلکہ اللہ نے پھینکے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے ذریعہ سے مومنوں پر ایک بڑا احسان کیا اور اللہ یقیناً بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔
وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْهُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ (ع)
(9۔ التوبة:6)
kalam khamisas2
►
اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلامِ الٰہی سن لے پھر اسے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچا دے۔ یہ (رعایت) اس لئے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو علم نہیں رکھتے۔
اور مشرکوں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اس کو اس کے امن کی جگہ تک پہنچا دے۔ کیونکہ وہ ایسی قوم ہے جو (حقیقت کو) نہیں جانتی۔
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
(9۔ التوبة:13)
hadith shahid
►
کیا تم ایسی قوم سے لڑائی نہیں کرو گے جو اپنی قسمیں توڑ بیٹھے ہوں اور رسول کو (وطن سے) نکال دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہوں اور وہی ہیں جنہوں نے پہلے پہل تم پر (زیادتی کا) آغاز کیا۔ کیا تم ان سے ڈر جاؤ گے جبکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
(اے مومنو)! کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو (اس کے گھر سے) نکالنے کا فیصلہ کر لیا اور تم سے (جنگ چھیڑنے میں) انہوں نے (ہی) ابتدا کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ (اگر ایسا ہے تو) اگر تم مومن ہو تو سمجھ لو کہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔
قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ ۙ
(9۔ التوبة:14)
shahid hadith
►
ان سے لڑائی کرو۔ اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوا کردے گا اور تمہیں ان کے خلاف نصرت عطا کرے گا اور مومن قوم کے سینوں کو شفا بخشے گا۔
ان سے لڑو۔ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دلوائے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ دے گا اور اس (ذریعہ) سے مومن قوم کے دلوں کو (صدمہ اور خوف سے) نجات دے گا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیْلٌ
(9۔ التوبة:38)
momin attribute
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہیں کیا ہو جاتا ہے جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم بوجھل بن کر زمین کی طرف جھک جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کی نسبت دنیا کی زندگی سے راضی ہوگئے ہو؟ پس دنیا کی زندگی کی متاع آخرت میں کچھ (ثابت) نہ ہوگی مگر بہت تھوڑی۔
اے مومنو! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستہ میں لڑنے کے لئے (سب مل کر) نکلو تو تم لوگ اپنے ملک (کی محبت) کی طرف جھک جاتے ہو کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پسند کرتے ہو؟ (اگر ایسا ہے) تو یاد رکھو کہ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں صرف ایک حقیر چیز ہے۔
قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰٮنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ
(9۔ التوبة:51)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
تُو (ان سے) کہہ دے کہ ہمیں تو کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی سوائے اُس کے جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ رکھی ہے۔ وہی ہمارا مولا ہے۔ پس چاہئے کہ اللہ پر ہی مومن توکل کریں۔
تو (ان سے) کہہ دے‘ ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لئے مقرر کر چھوڑا ہے وہ ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر ہی توکل رکھیں۔
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ؕ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
(9۔ التوبة:60)
fiqh
►
صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور اُن (صدقات) کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیفِ قلب کی جا رہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چٹی میں مبتلا لوگوں اور اللہ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
صدقات تو صرف فقراء اور مساکین کے لئے ہیں اور ان کے لئے جو ان صدقات کے جمع کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں۔ نیز ان کے لئے جن کے دلوں کو (اپنے ساتھ) جوڑنا مطلوب ہو اور اسی طرح قیدیوں اور قرض داروں کے لئے اور (ان کے لئے جو) اللہ کے راستہ میں (جنگ کرتے ہیں) اور مسافروں کے لئے یہ فرض اللہ کا مقرر کردہ ہے اور اللہ بہت جاننے والا (اور) بڑی حکمت والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ ؕ وَ مَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
(9۔ التوبة:73)
rabias1 kalam nabisaw shiaism khamisas1 qatl murtad paper
►
اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
اے نبی! کفار اور منافقوں سے جہاد کرو۔ اور (پکا انتظام کرکے) ان پر سختی (سے حملہ) کرو۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ (رہنے کے لحاظ سے) بہت بری جگہ ہے۔
فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْکُوْا کَثِیْرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ
(9۔ التوبة:82)
momin attribute
►
پس چاہئے کہ وہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں، اُس کی جزا کے طور پر جو وہ کسب کیا کرتے تھے۔
پس چاہیے کہ (اپنی اس فریب دہی پر) وہ تھوڑا ہنسیں اور اپنے عمل کی جزا پر زیادہ روئیں۔
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
(9۔ التوبة:100)
fazail sahaba nabisaw
►
اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے اوّلین اور وہ لوگ جنہوں نے حُسنِ عمل کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں۔ یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔
اور جو مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے ہیں اور وہ لوگ بھی جو کہ کامل اطاعت دکھاتے ہوئے ان کے پیچھے چلے۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ اس نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
(10۔ يونس:26)
tafseer khamisas1 paper
►
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے پسند کرتا ہے (اسے) ایک سیدھی راہ پر چلا (کر منزل مقصود تک پہنچا) دیتا ہے۔
وَ قَالَ مُوْسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَۃً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ
(10۔ يونس:89)
taqdeer allah khamisas1 kalam
►
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے ربّ! یقیناً تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو اس دنیوی زندگی میں ایک بڑی زینت اور اموال دئیے ہیں۔ اے ہمارے ربّ! (کیا) اس لئے کہ وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) بھٹکادیں۔ اے ہمارے ربّ! ان کے اموال برباد کر دے اور ان کے دلوں پر سختی کر۔ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
اور موسیٰ نے کہا (کہ) اے ہمارے رب! تو نے فرعون (کو) اور اس کی قوم کے بڑے لوگوں کو (اس) ورلی زندگی میں زینت (کے سامان) اور اموال دے رکھے ہیں مگر اے ہمارے رب! نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وہ تیرے رستہ سے (لوگوں کو) برگشتہ کر رہے ہیں۔ پس اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں پر بھی سزا نازل کر جس کا یہ نتیجہ نکلے کہ جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں۔
وَ لَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّهُمْ جَمِیْعًا ؕ اَفَاَنْتَ تُکْرِهُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ
(10۔ يونس:100)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
اور اگر تیرا ربّ چاہتا تو جو بھی زمین میں بستے ہیں اکٹھے سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تُو لوگوں کو مجبور کرسکتا ہے۔ حتی کہ وہ ایمان لانے والے ہو جائیں۔
اور اگر اللہ (ہدایت کے معاملہ میں) اپنی (ہی) مشیت کو نافذ کرتا تو (جس قدر) لوگ زمین پر موجود ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے (پس جب خدا بھی مجبور نہیں کرتا) تو کیا تو لوگوں کو (اتنا) مجبور کرے گا کہ وہ مومن بن جائیں۔
قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰٮکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُکَ لَرَجَمْنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ
(11۔ هود:92)
taqdeer allah kalam khamisas1 paper
►
انہوں نے کہا اے شعیب! تُو جو کہتا ہے اس میں سے بہت سا ہم سمجھ نہیں سکتے جبکہ تجھے ہم اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں۔ اور اگر تیرا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہمارے مقابل پر کوئی غلبہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا‘ اے شعیب! جو کچھ تو کہتا ہے اس میں سے بہت سا (حصہ) ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تجھے اپنے درمیان ایک کمزور آدمی سمجھتے ہیں اور اگر تیرا گروہ نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور تو (بذات خود) ہماری نظر میں کوئی قابل عزت وجود نہیں۔
وَ کَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعْقُوْبَ کَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (ع)
(12۔ يوسف:7)
shahid kalam
►
اور اسی طرح تیرا ربّ تجھے (اپنے لئے) چُن لے گا اور تجھے معاملات کی تہ تک پہنچنے کا علم سکھادے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا اور آلِ یعقوب پر بھی جیسا کہ اس نے اُسے تیرے باپ دادا اِبراہیم اور اسحاق پر پہلے تمام کیا تھا۔ یقیناً تیرا ربّ دائمی علم رکھنے والا (اور) حکمت والا ہے۔
اور (جیسا کہ تو نے دیکھا ہے) اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا اور (الٰہی) باتوں کا علم تجھے بخشے گا اور تجھ پر اور یعقوب کی تمام (حقیقی) آل پر (اسی طرح) اپنے انعام کو پورا کرے گا جیسا کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دو بزرگوں ابراہیم اور اسحاق پر پورا کیا تھا۔ تیرا رب یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَکُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ
(12۔ يوسف:34)
hifz
►
اس نے کہا اے میرے ربّ! قید خانہ مجھے زیادہ پیارا ہے اس سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں۔ اور اگر تُو مجھ سے اُن کی تدبیر (کا مُنہ) نہ پھیر دے تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا اور میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا۔
(یہ سن کر) اس نے (دعا کرتے ہوئے) کہا (کہ) اے میرے رب! جس بات کی طرف وہ مجھے بلاتی ہے اس کی نسبت قید خانہ میں جانا مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر ان کی تدبیر (کے بدنتیجہ) کو تو مجھ سے نہیں ہٹائے گا تو میں ان کی طرف جھک جاٶں گا۔ اور جاہلوں میں سے ہو جاٶں گا۔
لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَ لٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ع)
(12۔ يوسف:112)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
یقیناً ان کے تاریخی واقعات کے بیان میں اہلِ عقل کے لئے ایک بڑی عبرت ہے۔ یہ کوئی جھوٹے طور پر بنایا ہوا قصّہ نہیں بلکہ اس کی تصدیق ہے جو اس کے سامنے ہے اور ہر چیز کی خوب وضاحت ہے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔
ان (لوگوں) کے ذکر میں عقل مندوں کے لئے ایک عبرت (کا نمونہ موجود) ہے۔ یہ ایسی بات (ہرگز) نہیں ہے جو (اپنے پاس سے) گھڑی گئی ہو۔ بلکہ (یہ) اپنے سے پہلے (کلام الٰہی کی پیشگوئیوں) کو کامل طور پر پورا کرنے والی ہے اور ہر بات کی پوری تفصیل بیان کرنے والی ہے اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ
(15۔ الحجر:10)
tafseer khamisas1 paper
►
یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر اُتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اس ذکر (یعنی قرآن) کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے۔
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
(15۔ الحجر:30)
kalam khamisas1 malaikatullah kaam paper
►
پس جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنا کلام پھونکوں تو اس کی اطاعت میں سجدہ ریز ہو جانا۔
پس جب میں اسے مکمل کر دوں اور اس (کے دل) میں اپنا کلام ڈال دوں تو تم سب اس کے ساتھ سجدہ کرتے ہوئے (اللہ کے حضور) گر جانا۔
اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ
(15۔ الحجر:43)
kalam
►
یقیناً (جو) میرے بندے (ہیں) ان پر تجھے کوئی غلبہ نصیب نہ ہوگا سوائے گمراہوں میں سے اُن کے جو (از خود) تیری پیروی کریں گے۔
جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کبھی بھی تسلط نہیں ہوگا۔ ہاں ایسے افراد جو تیرے پیچھے چلیں یعنی خود گمراہ ہوں (وہ مستثنیٰ ہیں) ۔
لَهَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ (ع)
(15۔ الحجر:45)
hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے ان (گمراہوں) کا ایک مقررہ حصّہ ہے۔
اس کے سات دروازے ہیں (اور اس کے) ہر دروازہ کے لئے ان (کفار) میں سے ایک مقرر حصہ ہوگا۔
لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ
(15۔ الحجر:49)
hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
انہیں ان میں نہ کوئی تھکان چھوئے گی اور نہ وہ کبھی ان میں سے نکالے جائیں گے۔
نہ انہیں ان میں کوئی تھکان ہوگی اور نہ انہیں ان میں سے کبھی نکالا جائے گا۔
وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۙ
(16۔ النحل:13)
kalam malaikatullah khamisas1
►
اور اس نے تمہارے لئے رات کو اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کیا اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ یقیناً اس میں ایسی قوم کے لئے جو عقل رکھتی ہے بہت بڑے نشانات ہیں۔
اور اس نے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے خدمت پر لگا رکھا ہے اور (دوسرے) تمام (سیارے اور) ستارے (بھی) اس کے حکم سے (تمہاری) خدمت پر متعین ہیں جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں یقیناً کئی نشان (پائے جاتے) ہیں۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
(16۔ النحل:36)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
اور اُن لوگوں نے جنہوں نے شرک کیا کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم نے اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کی ہوتی ، نہ ہم نے نہ ہمارے آباءواجداد نے ۔اور نہ ہی ہم نے اُس کے سوا کسی چیز کو حرمت دی ہوتی۔ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے۔ پس کیا پیغمبروں پر کھلا کھلا پیغام پہنچانے کے سوا بھی کچھ فرض ہے؟
اور جن لوگوں نے شرک (کا طریق اختیار) کیا۔ انہوں نے (یہ بھی) کہا ہے کہ اگر اللہ (یہی) چاہتا (کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے) تو نہ ہم اس کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ایسا کرتے اور نہ (ہی) ہم اس کے (فرمانے کے) بغیر کسی چیز کو (خود بخود) حرام ٹھہراتے جو (لوگ) ان سے پہلے (سچائی کے دشمن) تھے انہوں نے (بھی) ایسا ہی کیا تھا بھلا (یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ) رسولوں پر (خدا کا پیغام) پہنچا دینے کے سوا اور کیا ذمہ داری ہے۔
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَی اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ
(16۔ النحل:37)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
اور یقیناً ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور بتوں سے اجتناب کرو۔ پس ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور انہی میں ایسے بھی ہیں جن پر گمراہی واجب ہو گئی۔ پس زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا تھا۔
اور ہم نے یقیناً ہر قوم میں (کوئی نہ کوئی) رسول (یہ حکم دے کر) بھیجا ہے‘ کہ (اے لوگو)! تم اللہ کی عبادت کرو۔ اور ہر حد سے بڑھنے والے سے کنارہ کش رہو اس پر ان میں سے بعض (تو) ایسے (اچھے ثابت) ہوئے کہ انہیں اللہ نے ہدایت دی اور بعض ایسے کہ ان پر ہلاکت واجب ہو گئی۔ پس تم (تمام) ملک میں پھرو اور دیکھو کہ (انبیاء کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا تھا۔
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ
(16۔ النحل:91)
protest islam ihsan akhlaq huquq ibaad
►
یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباءپر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حُکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔
اللہ یقیناً عدل کا اور احسان کا اور (غیر رشتہ داروں کو بھی) قرابت والے (شخص) کی طرح (جاننے اور اسی طرح مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور (ہرقسم کی) بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے روکتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سمجھ جاٶ۔
مَنْ کَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُکْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ
(16۔ النحل:107)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
جو بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کرے سوائے اس کے کہ جو مجبور کر دیا گیا ہو حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (وہ بری الذمہ ہے)۔ لیکن وہ لوگ جو شرح صدر سے کفر پر راضی ہوگئے ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور اُن کے لئے ایک بڑا عذاب (مقدر) ہے۔
جو لوگ (بھی) اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کریں سوائے ان کے جنہیں (کفر پر) مجبور کیا گیا ہو لیکن ان کا دل ایمان پر مطمئن ہو (وہ گرفت میں نہ آئیں گے) ہاں وہ جنہوں نے (اپنا) سینہ کفر کے لئے کھول دیا ہو ان پر اللہ کا (بہت) بڑا غضب (نازل) ہوگا۔ اور ان کے لئے بھاری عذاب (مقدر) ہے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
(16۔ النحل:108)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے آخرت پر (ترجیح دیتے ہوئے) دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا اور اس وجہ سے (بھی) ہے کہ اللہ ہرگز کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
اور ایسا اس سبب سے ہوگا کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کرکے اسے آخرت پر مقدم کر لیا اور (نیز اس وجہ سے کہ) اللہ کفر اختیار کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
(17۔ بني اسرائیل:2)
hifz tafseer rabias1 isra khamisas1 shahid tareekh
►
پاک ہے وہ جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی طرف لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔ تاکہ ہم اسے اپنے نشانات میں سے کچھ دکھائیں۔ یقیناً وہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنے والا ہے۔
(میں) اُس (خدا) کی پاکیزگی (بیان کرتا ہوں) جو رات کے وقت اپنے بندے کو (اس) حرمت والی مسجد سے (اُس) دُور والی مسجد تک جس کے اردگرد کو (بھی) ہم نے برکت دی ہے (اس لئے) لے گیا کہ تاہم اسے اپنے بعض نشان دکھلائیں یقیناً وہی (خدا) ہے جو (اپنے بندوں کی پکار کو) خوب سننے والا (اور ان کی حالتوں کو) خوب دیکھنے والا ہے۔
ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ؕ اِنَّهٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:4)
para15 easy
►
(یہ لوگ) اُن کی ذرّیت تھے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا۔ یقیناً وہ بہت ہی شکرگزار بندہ تھا۔
(اور یہ بھی کہا تھا کہ اے) ان لوگوں کی نسل! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کیا تھا (یاد رکھو کہ) وہ یقیناً (ہمارا) نہایت شکر گذار بندہ تھا (پس تم بھی شکر گذار بنو) ۔
اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ ۟ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَکُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا
(17۔ بني اسرائیل:8)
para15 easy
►
اگر تم اچھے اعمال بجالاؤ تو اپنی خاطر ہی اچھے اعمال بجالاؤگے۔ اور اگر تم بُرا کرو تو خود اپنے لئے ہی بُرا کروگے۔ پس جب آخرت والا وعدہ آئے گا (تب بھی یہی مقدر ہے) کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور وہ مسجد میں اسی طرح داخل ہو جائیں جیسا کہ پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ وہ جس پر غلبہ پائیں اُسے تہس نہس کردیں۔
(سنو)! اگر تم نیکو کار بنو گے تو نیکو کار بن کر اپنی جانوں کو ہی فائدہ پہنچاٶ گے‘ اور اگر تم برے اعمال کرو گے تو (بھی) ان (یعنی اپنی جانوں) کے لئے (برا کرو گے) پھر جب دوسری بار والا وعدہ (پورا ہونے کا وقت) آگیا‘ تا کہ وہ (یعنی تمہارے دشمن) تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور (اسی طرح) مسجد میں داخل ہوں جس طرح وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے بالکل تباہ (اور برباد) کرکے رکھ دیں (تو یہ بات بھی پوری ہوگئی)
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا ۙ
(17۔ بني اسرائیل:10)
para15 diff
►
یقیناً یہ قرآن اس (راہ) کی طرف ہدایت دیتا ہے جو سب سے زیادہ قائم رہنے والی ہے اور اُن مومنوں کو جو نیک کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لئے بہت بڑا اجر (مقدر) ہے۔
یہ قرآن یقیناً اس (راہ کی) طرف راہنمائی کرتا ہے جوسب سے زیادہ درست ہے اور مومنوں کوجو مناسب حال کام کرتے ہیں بشارت دیتاہے کہ ان کیلئے (بہت) بڑااجر (مقدر) ہے۔
وَ کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰٮهُ مَنْشُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:14)
hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
اور ہر انسان کا اعمال نامہ ہم نے اُس کی گردن سے چمٹا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے لئے اُسے ایک ایسی کتاب کی صورت میں نکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا۔
اور ہم نے ہر انسان کی گردن میں اس کے عمل کو باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس (کے اعمال) کی ایک کتاب نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے‘ جسے وہ (بالکل) کھلی ہوئی پائے گا۔
مَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا
(17۔ بني اسرائیل:16)
kalam khamisas1 qatl murtad all paper
►
جو ہدایت پا جائے وہ خود اپنی جان ہی کے لئے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہو تو وہ اسی کے مفاد کے خلاف گمراہ ہوتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں (اور حجت تمام کردیں)۔
(پس یاد رکھو کہ) جو ہدایت کو قبول کرے گا اس کا ہدایت پانا اسی کی ذات کے فائدہ کے لئے ہے جو (اس ہدایت کو رد کرکے) گمراہ ہوگا۔ اس کا گمراہ ہونا اسی کے (نفس کے) خلاف پڑے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور ہم (کسی قوم پر) ہرگز عذاب نہیں بھیجتے جب تک (ان کی طرف) کوئی رسول نہ بھیج لیں۔
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْکُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:20)
para15 easy
►
اور وہ جس نے آخرت کا ارادہ کیا ہو اور اس کے لئے جیسا کہ اس کا حق ہے کوشش کی ہو بشرطیکہ وہ مومن ہو تو یہی ہیں وہ لوگ جن کی کوشش مشکور ہوگی۔
اور جن لوگوں نے ایمان کی حالت میں آخرت کی خواہش کی اور اس کے لئے اس کے مطابق کوشش (بھی) کی تو (یاد رکھو) ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ کِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا
(17۔ بني اسرائیل:24)
dua hifz huquq parents taraweeh
►
اور تیرے ربّ نے فیصلہ صادر کردیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو اُنہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔
تیرے رب نے (اس بات کا) تا کیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور (نیز یہ کہ اپنے) ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کسی ایک پر یا ان دونوں پر تیری زندگی میں بڑھاپا آجائے‘ تو انہیں (ان کی کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) اُف تک نہ کہہ اور نہ انہیں جھڑک اور ان سے (ہمیشہ) نرمی سے بات کر۔
وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ؕ
(17۔ بني اسرائیل:25)
dua hifz huquq parents taraweeh taraweeh
►
اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پَرجُھکا دے اور کہہ کہ اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔
اور رحم کے جذبہ کے ماتحت ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کر اور (ان کے لئے دعا کرتے وقت) کہا کر (کہ اے) میرے رب! ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔
رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ؕ اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:26)
taraweeh
►
تمہارا ربّ سب سے زیادہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم نیک ہو تو وہ یقیناً بکثرت توبہ کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے۔
تمہارا رب جو کچھ (بھی) تمہارے دلوں میں ہو اسے (سب سے) بہتر جانتا ہے (اور) اگر تم نیک ہوگے تو (یاد رکھو کہ) وہ باربار رجوع کرنے والوں کو بہت ہی بخشنے والا ہے۔
وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:29)
para15 simple
►
اور اگر تجھے ان سے اعراض کرنا ہی پڑے تو اپنے ربّ کی رحمت کے حصول کی خاطر، جس کی تُو امید رکھتا ہے، اُن سے نرم بات کہہ ۔
اور اپنے رب کی کسی عظیم الشان رحمت کے حصول کے لئے جس کی تجھے امید لگی ہوئی ہو اگر تو ان (رشتہ داروں) سے اعراض کرے (تو اس صورت میں اعراض جائز ہے مگر) تب بھی ان سے تلطف والے طریق پر بات کر۔
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:30)
para15 diff
►
اور اپنی مُٹھی (بخل کے ساتھ) بھینچتے ہوئے گردن سے نہ لگالے اور نہ ہی اُسے پُورے کا پُورا کھول دے کہ اس کے نتیجہ میں تُو ملامت زدہ (اور) حسرت زدہ ہو کر بیٹھ رہے۔
اور تو نہ (تو بخل سے) اپنے ہاتھ کو باندھ کر اپنی گردن میں ڈال لے اور نہ (اسراف میں پڑ کر) اسے بالکل کھول دے ورنہ (یاتو) تو ملامت کا نشانہ بن کر یا تھکان کے اثر سے بیٹھ جائے گا۔
وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ ؕ اِنَّهٗ کَانَ مَنْصُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:34)
para15 diff kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
اور اُس جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اللہ نے حُرمت بخشی ہو۔ اور جو مظلوم ہونے کی حالت میں قتل کیا جائے تو ہم نے اُس کے ولی کو (بدلے کا) قوی حق عطا کیا ہے۔ پس وہ قتل کے معاملہ میں زیادتی نہ کرے۔ یقیناً وہ تائید یافتہ ہے۔
اور جس جان کو (مارنا) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے (شرعی) حق کے سوا قتل نہ کرو۔ اور جو شخص مظلوم مارا جائے اس کے وارث کو ہم نے (قصاص) کا اختیار دیا ہے پس (اس کے لئے یہ ہدایت ہے کہ) وہ (قاتل کو) قتل کرنے میں (ہماری مقرر کردہ) حد سے آگے نہ بڑھے (اگر وہ حد کے اندر رہے گا) تو یقیناً (ہماری) مدد اس کے شامل حال ہوگی۔
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِهٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا
(17۔ بني اسرائیل:37)
kalam howto
►
اور وہ موقف اختیار نہ کر جس کا تُجھے علم نہیں۔ یقیناً کان اور آنکھ اور دل میں سے ہر ایک سے متعلق پوچھا جائے گا۔
اور (اے مخاطب) جس بات کا تجھے علم نہ ہو اس کی اتباع نہ کیا کر (کیونکہ) کان اور آنکھ اور دل ان سب کے متعلق (تجھ سے) پوچھا جائے گا۔
کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْهًا
(17۔ بني اسرائیل:39)
para15 easy
►
یہ تمام ایسی باتیں ہیں جن کی برائی تیرے ربّ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
ان (حکموں) میں سے ہر ایک (فعل) کی بری صورت تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
اَفَاَصْفٰٮکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:41)
para15 diff
►
کیا تمہیں تو تمہارے ربّ نے بیٹوں کے لئے چُن لیا اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا بیٹھا؟ تم یقیناً بہت بڑی بات کر رہے ہو۔
کیا تمہارے رب نے تم کو لڑکوں (کی نعمت) سے مخصوص کر دیا ہے اور (خود) اس نے بعض فرشتوں کو (اپنی) لڑکیاں بنا لیا ہے۔ یقیناً تم (یہ) بڑی (خطرناک) بات کہتے ہو۔
قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَهٗۤ اٰلِـهَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا
(17۔ بني اسرائیل:43)
para15 easy
►
تُو کہہ دے کہ اگر اُس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے جیسا یہ کہتے ہیں تو وہ بھی ضرور صاحبِ عرش تک پہنچنے کی راہ بڑی خواہش سے ڈھونڈتے۔
تو کہہ (کہ) اگر ان کے قول کے مطابق اس (اللہ) کے ساتھ (کوئی) اور معبود (بھی) ہوتے تو اس صورت میں وہ (مشرکین ان معبودوں کی مدد سے) عرش والے (خدا) تک (پہنچنے کا) کوئی راستہ ضرور ڈھونڈ لیتے۔
سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا
(17۔ بني اسرائیل:44)
para15 easy
►
پاک ہے وہ اور بہت بلند ہے ان باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔
وہ ان (مشرکین) کی شرک کی باتوں سے پاک اور بہت ہی بالا ہے۔
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤی اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:48)
para15 easy
►
ہم سب سے زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا بات سُننا چاہتے ہیں جب وہ تیری طرف کان دھرتے ہیں اور جب وہ خفیہ مشوروں میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔
(اور) جب وہ (بظاہر) تیری باتیں سن رہے ہوتے ہیں تو جس غرض کے ماتحت وہ تیری باتیں سن رہے ہوتے ہیں ہم اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں اور (نیز) جب وہ باہم سرگوشی کر رہے ہوتے ہیں (اس کا بھی ہمیں علم ہوتا ہے اور) جب وہ ظالم (ایک دوسرے سے) کہہ رہے ہوتے ہیں (کہ) تم ایک فریب خوردہ شخص ہی کی پیروی کر رہے ہو (تو اس وقت بھی ہم سن رہے ہوتے ہیں)
اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هُوَ ؕ قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا
(17۔ بني اسرائیل:52)
para15 diff
►
یا ایسی مخلوق جو تمہاری دانست میں (سختی میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ تواس پر وہ ضرور کہیں گے کہ کون (ہے جو) ہمیں لوٹائے گا؟ تُو کہہ دے وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیداکیا تھا۔ تو وہ تیری طرف (منہ کرکے) اپنے سر مٹکائیں گے اور کہیں گے ایسا کب ہوگا؟ تُو کہہ دے ہو سکتا ہے کہ جلد ایسا ہو۔
یا کوئی اور ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت نظر آتی ہو (تب بھی تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا) (یہ سن کر) وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون ہمیں دوبارہ (زندہ کرکے وجود میں) لائے گا۔ تو (انہیں) کہہ (کہ) وہی (خدا) جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس پر وہ لازماً تعجب سے تمہاری طرف (دیکھتے ہوئے) سر ہلائیں گے اور کہیں گے (کہ) یہ (زندہ کیے جانے کا معاملہ) کب ہوگا؟ (جب وہ ایسا کہیں تو) تو (ان سے) کہہ (کہ) بالکل ممکن ہے کہ وہ (وقت اب) قریب (آچکا) ہو۔
وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا
(17۔ بني اسرائیل:54)
para15 easy
►
اور تُو میرے بندوں سے کہہ دے کہ ایسی بات کیا کریں جو سب سے اچھی ہو۔ یقیناً شیطان اُن کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان بے شک انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔
اور تو میرے بندوں سے کہہ (کہ) وہی بات کہا کریں جو (سب سے) زیادہ اچھی ہو (کیونکہ) شیطان یقیناً ان کے درمیان فساد ڈالتا رہتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا (کھلا) دشمن ہے۔
وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:56)
para15 easy fazail anbiya
►
اور تیرا ربّ سب سے زیادہ اُسے جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور یقیناً ہم نے نبیوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی اور دا ؤد کو ہم نے زبور عطا کی۔
اور جو (وجود بھی) آسمانوں اور زمین میں (بسنے والے) ہیں انہیں تمہارا رب (سب سے) زیادہ جانتا ہے اور ہم نے یقیناً انبیاء میں سے بعض کو بعض (دوسرے انبیائ) پر فضیلت دی ہے اور داٶد کو (بھی) ہم نے زبور دی تھی۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:58)
para15 diff
►
یہی لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کی طرف جانے کا وسیلہ ڈھونڈیں گے کہ کون ہے ان میں سے جو (وسیلہ بننے کا) زیادہ حقدار ہے اور وہ اُس کی رحمت کی توقع رکھیں گے اور اُس کے عذاب سے ڈریں گے۔ یقیناً تیرے ربّ کا عذاب اس لائق ہے کہ اس سے بچا جائے۔
وہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے قرب کے لئے کوئی ذریعہ تلاش کرتے ہیں (یعنی یہ دیکھتے رہتے ہیں) کہ کون خدا کے زیادہ قریب ہے (تا کہ ہم اس کی مدد حاصل کریں) اور وہ ہمیشہ اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ تیرے رب کا عذاب یقیناً ایسا ہے جس سے خوف کیا جاتا ہے۔
وَ اِذْ قُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیْرًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:61)
para15 easy
►
اور (یاد کر) جب ہم نے تجھے کہا یقیناً تیرے ربّ نے انسانوں کو گھیر لیا ہے۔ اور وہ خواب جو ہم نے تجھے دکھایا اُسے ہم نے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش اور اس درخت کو بھی جو قرآن میں ملعون قرار دیا گیا۔ اور ہم انہیں تدریجاً ڈراتے ہیں مگر وہ اُنہیں سوائے بڑی سرکشی کے اور کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔
اور جب ہم نے تجھے کہا تھا (کہ) تمہارا رب ضرور ان لوگوں کو ہلاک (کرنے کا فیصلہ) کر چکا ہے (تب بھی انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا) اور جو رٶیا ہم نے تجھے دکھائی تھی اسے (بھی) اور اس درخت کو (بھی) جسے قرآن میں ملعون قرار دیا گیا ہے ہم نے لوگوں کے لئے صرف امتحان کا ذریعہ بنایا تھا اور(باوجود اس کے کہ) ہم انہیں ڈراتے (چلے جاتے) ہیں پھر (بھی) وہ (یعنی ہمارا ڈرانا) انہیں ایک خطرناک سرکشی میں بڑھا رہا ہے۔
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:64)
para15 diff
►
اُس نے کہا جا! پس جو بھی ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو یقیناً جہنّم تم سب کا پُورا پُورا بدلہ ہوگی۔
(اللہ نے) فرمایا‘ چل (دُور ہو) کیونکہ تیری بھی اور ان میں سے جو تیری پیروی کریں‘ (ان کی بھی) سزا جہنم ہے (اور یہ) پورا پورا بدلہ (ہے)
وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِکَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَ عِدْهُمْ ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا
(17۔ بني اسرائیل:65)
para15 diff
►
پس اپنی آواز سے ان میں سے جسے چاہے بہکا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا اور اموال میں اور اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے وعدے کر۔ اور شیطان دھوکے کے سوا ان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا۔
اور (ہم نے کہا جا) ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے اپنی آواز سے فریب دے کر (اپنی طرف) بلا اور اپنے سواروں اور پیادوں کو ان پر چڑھالا۔ اور (ان کے) مالوں اور اولادوں میں ان کا حصہ دار بن اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر (اور پھر اپنی کوششوں کا نتیجہ دیکھ) اور شیطان جو وعدے بھی کرتا ہے فریب کی نیت ہی سے کرتا ہے۔
اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْهِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا
(17۔ بني اسرائیل:70)
para15 diff
►
یا کیا تم امن میں ہو کہ وہ تمہیں اسی میں دوبارہ لَوٹا دے اور پھر تم پر تند و تیز ہوائیں چلائے اور تمہیں تمہاری ناشکریوں کی وجہ سے غرق کردے۔ پھر تم ہمارے خلاف اپنی خاطر اس کا کوئی بدلہ لینے والا نہ پاؤ۔
یا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں (پھر) دوسری بار اس (سمندر) میں لوٹا لائے اور تم پر ایک تند ہوا چھوڑدے اور تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کر دے (اور) پھر اس (عذاب) پر تم ہمارے خلاف اپنا کوئی مددگار نہ پاٶ۔
وَ مَنْ کَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰی فَهُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا
(17۔ بني اسرائیل:73)
hasti allah kalam khamisas1
►
اور جو اِسی دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بھٹکاہوا۔
اور جو اس (دنیا) میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں (بھی) اندھا ہوگا اور (اسی طرح وہ) اپنے (طور اور) طریق میں سب سے بڑھ کر بھٹکا ہوا ہوگا۔
وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا
(17۔ بني اسرائیل:74)
para15 easy
►
اور قریب تھا کہ وہ تجھے اس کے بارہ میں جو ہم نے تیری طرف وحی کی ہے فتنہ میں مبتلا کر دیتے تاکہ تو اس کے سوا کچھ اَور ہمارے خلاف گھڑ لیتا تب وہ ضرور بلاتاخیر تجھے دوست بنا لیتے۔
اور قریب تھا کہ اس (کلام) کی وجہ سے جو ہم نے تجھ پر وحی سے نازل کیا ہے وہ تجھے (سخت سے سخت) عذاب میں مبتلا کرتے تا کہ تو (ان سے ڈر کر) اس (کلام) کے سوا کچھ اور (کلام اپنے پاس سے) بنا کر ہماری طرف منسوب کردے اور (اگر تو ایسا کرتا تو) اس صورت میں وہ یقیناً تجھے (اپنا) گہرا دوست بنا لیتے۔
سُنَّۃَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:78)
para15 diff
►
یہ سنّت ہمارے اُن رسولوں کے متعلق تھی جو ہم نے تجھ سے پہلے بھیجے اور تُو ہماری سنّت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
یہ سلوک ہمارے اس سلوک کے مطابق ہوگا جو ہم نے تجھ سے پہلے (گذرے ہوئے) اپنے رسولوں (کی قوموں) کے ساتھ کیا تھا اور تو ہمارے طریق عمل میں کوئی فرق نہیں پائے گا۔
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُوْدًا
(17۔ بني اسرائیل:79)
namaz fiqh tilawat tahajjud hifz taraweeh3 rakat7
►
سورج کے ڈھلنے سے شروع ہوکر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔ یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔
تو سورج کے ڈھلنے (کے وقت) سے لیکر رات کے خوب تاریک ہو جانے (کے وقت) تک (مختلف گھڑیوں میں) نماز کو عمدگی سے ادا کیا کر اور صبح کے وقت (قرآن) کے پڑھنے کو بھی (لازم سمجھ) صبح کے وقت (قرآن) کا پڑھنا یقیناً (اللہ کے حضور میں ایک) مقبول عمل ہے۔
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا
(17۔ بني اسرائیل:80)
namaz fiqh khamisas1 tilawat hifz taraweeh3 rakat7
►
اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجّد پڑھا کر۔ یہ تیرے لئے نفل کے طور پر ہوگا۔ قریب ہے کہ تیرا ربّ تجھے مقامِ محمود پر فائز کردے۔
اور رات کو بھی تو اس (قرآن) کے ذریعہ سے کچھ سو لینے کے بعد شب بیداری کیا کر‘ جو تجھ پر ایک زائد انعام ہے (اس طرح پر) بالکل متوقع ہے کہ تیرا رب تجھے حمد والے مقام پر کھڑا کر دے۔
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا
(17۔ بني اسرائیل:81)
hifz tilawat taraweeh3 rakat7
►
اور تُو کہہ اے میرے ربّ! مجھے اس طرح داخل کر کہ میرا داخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو اور مجھے اس طرح نکال کہ میرا نکلنا سچائی کے ساتھ ہو اور اپنی جناب سے میرے لئے طاقتور مددگار عطا کر۔
اور کہہ (کہ) اے میرے رب! مجھے نیک طور پر (دوبارہ مکہ میں) داخل کر اور ذکر نیک چھوڑنے والے طریق پر (مکہ سے) نکال اور اپنے پاس سے میرا کوئی مددگار (اور) گواہ مقرر کر۔
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا
(17۔ بني اسرائیل:82)
hifz tilawat taraweeh3 rakat7
►
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔ یقیناً باطل بھاگ جانے والا ہی ہے۔
اور سب لوگوں سے کہہ دے (کہ بس اب) حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا۔
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
(17۔ بني اسرائیل:83)
tilawat hifz taraweeh3 rakat7
►
اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفاءہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی اور چیز میں نہیں بڑھاتا۔
اور ہم قرآن میں آہستہ آہستہ وہ (تعلیم) اتار رہے ہیں جو مومنوں کے لئے (تو) شفا اور رحمت (کا موجب) ہے اور ظالموں کو صرف خسارہ میں بڑھاتی ہے۔
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوْسًا
(17۔ بني اسرائیل:84)
tilawat hifz taraweeh3 rakat7
►
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور اپنا پہلو کتراتے ہوئے پرے ہٹ جاتا ہے اور جب اسے کوئی شر پہنچے تو سخت مایوس ہوجاتاہے۔
اور جب ہم انسان پر انعام کریں تو وہ روگردان ہو جاتا ہے اور اپنے پہلو کو (اس سے) دور کر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچے تو وہ بہت ہی مایوس ہو جاتا ہے۔
قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِهٖ ؕ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰی سَبِیْلًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:85)
tilawat hifz taraweeh3 rakat7
►
تُو کہہ دے کہ ہر ایک اپنی جِبِلّت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ پس تمہارا ربّ اسے سب سے زیادہ جاننے والا ہے جو رستے کے اعتبار سے سب سے زیادہ صحیح ہے۔
تو (انہیں) کہہ (کہ ہم میں سے) ہر ایک (فریق) اپنے (اپنے) طریق پر عمل کر رہا ہے پس (اپنے رب پر ہی فیصلہ چھوڑ دو کیونکہ) تمہارا رب اسے جو زیادہ صحیح راستہ پر ہے بہتر جانتا ہے (اس لئے اس کا فیصلہ سچے کی سچائی کو ضرور روشن کر دے گا)
وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِهٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًا ۙ
(17۔ بني اسرائیل:87)
para15 easy
►
اور اگر ہم چاہتے تو یقیناً اُسے واپس لے جاتے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے پھر تُو اپنے لئے ہمارے خلاف اس پر کوئی کارساز نہ پاتا۔
اوراگر ہم چاہیں تو یقیناً جو (کلام الٰہی) ہم نے تجھ پروحی (کے ذریعہ سے نازل) کیا ہے اسے (دنیا سے) اٹھالیں۔ پھرتواس امرمیں اپنے لئے ہمارے خلاف کوئی کارساز نہیں پاسکے گا۔
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ کَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا
(17۔ بني اسرائیل:89)
quran
►
تُو کہہ دے کہ اگر جِنّ و انس سب اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی مثل لے آئیں تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے خواہ ان میں سے بعض بعض کے مددگار ہوں۔
تو (انہیں) کہہ (کہ) اگر تمام انسان (بھی) اور جن (بھی) اس قرآن کی نظیر لانے کے لئے جمع ہو جائیں تو (پھر بھی) وہ اس کی نظیر نہیں لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار (ہی کیوں نہ) بن جائیں۔
قُلْ لَّوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلًا
(17۔ بني اسرائیل:96)
para15 easy
►
تُو کہہ دے کہ اگر زمین میں اطمینان سے چلنے پھرنے والے فرشتے ہوتے تو یقیناً ہم ان پر آسمان سے فرشتہ ہی بطور رسول اُتارتے۔
تو (انہیں) کہہ (کہ) اگر زمین پر فرشتے (بستے) ہوتے جو زمین پر اطمینان سے چلتے پھرتے تو (اس صورت میں) ہم ضرور ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو (ہی) رسول بنا کر اتارتے۔
قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِ ؕ وَ کَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:101)
para15 easy
►
تُو کہہ دے کہ اگر تم میرے ربّ کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تب بھی تم ان کے خرچ ہو جانے کے ڈر سے انہیں روک رکھتے۔ اور انسان یقیناً بہت کنجوس واقع ہوا ہے۔
تو (اُنہیں) کہہ (کہ) اگر تم میرے رب کی رحمت کے (غیر متناہی) خزانوں کے (بھی) مالک ہوتے تو (بھی) تم (ان کے) خرچ ہو جانے کے ڈر سے (انہیں) روک ہی رکھتے اور انسان بڑا ہی کنجوس ہے۔
وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا
(17۔ بني اسرائیل:107)
para15 diff
►
اور قرآن وہ ہے کہ اسے ہم نے ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تُو اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے بڑی قوّت اور تدریج کے ساتھ اتارا ہے۔
اور ہم نے (اسے) قرآن بنایا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کیے ہیں (یعنی سورتیں بنائی ہیں) تا کہ تو اسے (سہولت اور) آہستگی کے ساتھ لوگوں کو پڑھ کر سنا سکے اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔
وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا ٛ
(17۔ بني اسرائیل:110)
para15 easy
►
وہ ٹھوڑیوں کے بَل روتے ہوئے گِر جاتے تھے اور یہ اُنہیں انکساری میں بڑھا دیتا تھا۔
اور جب وہ ماتھے کے بل گر جاتے ہیں تو روتے جاتے ہیں اور (قرآن) ان کی فروتنی کو (اور بھی) بڑھاتا ہے۔
قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا
(17۔ بني اسرائیل:111)
para15 diff
►
تُو کہہ دے کہ خواہ اللہ کو پکارو خواہ رحمان کو۔ جس نام سے بھی تُم پکارو سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔ اور اپنی نماز نہ بہت اُونچی آواز میں پڑھ اور نہ اُسے بہت دھیما کر اور اِن کے درمیان کی راہ اختیار کر۔
تو (انہیں) کہہ (کہ) خواہ تم (خدا کو) اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن (کہہ کر) جو (نام لے کر) بھی تم (اسے) پکارو پکار سکتے ہو کیونکہ تمام (بہتر سے بہتر) صفات اسی کی ہیں اور تو اپنے دعائیہ الفاظ اونچی آواز سے نہ کہا کر اور نہ انہیں (بہت) آہستہ کہا کر۔ بلکہ اس کے درمیان (درمیان) کوئی راہ اختیار (کیا) کر۔
وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرْهُ تَکْبِیْرًا (ع)
(17۔ بني اسرائیل:112)
para15 diff
►
اور کہہ کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے کبھی کوئی بیٹا اختیار نہیں کیا اور جس کی بادشاہت میں کبھی کوئی شریک نہیں ہوا اور کبھی اُسے ایسے ساتھی کی ضرورت نہیں پڑی جو (گویا) کمزوری کی حالت میں اُس کا مددگار بنتا۔ اور تُو بڑے زور سے اُس کی بڑائی بیان کیا کر۔
اور (سب دنیا کو سنا سنا کر) کہہ (کہ) ہر تعریف کا مستحق اللہ ہی ہے‘ جو نہ تو اولاد رکھتا ہے اور نہ حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کو عاجز پاکر کوئی (اور اس پر رحم کرکے) اس کا دوست بنتا ہے (بلکہ جو بھی اس کا دوست ہوتا ہے اس سے مدد لینے کے لئے ہوتا ہے) اس کی خوب (اچھی طرح) بڑائی بیان کر۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(18۔ الكهف:1)
hifz tilawat kahaf jumma
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِهِ الْکِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا ٜؕ
(18۔ الكهف:2)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اُتاری اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی۔
ہر تعریف کا اللہ ہی مستحق ہے جس نے (یہ) کتاب اپنے بندہ پر اتاری ہے‘ اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی۔
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًا ۙ
(18۔ الكهف:3)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
مضبوطی سے قائم اور قائم رکھنے والا تاکہ وہ اس کی طرف سے سخت عذاب سے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیکیاں بجا لاتے ہیں خوشخبری دے کہ ان کے لئے بہت اچھا اجر (مقدر) ہے۔
(اور اس نے اسے) سچ سے معمور اور صحیح راہنمائی کرنے والی بنا کر اتارا ہے تا کہ وہ (لوگوں کو) اس کی (یعنی اللہ کی) طرف سے (آنے والے) ایک سخت عذاب سے آ گاہ کرے اور ایمان لانے والوں کو جو نیک (اور ایمان کے مناسب حال) کام کرتے ہیں بشارت دے کہ ان کے لئے (خدا کی طرف سے) اچھا اجر (مقدر) ہے۔
مَّاکِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًا ۙ
(18۔ الكهف:4)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
وہ اس (اجر کے مقام) میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ٭
(18۔ الكهف:5)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
اور وہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔
اور (نیز اُس نے اس لئے اسے اُتارا ہے کہ) تا وہ ان لوگوں کو (آنے والے عذاب سے) آ گاہ کرے جو یہ کہتے ہیں (کہ) اللہ نے (فلاں شخص کو) بیٹا بنا لیا ہے۔
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ ؕ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا
(18۔ الكهف:6)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں،نہ ہی ان کے آباءو اجداد کو تھا۔ بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔ وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
اُنہیں اس بارہ میں کچھ بھی تو علم (حاصل) نہیں اور نہ ان کے بڑوں کو (اس بارہ میں کوئی علم تھا) یہ بہت بڑی (خطرناک) بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے (بلکہ) وہ محض جھوٹ بول رہے ہیں۔
فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا
(18۔ الكهف:7)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
پس کیا تُو شدتِ غم کے باعث اُن کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کردے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں۔
(کیا) اگر وہ اس عظیم الشان کلام پر ایمان نہ لائیں تو تو ان کے غم میں شدت افسوس کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا
(18۔ الكهف:8)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
یقیناً ہم نے جو کچھ زمین پر ہے اس کے لئے زینت کے طور پر بنایا ہے تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں سے کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔
جو کچھ (روئے) زمین پر (موجود) ہے اسے یقیناً ہم نے اس کی زینت (کا موجب) بنایا ہے تا کہ ہم ان کا امتحان لیں (کہ) ان میں سے سب سے اچھا کام کرنے والا کون ہے۔
وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا ؕ
(18۔ الكهف:9)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
اور یقیناً ہم جو کچھ اس پر ہے اسے خشک بنجر مٹی بنا دیں گے۔
اور جو کچھ اس (زمین) پر (موجود) ہے اسے ہم یقیناً (ایک دن) مٹا کر ویران سطح بنا دیں گے۔
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ ۙ کَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا
(18۔ الكهف:10)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
کیا تُو گمان کرتا ہے کہ غاروں والے اور تحریروں والے ہمارے نشانات میں سے ایک عجب نشان تھے؟
کیا تو سمجھتا ہے کہ کہف اور رقیم والے (لوگ) ہمارے نشانوں میں سے کوئی اچنبھا (نشان) تھے (جن کی نظیر پھر کبھی نہ پائی جا سکتی ہو)
اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّ هَیِّیٴْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا
(18۔ الكهف:11)
hifz tilawat kahaf jumma taraweeh
►
جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تو انہوں نے کہا اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر اور ہمارے معاملے میں ہمیں ہدایت عطاکر۔
جب وہ (چند) نوجوان وسیع غار میں پناہ گزیں ہوئے اور (دعا کرتے ہوئے) انہوں نے کہا (کہ) اے ہمارے رب ہمیں اپنے حضور سے (خاص) رحمت عطا کر اور ہمارے لئے ہمارے (اس) معاملہ میں رشد و ہدایت کا سامان مہیا کر۔
فَضَرَبْنَا عَلٰۤی اٰذَانِهِمْ فِی الْکَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا ۙ
(18۔ الكهف:12)
para15 diff
►
پس ہم نے غار کے اندر ان کے کانوں کو چند سالوں تک (باہر کے حالات سے) منقطع رکھا۔
جس پر ہم نے اس وسیع غار میں چند گنتی کے سالوں کے لئے انہیں (بیرونی حالات کے) سننے سے محروم کر دیا۔
ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا (ع)
(18۔ الكهف:13)
para15 easy
►
پھر ہم نے اُنہیں اٹھایا تاکہ ہم جان لیں کہ دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ صحیح شمار کرتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ (اس میں) رہے۔
پھر ہم نے انہیں اٹھایا‘ تا کہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں) ٹھہرے رہے تھے اسے (مسیح کے متبع) دونوں گروہوں میں سے زیادہ محفوظ رکھنے والا کونسا گروہ ہے۔
وَّ رَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۠ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا
(18۔ الكهف:15)
para15 easy
►
اور ہم نے ان کے دلوں کو تقویت بخشی جب وہ کھڑے ہوئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہمارا ربّ تو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے۔ ہم ہرگز اس کے سوا کسی کومعبود نہیں پکاریں گے۔ اگر ایسا ہو تو ہم یقیناً اعتدال سے ہٹی ہوئی بات کہنے والے ہوں گے۔
اور جب وہ (اپنے وطن سے نکلنے کے لئے) اٹھے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا۔ تب انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا (کہ) ہمارا رب (وہ ہے جو) آسمانوں اور زمین کا (بھی) رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز (کبھی) نہیں پکاریں گے ورنہ ہم ایک حق سے دور بات کہنے والے ہوں گے۔
هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَۃً ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا ؕ
(18۔ الكهف:16)
para15 diff
►
یہ ہیں ہماری قوم، جنہوں نے اس کے سوا معبود بنا رکھے ہیں۔ وہ کیوں ان کے حق میں کوئی غالب روشن دلیل نہیں لاتے؟ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑے۔
ان لوگوں یعنی ہماری قوم نے اس (معبود برحق) کو چھوڑ کر (اپنے لئے) اور معبود بنا لیے ہیں۔ وہ ان کے ثبوت میں کیوں کوئی روشن دلیل نہیں لاتے۔ پھر (وہ کیوں نہیں سمجھتے) کہ جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر ظالم (اور) کون (ہوسکتا) ہے۔
وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْ وٗۤا اِلَی الْکَهْفِ یَنْشُرْ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَیُهَیِّیٴْ لَکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَقًا
(18۔ الكهف:17)
para15 diff
►
پس جبکہ تم نے اُنہیں اور ان کو جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں ترک کردیا ہے تو غار کی طرف پناہ لینے کے لئے چلے جاؤ۔ تمہارا ربّ تمہارے لئے اپنی رحمت پھیلائے گا اور تمہارا کام تمہارے لئے آسان کر دے گا۔
اور (اس وقت) جب (کہ) تم نے ان سے اور (نیز) اللہ کے سوا جس چیز کی (بھی) وہ پرستش کرتے ہیں (اس سے) کنارہ کشی کرلی ہے تو (اب) تم اس وسیع پہاڑی پناہ گاہ میں بیٹھے رہو (ایسا کرو گے تو) تمہارا رب اپنی رحمت (کی کوئی راہ) تمہارے لئے کھول دے گا اور تمہارے لئے تمہارے اس معاملہ میں کوئی سہولت کا سامان مہیا کر دے گا۔
وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ ٭ۖ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ ٭ۖ وَ کَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا
(18۔ الكهف:19)
para15 easy
►
اور تُو انہیں جاگا ہوا گمان کرتا ہے جبکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم انہیں دائیں اور بائیں ادلتے بدلتے رہتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنی اگلی دونوں ٹانگیں پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو انہیں جھانک کر دیکھے تو ضرور پیٹھ پھیر کر ان سے بھاگ جائے اور ان کے رعب سے بھر جائے۔
اور (اے مخاطب) تو انہیں بیدار سمجھتا ہے حالانکہ وہ سوتے ہیں اور ہم انہیں دائیں طرف (بھی) پھرائیں گے اور بائیں طرف (بھی) اور ان کا کتا (بھی ان کے ساتھ ساتھ) صحن میں ہاتھ پھیلائے (موجود) رہے گا۔ اگر تو ان کے حالات سے آگاہ ہو جائے تو تو ان سے بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیر لے اور ان کی وجہ سے رعب سے بھر جائے۔
وَ کَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْهَا ۚ٭ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤی اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا
(18۔ الكهف:22)
para15 easy
►
اور اسی طرح ہم نے ان کے حالات پر آگاہی بخشی تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ انقلاب کی گھڑی وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ آپس میں بحث کر رہے تھے تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ان پر کوئی یادگار عمارت تعمیر کرو۔ اُن کا ربّ ان کے بارہ میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ اُن لوگوں نے جو اپنے فیصلہ میں غالب آگئے کہا کہ ہم تو یقیناً ان پر ایک مسجد تعمیر کریں گے۔
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حالات) سے آگاہ کیا ہے تا انہیں معلوم ہو کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اور (یہ بھی) کہ اس (موعودہ) گھڑی (کے آنے )میں کچھ بھی شک نہیں (اور اس وقت کو بھی یاد کرو) جب وہ اپنے کام کے متعلق آپس میں گفتگو کرنے لگے اور انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا (کہ) تم ان (کے رہنے کے مقام) پر کوئی عمارت بناٶ۔ ان کا رب ان (کے حال) کو سب سے بہتر جانتا تھا (آخر) جنہوں نے اپنے قول میں غلبہ حاصل کر لیا انہوں نے کہا (کہ) ہم (تو) ان (کے رہنے کے مقام) پر مسجد (ہی) بنائیں گے۔
سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُهُمْ کَلْبُهُمْ ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَۃٌ سَادِسُهُمْ کَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّ ثَامِنُهُمْ کَلْبُهُمْ ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ ۬۟ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا ۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا (ع)
(18۔ الكهف:23)
para15 easy
►
ضرور وہ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور وہ بن دیکھے تخمیناً کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا اور کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ تُو کہہ دے میرا ربّ ہی ان کی گنتی کو بہتر جانتا ہے اور (اس کے سوا) کوئی ایک بھی انہیں نہیں جانتا ۔ پس تُو ان کے بارہ میں سرسری گفتگو کے سوا بحث نہ کر اور ان سے متعلق ان میں سے کسی سے بھی کوئی بات نہ پوچھ۔
وہ (لوگ جو حقیقت حال سے بے خبر ہیں ضرور) غیب کے متعلق اٹکل پچو باتیں کرتے ہوئے (کبھی) کہیں گے (کہ وہ صرف) تین (آدمی) تھے۔ جن کے ساتھ چوتھا ان کا کتا تھا اور (کبھی یہ) کہیں گے (کہ وہ) پانچ تھے جن کے ساتھ چھٹا ان کا کتا تھا اور (ان میں سے بعض یوں بھی) کہیں گے (کہ وہ) سات تھے اور ان کے ساتھ آٹھواں ان کا کتا تھا۔ تو (انہیں) کہہ (کہ) ان کی صحیح گنتی کو اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے۔ (اور) تھوڑے لوگوں کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا۔ پس تو ان کے متعلق مضبوط بحث کے سوا کوئی بحث نہ کر۔ اور ان کے بارہ میں ان میں سے کسی سے حقیقت حال دریافت نہ کر۔
وَ لَبِثُوْا فِیْ کَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا
(18۔ الكهف:26)
para15 easy
►
اور وہ اپنی غار میں تین سو سال کے دوران گنتی کے چند سال رہے اور اس پر انہوں نے مزید نو کا اضافہ کیا۔
اور (بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ) وہ اپنی وسیع پناہ گاہ میں تین سو سال تک رہے تھے اور (اس عرصہ پر) نو (سال) انہوں نے اور بڑھائے تھے۔
وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْهُمْ ۚ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰٮهُ وَ کَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا
(18۔ الكهف:29)
para15 diff
►
اور تُو خود بھی صبر کر اُن لوگوں کے ساتھ جو صبح بھی اور شام کو بھی اپنے ربّ کو، اس کی رضا چاہتے ہوئے، پکارتے ہیں۔ اور تیری نگاہیں اُن سے تجاوز نہ کریں اس حال میں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو۔ اور اس کی پیروی نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی ہوس کے پیچھے لگ گیا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھ جو اپنے رب کو اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے صبح و شام پکارتے ہیں اور تیری نظریں ان کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہ نکل جائیں (اور اگر تو ایسا کرے گا تو) تو ورلی زندگی کی زینت چاہے گا اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہو اور اس نے اپنی گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کی ہو اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو اس کی فرمانبرداری مت کر۔
وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ ۟ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا
(18۔ الكهف:30)
kalam khamisas1 qatl murtad all khamisas2
►
اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے ربّ کی طرف سے ہو۔ پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے سو انکار کر دے۔ یقیناً ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیرے میں لے لیں گی اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو اُنہیں ایسا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے چہروں کو جھلسا دے گا۔ بہت ہی بُرا مشروب ہے اور بہت ہی بُری آرام گاہ ہے۔
اور (لوگوں کو) کہہ دے (کہ) یہ سچائی تمہارے رب کی طرف سے ہی (نازل ہوئی) پس جو چاہے (اس پر) ایمان لائے اور جو چاہے (اس کا) انکار کر دے (مگر یہ یاد رکھے کہ) ہم نے ظالموں کے لئے یقیناً ایک آگ تیار کی ہے جس کی چار دیواری نے (اب بھی) انہیں گھیرا ہوا ہے اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا (اور) چہروں کو جھلس دے گا۔ وہ بہت بری پینے کی چیز ہوگی۔ اور وہ (آگ) برا ٹھکانا ہے۔
وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْهِ عَلٰی مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا
(18۔ الكهف:43)
para15 diff
►
اور اس کے پھل کو (آفات کے ذریعہ) گھیر لیا گیا اور وہ اُس سرمایہ پر اپنے دونوں ہاتھ ملتا رہ گیا جو اُس نے اُس میں لگایا تھا جبکہ وہ (باغ) اپنے سہاروں سمیت زمین بوس ہو چکا تھا اور وہ کہنے لگا اے کاش! میں کسی کو اپنے ربّ کا شریک نہ ٹھہراتا۔
اور اس کے تمام پھلوں کو تباہ کر دیا گیا اور وہ (یعنی باغ کا مالک) اس حال میں کہ وہ (باغ) اپنے سہاروں پر گرا ہوا تھا اس (مال) کی وجہ سے جو اس نے اس (باغ کی ترقی) کے لئے خرچ کیا تھا اپنے دونوں ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا (کہ) اے کاش! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا۔
وَ عُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍۭ ۫ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا
(18۔ الكهف:49)
para15 easy
►
اور وہ تیرے ربّ کے حضور صف بہ صف پیش کئے جائیں گے۔ یقیناً تم ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جس طرح ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا لیکن تم گمان کر بیٹھے تھے کہ ہم ہرگز تمہارے لئے کوئی موعود دن مقرر نہیں کریں گے۔
اور وہ صف باندھے ہوئے تیرے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) دیکھ لو تم اسی طرح کمزوری کی حالت میں) ہمارے پاس آگئے ہو جس حالت میں ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (اور تم یہ امید نہیں رکھتے تھے) بلکہ تمہیں دعویٰ تھا کہ ہم تمہارے لئے کوئی وعدہ (کے پورا ہونے) کی ساعت مقرر نہیں کریں گے۔
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا
(18۔ الكهف:51)
para15 easy
►
اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنوں میں سے تھا پس وہ اپنے ربّ کے حکم سے رُوگردان ہوگیا۔ تو کیا تم اسے اور اس کے چیلوں کو میرے سوا دوست پکڑ بیٹھو گے جبکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ ظالموں کے لئے یہ تو بہت ہی برا بدل ہے۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ تم آدم کے ساتھ (مل کر) سجدہ کرو۔ اس پر انہوں نے (تو اس حکم کے مطابق اس کے ساتھ ہوکر) سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) وہ جنوں میں سے تھا سو اس نے (اپنی فطرت کے مطابق) اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ (اے میرے بندو)! کیا تم مجھے چھوڑ کر اس (شیطان) کو اور اس کی نسل کو (اپنے) دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں وہ (شیطان) ظالموں کے لئے بہت ہی برا بدلہ ثابت ہوا ہے۔
مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ ۪ وَ مَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا
(18۔ الكهف:52)
shiaism fazail matain multi kalam rabias1 para15 easy
►
میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش پر گواہ نہیں بنایا اور نہ ہی ان کی اپنی پیدائش پر اور نہ ہی میں ایسا ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست و بازو بناؤں۔
میں نے نہ انہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش (کے موقعہ) پر حاضر کیا تھا اور نہ (خود) ان کی (اپنی) جانوں کی پیدائش کے موقعہ پر۔ اور نہ ہی میں گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) مددگار بنا سکتا تھا۔
وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَکَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا
(18۔ الكهف:53)
para15 easy
►
اور جس دن وہ کہے گا کہ اُنہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کیا کرتے تھے تو وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کی دیوار حائل کر دیں گے۔
اور (اس دن کو بھی یاد کرو) جس دن وہ (خدائے برتر مشرکوں کو) کہے گا کہ اب تم میرے (ان) شریکوں کو بلاٶ جن کے (شریک ہونے کے) متعلق تم دعویٰ کرتے تھے جس پر وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں (کوئی) جواب نہیں دیں گے اور ان کے (اور ان کے تجویز کردہ شریکوں کے) درمیان ہم ایک آڑ (حائل) کر دیں گے۔
وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ کَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا
(18۔ الكهف:55)
caliph4 nabisaw biography nawafil namaz para15 easy
►
اور ہم نے خوب پھیر پھیر کر لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں جبکہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے یقیناً ہر ایک (ضروری) بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے اور (ایسا کیوں نہ کرتے کہ) انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔
وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰی وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا
(18۔ الكهف:56)
para15 easy
►
اور کسی چیز نے لوگوں کونہیں روکا کہ جب ہدایت ان کے پاس آجائے تو ایمان لے آئیں اور اپنے ربّ سے استغفار کریں سوائے اس کے کہ (وہ چاہتے تھے کہ) ان پر پہلوں کی تاریخ دہرائی جائے یا پھر ان کی طرف تیزی سے بڑھنے والا عذاب انہیں آ پکڑے۔
اور ان لوگوں کو جب ان کے پاس ہدایت آئی تو (اس پر) ایمان لانے اور اپنے رب سے بخشش چاہنے سے صرف اس بات نے روکا کہ پہلے لوگوں کی سی حالت ان پر (بھی) آئے‘ یا پھر عذاب ان کے سامنے آکھڑا ہو۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَی الْهُدٰی فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا
(18۔ الكهف:58)
para15 easy
►
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جسے اس کے ربّ کی آیات یاد دلائی گئیں پھر بھی وہ ان سے منحرف ہو گیا اور اُسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ یقیناً ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلائے بھی تو ہرگز کبھی ہدایت نہیں پائیں گے۔
اور اس شخص سے زیادہ ظالم اور کون (ہوسکتا) ہے۔ جسے اس کے رب کے نشانوں کے ذریعہ سمجھایا گیا (لیکن) پھر (بھی) وہ ان سے روگردان ہو گیا اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے (کما کر) آگے بھیجا تھا اسے اس نے بھلا دیا۔ ان لوگوں کے دلوں پر ہم نے یقیناً کئی پردے ڈال دئے ہیں تا کہ وہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کر دی ہے) اور اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلائے تو (وہ تجھ سے اس قدر حسد رکھتے ہیں کہ) اس صورت میں وہ ہدایت کو (بھی) کبھی قبول نہیں کریں گے۔
وَ رَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَۃِ ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا
(18۔ الكهف:59)
para15 easy
►
اور تیرا ربّ بہت بخشنے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔ اگر وہ ان کا مؤاخذہ کرے اس پر جو وہ کَسَب کرتے ہیں تو ان پر جلد تر عذاب لے آئے لیکن ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس سے بچ نکلنے کی وہ کوئی راہ نہیں پائیں گے۔
اور تیرا رب بہت ہی بخشنے والا (اور بہت ہی) رحمت کرنے والا ہے۔ اگر وہ ان کے (برے) اعمال کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنا چاہتا تو وہ ان پر فوراً عذاب نازل کر دیتا۔ (مگر وہ ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کے لئے ایک میعاد (مقرر) ہے جس سے ورے (یعنی پیشتر اس کے وہ عذاب کو بھگت لیں) وہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا
(18۔ الكهف:62)
para15 easy
►
پس جب وہ دونوں اُن (سمندروں) کے سنگم تک پہنچے تو وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اُس نے چپکے سے سمندر کے اندر اپنی راہ بنالی۔
پس جب وہ (دونوں) ان (دونوں سمندروں) کے باہم ملنے کی جگہ پر (یعنی قرب زمانہ نبوی تک) پہنچے تو وہ اپنی مچھلی (وہاں) بھول گئے۔ جس پر اس (مچھلی) نے تیزی سے بھاگتے ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی۔
قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ ٭ۖ فَارْتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِهِمَا قَصَصًا ۙ
(18۔ الكهف:65)
para15 easy
►
اس نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پس وہ دونوں اپنے نقوشِ قدم کاکھوج لگاتے ہوئے لَوٹ گئے۔
اس نے کہا (کہ) یہی وہ (مقام) ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر وہ اپنے پاٶں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔
فَانْطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَهَا ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا
(18۔ الكهف:72)
para15 easy
►
پس وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ ایسی کشتی میں سوار ہوئے جسے (بعد ازاں) اُس نے اکھیڑ پکھیڑ دیا۔ اس نے کہا کیا تُو نے اس لئے اسے توڑا پھوڑا ہے کہ تُو اس کے اہل کو غرق کر دے؟ یقیناً تُو نے ایک بہت بُری بات کی ہے۔
پھر وہ (دونوں وہاں سے) چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس (خدا کے برگزیدہ) نے اس میں شگاف کر دیا۔ اس پر اس (موسیٰ) نے کہا (کہ) کیا آپ نے اس لئے شگاف کیاہے کہ آپ اس کے اندر (بیٹھ کر جانے) والوں کو غرق کر دیں۔ آپ نے یقیناً (یہ) ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے۔
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا
(18۔ الكهف:74)
para15 easy
►
اس نے کہا جو میں بھول گیا اُس کا مجھ سے مواخذہ نہ کر اور میرے بارہ میں سختی کرتے ہوئے مجھے مشقت میں نہ ڈال۔
اس پر اس (موسیٰ) نے کہا (کہ اس دفعہ) آپ مجھ پر گرفت نہ کریں۔ کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو) بھول گیا تھا اور آپ میری (اس) بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔
فَانْطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّکْرًا
(18۔ الكهف:75)
para15 easy
►
وہ دونوں پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اُس نے اُسے قتل کر دیا۔ اس نے کہا کیا تُو نے ایک معصوم جان کو جس نے کسی کی جان نہیں لی قتل کر دیا ہے؟ یقیناً تو نے ایک سخت ناپسندیدہ بات کی ہے۔
پھر وہ (دونوں وہاں سے) چل پڑے۔ یہاں تک کہ وہ جب ایک لڑکے کو ملے تو اس (خدا کے بندہ) نے اسے مار ڈالا۔ (اس پر) اس نے (یعنی موسیٰ نے) کہا (کہ) کیا (یہ سچ نہیں کہ) آپ نے (اس وقت) ایک پاکباز (اور بے گناہ) شخص کو بغیر کسی (کے خون) کے بدلہ کے (ناحق ہی) مار ڈالا ہے آپ نے یقیناً (یہ) بہت برا کام کیا ہے۔
الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَـآءٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَ کَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا (ع)
(18۔ الكهف:102)
hifz tilawat kahaf jumma
►
جن کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی بھی توفیق نہیں رکھتے تھے۔
(وہ کافر) جن کی آنکھیں میرے ذکر (یعنی قرآن کریم) کی طرف سے (غفلت کے) پردہ میں تھیں۔ اور وہ سننے کی طاقت (بھی) نہیں رکھتے تھے۔
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا
(18۔ الكهف:103)
hifz tilawat kahaf jumma
►
پس کیا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا گمان کرتے ہیں کہ وہ میری بجائے میرے بندوں کو اپنے ولی بنا لیں گے؟ یقیناً ہم نے کافروں کے لئے مہمانی کے طور پر جہنم تیار کر رکھی ہے۔
(تو) کیا (یہ سب کچھ دیکھ کر) پھر (بھی) وہ لوگ جنہوں نے کفر (کا طریق) اختیار کیا ہے (یہ) سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو مددگار بنا سکیں گے۔ ہم نے کافروں کے انعام (یعنی بدلہ) کے طور پر جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ؕ
(18۔ الكهف:104)
hifz tilawat kahaf jumma
►
کہہ دے کہ کیا ہم تمہیں اُن کی خبر دیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والے ہیں۔
ُتو (اُنہیں) کہہ (کہ) کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا
(18۔ الكهف:105)
hifz tilawat kahaf jumma
►
جن کی تمام تر کوششیں دنیوی زندگی کی طلب میں گم ہوگئیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ صنعت کاری میں کمال دکھا رہے ہیں۔
(یہ وہ لوگ ہیں) جن کی (تمام تر) کوشش اس ورلی زندگی میں ہی غائب ہو گئی ہے اور (اس کے ساتھ) وہ (یہ بھی) سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا
(18۔ الكهف:106)
hifz tilawat kahaf jumma
►
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات اور اس کی لقاءسے انکار کر دیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور قیامت کے دن ہم ان لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے نشانوں کا اور اس سے ملنے کا انکار کر دیا ہے اور اس لئے ان کے (تمام) اعمال گر کر (اسی دنیا میں) رہ گئے ہیں‘ چنانچہ قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وقعت نہیں دیں گے۔
ذٰلِکَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا
(18۔ الكهف:107)
hifz tilawat kahaf jumma
►
یہ ہے ان کی جزا جہنم بسبب اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا بیٹھے۔
یہ ان کا بدلہ (یعنی) جہنم اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے کفر (کا طریق) اختیار کیا۔ اور میرے نشانوں اور میرے رسولوں کو (اپنی) ہنسی کا نشانہ بنالیا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۙ
(18۔ الكهف:108)
hifz tilawat kahaf jumma
►
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے ان کے لئے مہمانی کے طور پر فردوس کی جنتیں ہیں۔
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کیے ہیں ان کا ٹھکانا یقیناً فردوس نامی بہشت ہوں گے۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا
(18۔ الكهف:109)
hifz tilawat kahaf jumma
►
وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں۔ کبھی ان سے جدا ہونا نہیں چاہیں گے۔
وہ ان میں رہتے چلے جائیں گے (اور) ان سے الگ ہونا نہیں چاہیں گے۔
قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا
(18۔ الكهف:110)
hifz tilawat kahaf jumma
►
کہہ دے کہ اگر سمندر میرے ربّ کے کلمات کے لئے روشنائی بن جائیں تو سمندر ضرور ختم ہو جائیں گے پیشتر اس کے کہ میرے ربّ کے کلمات ختم ہوں خواہ ہم بطور مدد اس جیسے اور (سمندر) لے آئیں۔
تو انہیں کہہ (کہ) اگر (ہرایک) سمندر میرے رب کی باتوں (کے لکھنے) کے لئے روشنائی بن جاتا تو میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے (ہر ایک) سمندر (کا پانی) ختم ہو جاتا گو (اسے) زیادہ کرنے کے لئے ہم اتنا (ہی) اور (پانی سمندر میں) لا ڈالتے۔
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا (ع)
(18۔ الكهف:111)
hifz tilawat kahaf jumma
►
کہہ دے کہ میں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے ربّ کی لقاءچاہتا ہے وہ (بھی) نیک عمل بجا لائے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
تو (انہیں) کہہ (کہ) میں صرف تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں‘ (فرق صرف یہ ہے کہ) میری طرف (یہ) وحی (نازل) کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی (حقیقی) معبود ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک (اور مناسب حال) کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا
(19۔ مريم:34)
shahid tafseer
►
اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کرکے مبعوث کیا جاؤں گا۔
اور جس دن میں پیدا ہوا تھا اس دن بھی مجھ پر سلامتی نازل ہوئی تھی اور جب میں مروں گا اور جب مجھے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا (اس وقت بھی مجھ پر سلامتی نازل کی جائے گی)
وَ اضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَۃً اُخْرٰی ۙ
(20۔ طه:23)
shahid muwazna1
►
اور تُو اپنے ہاتھ کو اپنے پہلو میں بھینچ لے، وہ بغیر بیماری کے سفید نکلے گا۔ یہ دوسرا نشان ہے۔
اور اپنے ہاتھ کو بغل میں دبالے۔ جب تو اسے نکالے گا تو وہ سفید ہوگا مگر بغیر کسی بیماری کے‘ یہ ایک اور نشان ہوگا۔
مِنْهَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی
(20۔ طه:56)
fiqha shahid
►
اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹادیں گے اور اسی سے تمہیں ہم دوسری مرتبہ نکالیں گے۔
ہم نے اسی (زمین) سے تم کو پیدا کیا ہے‘ اور اسی میں تم کو لوٹا دیں گے اور اسی میں سے تم کو دوسری دفعہ نکالیں گے۔
وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ ۚ وَ اِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ
(20۔ طه:91)
shahid tafseer
►
حالانکہ ہارون ان سے پہلے سے کہہ چکا تھا کہ اے میری قوم! تم اس کے ذریعہ آزمائے گئے ہو اور یقیناً تمہارا ربّ بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔ پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔
اور ہارون نے (موسیٰ کے واپس آنے سے بھی) پہلے ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم! تم کو اس (بچھڑے) کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا ہے اور تمہارا رب تو رحمن (خدا) ہے پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کو مانو (اور شرک نہ کرو)
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۬ۙ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ ؕ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی
(20۔ طه:132)
kalam khamisas2
►
اور اپنی آنکھیں اس عارضی متاع کی طرف نہ پسار جو ہم نے اُن میں سے بعض گروہوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے طور پر عطا کی ہے تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔ اور تیرے ربّ کا رزق بہت اچھا اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
اور ہم نے جو کچھ ان میں سے بعض لوگوں کو دنیوی زندگی کی زیبائش کے سامان دے رکھے ہیں تو اس کی طرف اپنی دونوں آنکھوں کی نظر کو پھیلا پھیلا کر مت دیکھ‘ (کیونکہ یہ سامان ان کو اس لئے دیا گیا ہے) کہ ہم اس کے ذریعہ سے ان کی آزمائش کریں‘ اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق سب سے اچھا اور باقی رہنے والا ہے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
(21۔ الأنبياء:8)
shahid kalam imkan nabuwat
►
اور تجھ سے پہلے ہم نے کبھی کسی کو نہیں بھیجا مگر مَردوں کو جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ پس اہلِ ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
اور ہم تجھ سے پہلے (بھی ہمیشہ) مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا کرتے تھے اور ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے اور (اے منکرو) اگر تم (یہ بات) نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ کر دیکھ لو۔
وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
(21۔ الأنبياء:92)
shahid tafseer
►
اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس میں اپنے امر میں سے کچھ پھونکا اور اُسے اور اس کے بیٹے کو ہم نے تمام جہانوں کے لئے ایک نشان بنا دیا۔
اور اس عورت کو بھی (یاد کر) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پس ہم نے اس پر اپنا کچھ کلام نازل کیا اور اس کو اور اس کے بیٹے کو دنیا کے لئے ایک نشان بنایا۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
(21۔ الأنبياء:108)
hifz
►
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔
اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ
(22۔ الحج:36)
hifz
►
ان لوگوں کو کہ جب اللہ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے تو ان کے دل مرعوب ہو جاتے ہیں اور جو اس تکلیف پر جو انہیں پہنچی ہو صبر کرنے والے ہیں اور نماز کو قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو کہ جب اللہ کا نام ان کے سامنے لیا جائے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی (خوش خبری دیدے) جو اپنے پر نازل ہونے والی مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے (ہماری خوشنودی کے لئے) اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُ ۣ ۙ
(22۔ الحج:40)
jihad muslim momin salisas1 tareekh kalam khamisas2 shahid
►
اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے۔ اور یقیناً اللہ اُنکی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔
الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ کَثِیْرًا ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ
(22۔ الحج:41)
jihad muslim momin shiaism rabias1 kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
(یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع اُن میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بِھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ اور یقیناً اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔
(یہ وہ لوگ ہیں) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا اور اگر اللہ ان (یعنی کفار) میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے (شرارت سے) باز نہ رکھتا تو گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے برباد کر دئے جاتے اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔ اللہ یقیناً بہت طاقتور (اور) غالب ہے۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ
(22۔ الحج:42)
shiaism momin attribute rabias1
►
جنہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں اور ہر بات کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
یہ (یعنی مہاجر مسلمان) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں طاقت بخشیں تو وہ نمازوں کو قائم کریں گے اور زکٰوتیں دیں گے اور نیک باتوں کا حکم دیں گے اور بری باتوں سے روکیں گے۔ اور سب کاموں کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔
اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ ۚ
(22۔ الحج:76)
kalam khamisas1 malaikatullah kaam shahid faizan nabuwat
►
اللہ فرشتوں میں سے رسول چنتاہے اور انسانوں میں سے بھی۔ یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنے والا ہے۔
اللہ فرشتوں میں سے اپنے رسول منتخب کرتا ہے اور (اسی طرح) انسانوں میں سے (بھی) اللہ بہت (دعائیں) سننے والا (اور حالات کو) بہت دیکھنے والا ہے۔
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
(23۔ المؤمنون:116)
hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
پس کیا تم نے گمان کیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہرگز ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
کیا تم یہ سمجھا کرتے تھے کہ ہم نے تم کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے؟ اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاٶ گے۔
اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ ۚ اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ (ع)
(24۔ النور:27)
hifz kalam
►
نا پاک عورتیں نا پاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔ اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔ یہ لوگ اُس سے بری الذمہ ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ اِنہی کے لئے مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے۔
خبیث باتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث باتوں کے لئے ہیں اور پاک باتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک باتوں کے لئے ہیں۔ یہ سب لوگ ان باتوں سے جو (دشمن) کہتے ہیں پاک ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور معزز رزق (مقدر) ہے۔
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ
(24۔ النور:31)
shahid tafseer
►
مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔ یقیناً اللہ، جو وہ کرتے ہیں، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
تو مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں‘ یہ ان کے لئے بہت پاکیزگی کا موجب ہوگا۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح خبردار ہے۔
وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ ۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
(24۔ النور:32)
kalam hifz shahid tafseer
►
اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔ اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی (جنسی) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔ اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر) وہ ظاہر کردیا جائے جو (عورتیں عموماً) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔ اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے جو آپ ہی آپ بے اختیار ظاہر ہوتی ہو۔ اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینہ پر سے گذار کر اور اس کو ڈھانک کر پہنا کریں‘ اور وہ صرف اپنے خاوندوں‘ یا اپنے باپوں‘ یا اپنے خاوندوں کے باپوں‘ یا اپنے بیٹوں‘ یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں‘ یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں‘ یا اپنی بہنوں کے بیٹوں‘یا اپنی (ہم کفو) عورتوں‘ یا جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے ہیں یا ایسے ماتحت مردوں پر جو ابھی جوان نہیں ہوئے‘ یا ایسے بچوں پر جن کو ابھی عورتوں کے خاص تعلقات کا علم حاصل نہیں ہوا‘ اپنی زینت ظاہر کریں (ان کے سوا کسی پر ظاہر نہ کریں) اور اپنے پاٶں (زور سے زمین پر) اس لئے نہ مارا کریں کہ وہ چیز ظاہر ہو جائے جس کو وہ اپنی زینت سے چھپا رہی ہیں‘ اور اے مومنو! سب کے سب اللہ کی طرف رجوع کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاٶ۔
اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّهَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ؕ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۙ
(24۔ النور:36)
noor tilawat1 taraweeh3 rakat8
►
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔ وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہو۔ وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔ وہ (چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔ اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ بھی چھوا ہو۔ یہ نور علیٰ نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔
اللہ آسمانوں کا بھی نور ہے اور زمین کا بھی۔ اس کے نور کی کیفیت یہ ہے جیسے کہ ایک طاق ہو جس میں ایک دیا پڑا ہو (اور وہ) دیا ایک شیشے کے گلوب کے نیچے ہو (اور) وہ گلوب ایسا چمکدار ہو گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے (اور) وہ (چراغ) ایک ایسے برکت والے درخت زیتون (کے تیل) سے جلایا جارہا ہو کہ وہ (درخت) نہ شرقی ہو نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل خواہ اسے آگ نہ بھی چھوئی ہو بھڑک اٹھے (یہ چراغ) بہت سے نوروں کا مجموعہ (معلوم ہوتا) ہے اللہ اپنے نور کے لئے جن کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے (تمام ضروری) باتیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ ہر ایک چیز کو خوب جانتا ہے۔
فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ ۙ
(24۔ النور:37)
noor tilawat1 taraweeh3 rakat8
►
ایسے گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے اِذن دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔
یہ (دیے) ایسے گھروں میں ہیں جن کے اونچا کیے جانے کا خدا نے حکم دے دیا ہے اور ان میں خدا کا نام لیا جاتا ہے (اور)ان میں صبح و شام تسبیح کرتے رہتے ہیں۔
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ ٭ۙ
(24۔ النور:38)
noor tilawat1 taraweeh3 rakat8
►
ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل (خوف سے) الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔
کچھ مرد۔ جن کو اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے سے اور زکٰوۃ کے دینے سے نہ تجارت اور نہ سودا بیچنا غافل کرتا ہے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پلٹ جائیں گی۔
لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ
(24۔ النور:39)
noor tilawat1 taraweeh3 rakat8
►
تا کہ اللہ اُنہیں اُن کے بہترین اعمال کے مطابق جزا دے جو وہ کرتے رہے ہیں اور اپنے فضل سے اُنہیں مزید بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہتر سے بہتر جزا دے گا اور ان کو اپنے فضل سے (مال و اولاد میں) بڑھا دے گا اور اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
(24۔ النور:53)
hifz
►
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کا تقویٰ اختیار کریں وہ بامراد ہو جاتے ہیں۔
قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
(24۔ النور:55)
hifz taraweeh
►
کہہ دے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم پھر جاؤ تو اُس پر صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے جو اُس پر ڈالی گئی ہے اور تم پر بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی تم پر ڈالی گئی ہے۔ اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اور رسول پر کھول کھول کر پیغام پہنچانے کے سوا کچھ ذمہ داری نہیں۔
تو کہہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو اس (رسول) پر صرف اس کی ذمہ داری ہے جو اس کے ذمہ لگایا گیا ہے اور تم پر اس کی ذمہ واری ہے جو تمہارے ذمہ لگایا گیا ہے اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پا جاٶ گے اور رسول کے ذمہ تو صرف بات کو کھول کر پہنچا دینا ہے۔
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ؕ وَ مَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(24۔ النور:56)
kalam khamisas2 shahid taraweeh
►
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔
اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا۔ اور جو دین اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے وہ ان کے لئے اُسے مضبوطی سے قائم کر دے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد وہ ان کے لئے امن کی حالت تبدیل کر دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے (اور) کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جو لوگ اس کے بعد بھی انکار کریں گے وہ نافرمانوں میں سے قرار دیئے جائیں گے۔
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ
(24۔ النور:57)
hifz taraweeh
►
اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور تم سب نمازوں کو قائم کرو اور زکٰوتیں دو‘ اور اس رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا کَبِیْرًا
(25۔ الفرقان:53)
rabias1 kalam shiaism
►
پس کافروں کی پیروی نہ کر اور اس (قرآن) کے ذریعہ اُن سے ایک بڑا جہاد کر۔
پس تو کافروں کی بات نہ مان اور اس (قرآن) کے ذریعہ سے ان سے بڑا جہاد کر۔
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
(25۔ الفرقان:64)
tafseer khamisas1 paper
►
اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو (جواباً) کہتے ہیں ”سلام“۔
اور رحمن کے (سچے) بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر آرام سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ (لڑتے نہیں بلکہ) کہتے ہیں کہ ہم توتمہارے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا
(25۔ الفرقان:73)
momin attribute
►
اور وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔
اور وہ لوگ بھی (اللہ کے بندے ہیں) جو جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے اور جب لغو باتوں کے پاس سے گذرتے ہیں تو بزرگانہ طور پر (بغیر ان میں شامل ہونے کے) گذر جاتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا
(25۔ الفرقان:74)
kalam khamisas1 momin aqal shadi hifz
►
اور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے ربّ کی آیات یاد کروائی جاتی ہیں تو ان پر وہ بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔
اور وہ لوگ بھی کہ ان کے رب کی آیات جب انہیں یاد دلائی جائیں تو ان سے بہروں اور اندھوں کا معاملہ نہیں کرتے۔
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا
(25۔ الفرقان:75)
shadi hifz
►
اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔
اور وہ لوگ بھی (رحمن کے بندے ہیں) جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔
اُولٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا ۙ
(25۔ الفرقان:76)
shadi hifz
►
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اس باعث کہ انہوں نے صبر کیا بالاخانے بطور جزا دئیے جائیں گے اور وہاں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا اور سلام پہنچائے جائیں گے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے نیکی پر قائم رہنے کی وجہ سے (بہشت میں) بالا خانے دیئے جائیں گے اور ان کو اس میں دعائیں دی جائیں گی اور سلامتی کے پیغام پہنچائے جائیں گے۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا
(25۔ الفرقان:77)
shadi hifz
►
وہ ہمیشہ اُن (جنتوں) میں رہنے والے ہوں گے۔ وہ کیا ہی اچھی ہیں عارضی ٹھکانے کے طور پر بھی اور مستقل ٹھکانے کے طور پر بھی۔
وہ ان میں رہتے چلے جائیں گے۔ وہ (جنت) عارضی قرار گاہ کے طور پر بھی بڑی اچھی ہے اور مستقل قرار گاہ کے طور پر بھی (بڑی اچھی ہے)
قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُکُمْ ۚ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا (ع)
(25۔ الفرقان:78)
shadi hifz
►
تُو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا ربّ تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا ۔ پس تم اُسے جھٹلاچکے ہو سو ضرور اس کا وبال تم سے چمٹ جانے والا ہے۔
(اے رسول)! تو ان سے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پروا ہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا (اور استغفار) نہ ہو پس جبکہ تم نے (پیغام الٰہی کو) جھٹلا دیا تو (اب) اس کا عذاب (تم سے) چمٹا چلا جائے گا۔
لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ
(26۔ الشعراء:4)
tafseer khamisas1 paper
►
کیا تو اپنی جان کو اس لئے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔
شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔
وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ ۪ۙ
(26۔ الشعراء:81)
momin mushkilaat
►
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو مجھے شفا دیتا ہے۔
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ ؕ
(26۔ الشعراء:117)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
انہوں نے کہا اے نوح! اگر تُو باز نہ آیا تو ضرور تو سنگسار کئے جانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
(ان کافروں نے) کہا اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو تو سنگسار کیے جانے والوں میں شامل ہو جائے گا (یعنی ہم تجھے سنگسار کر دیں گے) ۔
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ
(26۔ الشعراء:168)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
انہوں نے کہا اے لوط! اگر تُو باز نہ آیا تو یقیناً تُو (اس بستی سے) نکالے جانے والوں میں سے ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا‘ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو تو ملک بدر کیے جانے والوں میں شامل ہو جائے گا۔
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ؕ
(27۔ النمل:60)
tafseer khamisas1 paper
►
کہہ دے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور سلام ہو اس کے بندوں پر جنہیں اس نے چن لیا۔ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں وہ شریک ٹھہراتے ہیں؟
تو کہہ دے ہر تعریف کا اللہ (ہی) مستحق ہے اور اس کے وہ بندے جن کو اس نے چن لیا ہو ان پر ہمیشہ سلامتی نازل ہوتی ہے۔ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو وہ (اس کا) شریک قرار دیتے ہیں؟
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا کَانُوْا خٰطِئِیْنَ
(28۔ القصص:9)
taqdeer allah khamisas1 kalam paper
►
پس فرعون کے خاندان نے (اذنِ الٰہی کے مطابق) اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن (ثابت ہو) اور غم کا موجب بن جائے۔ یقیناً فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر خطاکار تھے۔
سو اس کے بعد اس (موسیٰ) کو فرعون کے خاندان میں سے ایک نے اٹھا لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن وہ ان کے لئے دشمن ثابت ہوا اور غم کا موجب بنا۔ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر غلطی میں مبتلا تھے۔
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَکَ ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ ٭ۖ عَسٰۤی اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
(28۔ القصص:10)
taqdeer allah khamisas1 kalam paper
►
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میرے لئے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک (ثابت) ہوگا، اسے قتل نہ کرو۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں یہ فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں جبکہ وہ کچھ شعور نہیں رکھتے ہوں گے۔
اور فرعون (کے خاندان) کی (ایک) عورت نے کہا‘ یہ تیرے لئے اور میرے لئے آنکھ کی ٹھنڈک کا موجب ہوگا۔ اس کو قتل نہ کرو ممکن ہے کہ ایک دن وہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں اور ان کو اصل حقیقت معلوم نہ تھی۔
وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ۫ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ۫ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ
(28۔ القصص:56)
laghw momin attribute qatl murtad kalam liberal
►
اور جب وہ کسی لغو بات کو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال۔ تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کی طرف رغبت نہیں رکھتے۔
اور (یہودیوں میں سے مسلمان ہونے والے جب) کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اُس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے کافرو ہمارے عمل ہمارے لئے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لئے ہیں۔ تم پر سلامتی نازل ہو (یعنی خدا تمہیں ایمان نصیب کرے) ہم جاہلوں سے تعلق رکھنا پسند نہیں کرتے۔
اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰی وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
(28۔ القصص:86)
taqdeer allah kalam khamisas1 paper
►
یقیناً وہ جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے تجھے ضرور ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔ تُو کہہ دے میرا ربّ اسے زیادہ جانتا ہے جو ہدایت لے کر آتا ہے اور اسے بھی جو کھلی کھلی گمراہی میں ہے۔
وہ خدا جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ تجھے اس مقام کی طرف لوٹا کر لائے گا جس کی طرف لوگ لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔ تو کہہ دے‘ میرا رب (اس کو بھی) خوب جانتا ہے جو ہدایت پر قائم ہوتا ہے اور (اس کو بھی) جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے۔
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ ؕ وَ لَذِکْرُ اللّٰهِ اَکْبَرُ ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ
(29۔ العنكبوت:46)
quran namaz nabisaw importance
►
تُو کتاب میں سے، جو تیری طرف وحی کیا جاتا ہے، پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر۔ یقیناً نماز بے حیائی اور ہر ناپسندیدہ بات سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر یقیناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
اس کتاب (یعنی قرآن) میں سے جو کچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اُسے پڑھ (اور لوگوں کو پڑھ کر سنا) اور نماز کو (اس کی سب شرائط کے ساتھ) ادا کر۔ یقیناً نماز سب بری اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد یقیناً (اور سب کاموں سے) بڑی ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ٭ۖ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰـهُنَا وَ اِلٰـهُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
(29۔ العنكبوت:47)
tabligh naiki conversation
►
اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر اُس (دلیل) سے جو بہترین ہو سوائے اُن کے جنہوں نے اُن میں سے ظلم کیا ہو۔ اور (اُن سے) کہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اُس پر (بھی) جو تمہاری طرف اتارا گیا اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔
اور اہل کتاب سے کبھی بحث نہ کرو مگر اعلیٰ اور مضبوط دلیل کے ساتھ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظلم کرنے والے ہوں (ان کو الزامی جواب دے سکتے ہو) اور ان سے کہو کہ جو ہم پر نازل ہوا ہے ہم اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جو تم پر نازل ہوا ہے اس پر بھی۔ اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (ع)
(29۔ العنكبوت:70)
khamisas1 tafseer kalam khamisas2
►
اور وہ لوگ جو ہمارے بارہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیں گے اور یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اور وہ (لوگ) جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اللہ یقیناً محسنوں کے ساتھ ہے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ؕ وَ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ
(30۔ الروم:48)
taqdeer allah kalam khamisas1 paper
►
اوریقیناً ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسولوں کو اُنکی قوم کی طرف بھیجا۔ پس وہ ان کے پاس کھلے کھلے نشانات لے کر آئے تو ہم نے ان سے جنہوں نے جرم کئے انتقام لیا اور ہم پر مومنوں کی مدد کرنا فرض ٹھہرتا تھا۔
اور ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے تھے پس وہ ان کے پاس کھلے کھلے نشان لے کر آئے اور ہم نے مجرموں سے مناسب بدلہ لیا‘ اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔
وَ لَوْ تَرٰۤی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ
(32۔ السجدة:13)
frage
►
اور اگر تُو دیکھ لے جب مجرم اپنے ربّ کے حضور اپنے سرجھکائے ہوں گے (اور کہیں گے کہ) اے ہمارے ربّ! ہم نے دیکھا اور سن لیا۔ پس ہمیں لوٹا دے تاکہ ہم نیک اعمال کریں۔ ہم ضرور یقین کرنے والے (ثابت) ہوں گے۔
اور اگر تجھے وہ حالت معلوم ہو جائے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے اپنا سر ڈالے کھڑے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب! ہم نے (جو کچھ تو نے کہا تھا) دیکھ لیا اور سن لیا۔ پس اب تو ہمیں واپس لوٹا دے تا کہ تیرے حکم کے مطابق عمل کریں۔ ہم اب تیری بات پر پوری طرح یقین کر چکے ہیں۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
(32۔ السجدة:18)
kalam khamisas1 hayat akhrat paper
►
پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ اُن کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ ُچھپا کر رکھا گیا ہے۔ اُس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور (حقیقت یہ ہے کہ) کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان (مومنوں) کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْکُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ ؓ
(32۔ السجدة:28)
check
►
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم بنجرزمین کی طرف پانی کو بہائے لئے آتے ہیں پھر اس (پانی) کے ذریعہ سبزہ نکالتے ہیں جس سے ان کے جانور بھی اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔ پس کیا وہ دیکھتے نہیں؟
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ایک بنجر زمین کی طرف پانی کو ہانک کر لے جاتے ہیں پھر اس (پانی) کے ذریعہ سے کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے جانور بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں کیا وہ دیکھتے نہیں؟
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤی اَوْلِیٰٓئِکُمْ مَّعْرُوْفًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا
(33۔ الأحزاب:7)
shahid kalam
►
نبی مومنوں پر اُن کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے اور اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور جہاں تک رِحمی رشتے والوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض اللہ کی کتاب میں (مندرج احکام کے مطابق) بعض پر اوّلیت رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے۔ سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں سے (بطور احسان) کوئی نیک سلوک کرو۔ یہ سب باتیں کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہیں۔
نبی مومنوں سے ان کی اپنی جانوں کی نسبت بھی زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رحمی رشتہ داروں میں سے اللہ کی کتاب کے مطابق بعض بعض سے زیادہ قریبی ہیں۔ بہ نسبت (غیر رشتہ دار) مومنوں اور مہاجروں کے ہاں تمہارا اپنے دوستوں سے نیک سلوک کرنا (جائز ہے) یہ بات قرآن میں لکھی جا چکی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا ؕ وَ کَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا ۚ
(33۔ الأحزاب:10)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تمہارے پاس لشکر آئے تھے تو ہم نے ان کے خلاف ایک ہَوا بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جن کو تم دیکھ نہیں رہے تھے۔ اور یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس پر گہری نظر رکھنے والا ہے۔
اے مومنو! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جبکہ تم پر کچھ لشکر چڑھ آئے تھے اور ہم نے ان کی طرف ایک ہوا بھیجی تھی اور ایسے لشکر بھیجے تھے جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔
اِذْ جَآءُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا
(33۔ الأحزاب:11)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
جب وہ تمہارے پاس تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نشیب کی طرف سے بھی آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (اچھلتے ہوئے) ہنسلیوں تک جا پہنچے اور تم لوگ اللہ پر طرح طرح کے گمان کررہے تھے۔
(ہاں! اس وقت کو یاد کرو) جبکہ تمہارے مخالف تمہاری اوپر کی طرف سے بھی (یعنی پہاڑی کی طرف سے بھی) اور نیچے کی طرف سے بھی (یعنی نشیب کی طرف سے بھی) آگئے تھے اور جبکہ آنکھیں گھبرا کر ٹیڑھی ہو گئی تھیں اور دل دھڑکتے ہوئے حلق تک آگئے تھے اور تم اللہ کے متعلق مختلف شکوک میں مبتلا ہو گئے تھے۔
هُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا
(33۔ الأحزاب:12)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
وہاں مومن ابتلاءمیں ڈالے گئے اور سخت (آزمائش کے) جھٹکے دیئے گئے۔
اس وقت مومن ایک (بڑے) ابتلا میں ڈال دئیے گئے تھے اور سخت ہلا دئیے گئے تھے۔
وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا
(33۔ الأحزاب:13)
kalam khamisas1 taqdeer allah
►
اور جب منافقوں نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض تھا، کہا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے دھوکے کے سوا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جبکہ منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی‘ کہنے لگ گئے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے صرف ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰهَ کَثِیْرًا ؕ
(33۔ الأحزاب:22)
filbadih
►
یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔
تمہارے لئے (یعنی ان لوگوں کے لئے) جو اللہ اور اخروی دن سے ملنے کی امید رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے (جس کی انہیں پیروی کرنی چاہیئے) ۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ۫ۖ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا ۙ
(33۔ الأحزاب:24)
sahaba fazail nabisaw
►
مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے سچا کر دکھایا۔ پس اُن میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی مَنّت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز (اپنے طرز عمل میں) کوئی تبدیلی نہیں کی۔
ان مومنوں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچا کر دیا۔ پس بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا (یعنی لڑتے لڑتے مارے گئے) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (ع)
(33۔ الأحزاب:41)
khatmenabuwat hifz sanias1 kalam all shahid
►
محمد تمہارے (جیسے) مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتَم ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
نہ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (نہ ہونگے) لیکن اللہ کے رسول ہیں بلکہ (اس سے بھی بڑھ کر) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
(33۔ الأحزاب:57)
kalam khamisas1 malaikatullah kalam filbadih
►
یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
اللہ یقیناً اس نبی پر اپنی رحمت نازل کر رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی (یقیناً اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں پس) اے مومنو! تم بھی اس نبی پر درود بھیجتے اور ان کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو اور (خوب جوش و خروش سے) ان کے لئے سلامتی مانگتے رہا کرو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ۙ
(33۔ الأحزاب:71)
khutba nikah khamisas2 fiqh
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف سیدھی بات کیا کرو۔
اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور وہ بات کہو جو پیچدار نہ ہو‘ (بلکہ سچی ہو)
یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا
(33۔ الأحزاب:72)
khutba nikah khamisas2 fiqh
►
وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقیناً اُس نے ایک بڑی کامیابی کو پالیا۔
(اگر تم ایسا کرو گے) تو اللہ تمہارے اعمال کو درست کر دے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
(34۔ سبأ:29)
tafseer khamisas1 paper
►
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
اور ہم نے تجھ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف (جن میں سے ایک بھی تیرے حلقئہ رسالت سے باہر نہ رہے ایسا) رسول بنا کر بھیجا ہے جو (مومنوں کو) خوشخبری دیتا اور (کافروں کو) ہوشیار کرتا ہے لیکن انسانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔
قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ۙ
(37۔ الصافات:96)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
اس نے (اُن سے) کہا کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جن کو تم (خود) تراشتے ہو؟
(ابراہیم نے ان سے) کہا‘ کیا تم اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے (بتوں) کی پوجا کرتے ہو۔
وَ اللّٰهُ خَلَقَکُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ
(37۔ الصافات:97)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
حالانکہ اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسے بھی جو تم بناتے ہو۔
حالانکہ اللہ نے ہی تم کو بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی۔
اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ
(37۔ الصافات:151)
kalam khamisas1 malaikatullah paper
►
یا پھر ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں؟
کیا ہم نے فرشتوں کو مادہ کی شکل میں پیدا کیا اور وہ ان کی پیدائش کے گواہ ہیں؟
وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ ۙ
(37۔ الصافات:165)
kalam khamisas1 malaikatullah paper
►
اور (فرشتے کہیں گے کہ) ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک معلوم مقام مقرر ہے۔
اور ہم سب کے لئے ایک مقررہ مقام ہے۔
وَ هَلْ اَتٰٮکَ نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۙ
(38۔ ص:22)
lernen
►
اور کیا تیرے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی ہے جب انہوں نے محل کی فصیل کو پھلانگا؟
اور کیا تمہیں ان دشمنوں کی خبر معلوم ہے جبکہ وہ دیوار پھاند کر اندر آگئے تھے۔
رُدُّوْهَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
(38۔ ص:34)
lernen
►
(اس نے کہا) انہیں دوبارہ میرے سامنے لاؤ۔ پس وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر (پیار سے) ہاتھ پھیرنے لگا۔
(اس نے کہا) ان کو میری طرف واپس لاٶ (جب وہ آئے) تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تھپکنے لگا۔
هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ
(38۔ ص:60)
lernen
►
یہ وہ لشکر ہے جو تمہارے ساتھ (اس میں) داخل ہونے والا ہے۔ ان کے لئے کوئی مرحبا نہیں۔ یقیناً وہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔
(ان میں سے ایک جماعت ایک پہلی جماعت کی طرف اشارہ کرکے کہے گی) یہ بھی ایک گروہ ہے جو تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہوگا (اور) ان کو کوئی خوش آمدید کہنے والا نہ ہوگا وہ ضرور جہنم میں داخل ہونگے۔
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰهِ ؕ ذٰلِکَ هُدَی اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ
(39۔ الزمر:24)
lernen
►
اللہ نے بہترین بیان ایک ملتی جلتی (اور) بار بار دُہرائی جانے والی کتاب کی صورت میں اتارا ہے۔ جس سے ان لوگوں کی جِلدیں جو اپنے ربّ کا خوف رکھتے ہیں لرزنے لگتی ہیں پھر ان کی جِلدیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف (مائل ہوتے ہوئے) نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس کے ذریعہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
اللہ وہ ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب اتاری ہے‘ جو متشابہ بھی ہے۔ اور اس کے مضمون نہایت اعلیٰ ہیں۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے جسموں کے رونگٹے اس کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے چمڑے اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔ یہ (قرآن) اللہ کی ہدایت ہے (یعنی قرآن جس ہدایت کا مالک ہے وہ اللہ کی ہدایت ہے) جس کے ذریعہ سے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ قرار دے دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ
(40۔ غافر/ مومن:8)
kalam khamisas1 malaikatullah kaam haqiqat paper
►
وہ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے گرد ہیں وہ اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں جو ایمان لائے۔ اے ہمارے ربّ! تُو ہر چیز پر رحمت اور علم کے ساتھ محیط ہے۔ پس وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی ان کو بخش دے اور ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا۔
وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس کی پاکیزگی بھی بیان کرتے ہیں اور اس (حمد) پر پورا ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کے لئے استغفار کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! ہر ایک چیز کا تو نے اپنی رحمت اور علم سے احاطہ کیا ہوا ہے پس توبہ کرنے والوں کو اور اپنے راستے کے اوپر چلنے والوں کو معاف فرما اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
فِی الْحَمِیْمِ ۬ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ ۚ
(40۔ غافر/ مومن:73)
lernen
►
کھولتے ہوئے پانی میں۔ بعد ازاں وہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔
گرم پانی میں گھسیٹے جائیں گے‘ پھر دوزخ میں جھونک دئیے جائیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ
(41۔ فصلت:31)
kalam khamisas1 malaikatullah tilawat1 hameem taraweeh
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا ربّ ہے، پھر استقامت اختیار کی، اُن پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت (کے ملنے) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔
وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے‘ اُن پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلطی کا غم نہ کرو اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاٶ‘ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَکُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُکُمْ وَ لَکُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ ؕ
(41۔ فصلت:32)
kalam khamisas1 malaikatullah tilawat1 hameem taraweeh
►
ہم اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرتے ہو۔
ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور اس (جنت) میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے تم کو ملے گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی تم کو اس میں ملے گا۔
نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ (ع)
(41۔ فصلت:33)
tilawat1 hameem taraweeh
►
یہ بہت بخشنے والے (اور) بار بار رحم کرنے والے کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہے۔
یہ بخشنے والے (اور) بے انتہا کرم کرنے والے خدا کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہوگا۔
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَی اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ
(41۔ فصلت:34)
tilawat1 hameem taraweeh
►
اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجا لائے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ
(41۔ فصلت:35)
tilawat1 hameem taraweeh
►
نہ اچھائی برائی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے (برابر)۔ ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔ تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ اور تو برائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شخص کہ اس کے اور تیرے درمیان عداوت پائی جاتی ہے‘ وہ تیرے حسن سلوک کو دیکھ کر ایک گرم جوش دوست بن جائے گا۔
وَ مَا یُلَقّٰهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا ۚ وَ مَا یُلَقّٰهَاۤ اِلَّا ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ
(41۔ فصلت:36)
taraweeh
►
اور یہ مقام عطا نہیں کیا جاتا مگر اُن لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا۔ اور یہ مقام عطا نہیں کیا جاتا مگر اُسے جو بڑے نصیب والا ہو۔
اور (باوجود ظلموں کے سہنے کے) اس (قسم کے سلوک) کی توفیق صرف انہی کو ملتی ہے جو بڑے صبر کرنے والے ہیں اور یا پھر ان کو ملتی ہے جن کو (خدا کی طرف سے نیکی کا) ایک بہت بڑا حصہ ملا ہو۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ
(41۔ فصلت:38)
hadith khamisas2 tauheed
►
اور اُس کے نشانات میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں۔ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم صرف اُسی کی عبادت کرتے ہو۔
اور اس کے نشانوں میں سے رات بھی ہے اور دن بھی اور سورج بھی ہے اور چاند بھی۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو۔ بلکہ صرف اللہ کو جس نے ان دونوں کو پیدا کیا ہے‘ سجدہ کرو اگر تم پکے موحد ہو۔
اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَکَآءِیْ ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍ ۚ
(41۔ فصلت:48)
lernen
►
ساعت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور بعض قسموں کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے۔ نہ ہی کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم کے مطابق۔ اور یاد کرو اُس دن کو جب وہ بآواز بلند ان سے پوچھے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں؟ تو وہ کہیں گے ہم تجھے مطّلع کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی گواہ نہیں۔
قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے (یعنی قیامت کا کامل علم اسی کو حاصل ہے) اور گابھوں میں سے (بھی) کوئی پھل نہیں نکلتے اور عورتیں بھی اپنے پیٹ میں کچھ نہیں اٹھاتیں اور نہ جنتی ہیں مگر وہ اللہ کو معلوم ہوتا ہے جس دن وہ لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے ہم نے تجھے کھول کر کہہ دیا ہے‘ کہ ہم میں سے کوئی اس بات کا گواہ نہیں۔
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَی اللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
(42۔ الشورى:41)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
اور بدی کا بدلہ، کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔ پس جو کوئی معاف کرے بشرطیکہ وہ اصلاح کرنے والاہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے ۔ یقیناً وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
کہ بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مدنظر رکھے تو اس کو بدلہ دینا اللہ کے ذمے ہوتا ہے وہ (اللہ) ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
لِلّٰهِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّکُوْرَ ۙ
(42۔ الشورى:50)
shahid kalam imkan nabuwat
►
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطا کرتا ہے۔
اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے‘ جس کو چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے‘ جس کو چاہتا ہے‘ لڑکے دیتا ہے۔
وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ
(42۔ الشورى:52)
kalam shahid
►
اور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی پیغام رساں بھیجے جو اُس کے اِذن سے جو وہ چاہے وحی کرے ۔ یقیناً وہ بہت بلند شان (اور) حکمت والا ہے۔
اور کسی آدمی کی یہ حیثیت نہیں کہ اللہ اس سے وحی کے سوا یا پردے کے پیچھے بولنے کے سوا کسی اور صورت سے کلام کرے یا (اس کی طرف فرشتوں میں سے) رسول (بناکر) بھیجے جو اس کے حکم سے جو کچھ وہ کہے بات پہنچا دیں۔ وہ بڑی شان والا (اور) حکمتوں کا واقف ہے۔
وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ
(43۔ الزخرف:37)
lernen
►
اور جو رحمان کے ذکر سے اعراض کرے ہم اسکے لئے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں۔ پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے ۔
اور جو کوئی رحمن (خدا) کے ذکر سے منہ موڑ لیتا ہے ہم اس پر ایک شیطانی خصلت وجود کو مستولی کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ہر وقت کا ساتھی ہو جاتا ہے۔
وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ۘ
(43۔ الزخرف:89)
tafseer khamisas1 paper
►
اور اس کے یہ کہنے کے وقت کو یاد کرو کہ اے میرے ربّ! یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
اور ہم کو اس (رسول) کے اس قول کی قسم! جب اس نے کہا تھا اے میرے رب! یہ قوم تو ایسی ہے کہ کسی سچائی پر ایمان نہیں لاتی۔
فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (ع)
(43۔ الزخرف:90)
tafseer khamisas1 paper
►
پس تو ان سے درگزر کر اور کہہ: ”سلام“۔ پس عنقریب وہ جان لیں گے ۔
سو (ہم نے اس کو جواب دیا تھا کہ) ان سے درگذر کر اور صرف اتنی دعا کر دیا کر کہ تم پر خدا کی سلامتی نازل ہو‘ تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ (حق کو) جاننے لگ جائیں گے۔
وَ اتْرُکِ الْبَحْرَ رَهْوًا ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ
(44۔ الدخان:25)
lernen
►
اور سمندر کو چھوڑ دے جبکہ وہ ابھی پرسکون ہو۔ یقیناً وہ ایک ایسا لشکر ہیں جو غرق کئے جائیں گے۔
اور سمندر کو ٹیلوں پر سے گذرتے ہوئے پیچھے چھوڑ جا (یعنی ٹیلوں پر سے چلتے چلتے سمندر سے گذر جا) وہ (یعنی فرعون کا) لشکر تو غرق ہی ہو کر رہے گا۔
خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰی سَوَآءِ الْجَحِیْمِ ٭ۖ
(44۔ الدخان:48)
lernen
►
اسے پکڑو اور پھر اُسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے وسط میں لے جاؤ۔
اور ہم فرشتوں سے کہیں گے اس گنہگار کو پکڑ لو۔ اور جہنم کے درمیان تک اس کو گھسیٹتے ہوئے لے جاٶ۔
تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ
(45۔ الجاثية:7)
kalam shahid sadaqat masihmaud
►
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تیرے سامنے حق کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں ۔ پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد پھر اَور کس بات پر وہ ایمان لائیں گے؟
یہ سب اللہ کے نشان ہیں جن کو ہم تیرے سامنے پوری سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں پھر (بتاٶ تو) اللہ اور اس کے نشانوں کے بعد وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔
مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ۬ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ؕ کَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ
(47۔ محمد:16)
kalam khamisas1 paper hayat akhrat
►
اُس جنت کی مثال جس کا متقیوں کو وعدہ دیا جاتا ہے (یہ ہے کہ) اُس میں کبھی متعفن نہ ہونے والے پانی کی نہریں ہیں اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزا متغیر نہیں ہوتا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے سراسرلذت ہے۔ اور نہریں ہیں ایسے شہد کی جو خالص ہے۔ اور ان کے لئے اُس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے عظیم مغفرت بھی۔ کیا (ایسے لوگ) اُس جیسے ہو سکتے ہیں جو آگ میں لمبے عرصہ تک رہنے والا ہو اور کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے پس وہ ان کی انتڑیاں کاٹ کر رکھ دے۔
متقیوں سے جن جنتوں کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں ایسے پانی کی نہریں ہونگی جس میں سڑنے کا مادہ نہیں ہوگا اور ایسی نہریں ہونگی جن میں ایسا دودھ چلتا ہوگا جس کا مزا کبھی نہیں بدلے گا (یعنی وہ بھی نہیں سڑے گا) اور ایسی شراب کی نہریں ہونگی جو پینے والوں کو مزے دار لگیں گی اور پاک و صاف شہد کی نہریں بھی ہونگی اور ان کو ان جنتوں میں ہر قسم کے پھل بھی ملیں گے اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت بھی ملے گی (کیا یہ جنتی) ان لوگوں کی طرح ہو سکتے ہیں جو کہ دیر تک آگ میں رہنے کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں اور جن کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهٖ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًا ؕ
(48۔ الفتح:29)
tilawat1 fath taraweeh
►
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اُسے دین (کے ہر شعبہ) پر کلیۃً غالب کردے۔ اور گواہ کے طور پر اللہ بہت کافی ہے۔
وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ تمام دینوں پر اس کو غالب کردے اور اللہ ہی کافی گواہ ہے۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰٮهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا ۫ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰٮۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ۚ۟ۛ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (ع)
(48۔ الفتح:30)
tilawat1 fath taraweeh
►
محمد رسول اللہ اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابل پر بہت سخت ہیں (اور) آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں ۔ سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔ یہ اُن کی مثال ہے جو تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال ایک کھیتی کی طرح ہے جو اپنی کونپل نکالے پھر اُسے مضبوط کرے پھر وہ موٹی ہوجائے اور اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہوجائے، کاشتکاروں کو خوش کردے تاکہ ان کی وجہ سے کفار کو غیظ دلائے۔ اللہ نے ان میں سے اُن سے، جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے، مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہواہے۔
محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں‘ لیکن آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔ وہ اللہ کے فضل اور رضا کی جستجو میں رہتے ہیں‘ ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان کے ذریعہ موجود ہے۔ یہ ان کی حالت تورات میں بیان ہوئی ہے اور انجیل میں ان کی حالت یوں بیان ہے کہ وہ ایک کھیتی کی طرح (ہوں گے) جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی۔ پھر اس کو (آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعہ سے) مضبوط کیا اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہوگئی۔ پھر اپنی جڑ پر مضبوطی سے قائم ہو گئی یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کفار ان کو دیکھ دیکھ کر جلیں گے۔ اللہ نے مومنوں اور ایمان کے مطابق عمل کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو مغفرت اور بڑا اجر ملے گا۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (ع)
(49۔ الحجرات:11)
kalam shiaism
►
مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
مومنوں کا رشتہ آپس میں صرف بھائی بھائی کا ہے پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان جو آپس میں لڑتے ہوں صلح کرا دیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَکُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ
(49۔ الحجرات:12)
kalam khamisas2
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (تم میں سے) کوئی قوم کسی قوم پر تمسخر نہ کرے۔ ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں)۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں ۔
اے مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے اسے حقیر سمجھ کو ہنسی مذاق نہ کیا کرے۔ ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو اور نہ (کسی قوم کی) عورتیں دوسری (قوم کی) عورتیں کو حقیر سمجھ کر ان سے ہنسی ٹھٹھا کیا کریں۔ ممکن ہے کہ وہ (دوسری قوم یا حالات والی) عورتیں ان سے بہتر ہوں اور نہ تم ایک دوسرے پر طعن کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے یاد کیا کرو‘ کیونکہ ایمان کے بعد اطاعت سے نکل جانا ایک بہت ہی برے نام کا مستحق بنا دیتا ہے (یعنی فاسق کا) اور جو بھی توبہ نہ کرے وہ ظالم ہوگا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ؕ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰکُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ
(49۔ الحجرات:14)
khamisas1 kalam taqdeer allah caste
►
اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متّقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔
اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ اللہ یقیناً بہت علم رکھنے والا (اور) بہت خبر رکھنے والا ہے۔
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰکِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
(49۔ الحجرات:15)
kalam khamisas1 qatl murtad paper khamisas2
►
بادیہ نشین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ تُو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں۔ جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو ان سے کہدے کہ تم حقیقتاً ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہا کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔ کیونکہ (اے اعراب) ابھی ایمان تمہارے دلوں میں حقیقتاً داخل نہیں ہوا۔ اور اے مومنو! اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کرو گے‘ تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی عمل بھی ضائع نہیں ہونے دے گا اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
(51۔ الذاريات:57)
taqdeer allah khamisas1 kalam paper
►
اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ؕ
(53۔ النجم:4)
malaikatullah kalam khamisas1 paper
►
اور وہ خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا۔
اور وہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا۔
اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ۙ
(53۔ النجم:5)
malaikatullah kalam khamisas1 paper
►
یہ تو محض ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے۔
بلکہ وہ (یعنی اس کا پیش کردہ کلام قرآن مجید) صرف خدا کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے۔
اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِکُمْ ۚ فَلَا تُزَکُّوْۤا اَنْفُسَکُمْ ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی (ع)
(53۔ النجم:33)
lernen
►
(یہ اچھے عمل والے) وہ لوگ ہیں جو سوائے سرسری لغزش کے بڑے گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں۔ یقیناً تیرا رب وسیع بخشش والا ہے۔ وہ تمہیں سب سے زیادہ جانتا تھا جب اس نے زمین سے تمہاری نشوونما کی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں محض جنین تھے۔ پس اپنے آپ کو (یونہی) پاک نہ ٹھہرایا کرو۔ وہی ہے جو سب سے زیادہ جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔
(یعنی) ایسے لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بدکاریوں سے بچتے رہتے ہیں مگر یہ کہ ذرا سا (گناہ کو) چھو جائیں (پھر پچھتانے لگیں) تیرا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔ وہ اس وقت سے تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماٶں کے پیٹ میں پوشیدہ تھے۔ پس اپنی جانوں کو پاک مت قرار دو۔ متقیوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ ۫ۖ
(54۔ القمر:12)
lernen
►
تب ہم نے مسلسل برسنے والے پانی کی صورت میں آسمان کے دَر کھول دیئے۔
جس پر ہم نے بادل کے دروازے ایک جوش سے بہنے والے پانی کے ذریعہ سے کھول دئیے۔
تَنْزِعُ النَّاسَ ۙ کَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ
(54۔ القمر:21)
lernen
►
جو لوگوں کو پچھاڑ رہی تھی گویا وہ جڑوں سے اُکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔
وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ پھینکتی تھی۔ گویا وہ کھجور کے ایسے تنے ہیں جن کے اندر کا گودا کھایا ہوا تھا۔
اَلرَّحْمٰنُ ۙ
(55۔ الرحمن:2)
taqdeer allah kalam khamisas1 paper
►
بے انتہا رحم کرنے والا اور بن مانگے دینے والا۔
(وہ) رحمن (خدا) ہی ہے۔
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ؕ
(55۔ الرحمن:3)
taqdeer allah kalam khamisas1 paper
►
اُس نے قرآن کی تعلیم دی۔
جس نے قرآن سکھایا ہے۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۙ
(55۔ الرحمن:15)
lernen
►
اس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح کی خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا ۔
انسان کو اس نے بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا ہے۔
یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِ ۚ
(55۔ الرحمن:36)
lernen
►
تم دونوں پر آگ کے شعلے برسائے جائیں گے اور ایک طرح کا دھواں بھی۔ پس تم دونوں بدلہ نہ لے سکو گے ۔
تم پر آگ کا ایک شعلہ گرایا جائے گا اور تانبا بھی (گرایا جائے گا) پس تم دونوں ہرگز غالب نہیں آسکتے۔
وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۙ
(56۔ الواقعة:30)
lernen
►
اور تہ بہ تہ (پھل والے) کیلوں (کے باغات) کے درمیان۔
اور کیلوں (کے باغوں) میں جن کے پھل ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہونگے۔
وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ۙ
(56۔ الواقعة:44)
lernen
►
اور ایسے سائے میں جو سیاہ دھوئیں سے پیدا ہوتا ہے ۔
اور ایسے سایہ میں رہیں گے جو سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا۔
یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰٮکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۚ
(57۔ الحديد:13)
hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
جس دن تُو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں طرف تیزی سے چل رہا ہے۔ تمہیں آج کے دن مبارک ہوں ایسی جنتیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
جس دن تو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے بھی اور ان کے دائیں طرف بھی بھاگتا جائے گا (اور خدا اور اس کے فرشتے کہیں گے) آج تمہیں قسم قسم کے باغوں کی خوش خبری دی جاتی ہے (ایسے باغ) جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ (بشارت پانے والے) لوگ ان جنتوں میں رہتے چلے جائیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَۃُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ؕ
(57۔ الحديد:14)
lernen
►
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں، ان سے جو ایمان لائے تھے، کہیں گے ہم پر بھی نظر ڈالو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ فیض پالیں۔ کہا جائے گا اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ پس کوئی نور تلاش کرو۔ تب ان کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کردی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہوگا۔ اس کا باطن ایسا ہے کہ اس میں رحمت ہوگی اور اس کا ظاہر ایسا ہے کہ اس کے سامنے عذاب ہوگا۔
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا بھی انتظار کرو ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کر لیں‘ اس وقت ان سے کہا جائے گا اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاٶ اور وہاں جاکر نور تلاش کرو۔ پھر (اللہ کی طرف سے) ان کے اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی‘ جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر رحمت کا نظارہ ہوگا اور اس کے باہر کی طرف سامنے عذاب نظر آرہا ہوگا۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِکَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ٭ۖ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ ؕ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (ع)
(57۔ الحديد:20)
shahid kalam imkan nabuwat
►
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کے حضور صدیق اور شہید ٹھہرتے ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہی جہنّمی ہیں۔
اور جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہداء کا درجہ پانے والے ہیں ان کو ان کا پورا پورا اجر ملے گا اور اسی طرح ان کا نور ان کو ملے گا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘ وہ دوزخی ہونگے۔
کَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ
(58۔ المجادلة:22)
taqdeer allah khamisas1 kalam ghalba anbiya paper
►
اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ضرور مَیں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ یقیناً اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔
اللہ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ اللہ یقیناً طاقتور (اور) غالب ہے۔
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰی رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ۙ کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ ؕ وَ مَاۤ اٰتٰٮکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ٭ وَ مَا نَهٰٮکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۘ
(59۔ الحشر:8)
filbadih
►
اللہ نے بعض بستیوں کے باشندوں (کے اموال میں) سے اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا ہے تو وہ اللہ کے لئے اور رسول کے لئے ہے اور اقرباء، یتامیٰ اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے۔ تا ایسا نہ ہو کہ یہ (مالِ غنیمت) تمہارے امراءہی کے دائرے میں چکر لگاتا رہے۔ اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے اُس سے رُک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
بستیوں کے لوگوں کا جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عطا فرمایا وہ اللہ کا (ہے) اور رسول کا (ہے) اور قرابت داروں کا (ہے) اور یتیموں کا (ہے) اور مسکینوں کا (ہے) اور مسافروں کا ہے۔ تا وہ مال تم میں سے مالداروں کے اندر چکر نہ کھاتا پھرے اور رسول جو کچھ تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاٶ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ کا عذاب یقیناً بہت سخت ہوتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
(59۔ الحشر:19)
khutba nikah khamisas2 fiqh tilawat hashar1 hifz
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ اور چاہیے کہ ہر جان اس بات پر نظر رکھے کہ اس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے اور تم سب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔
وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰهُمْ اَنْفُسَهُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(59۔ الحشر:20)
tilawat hashar1 hifz
►
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یہی بدکردار لوگ ہیں۔
اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو‘ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اللہ نے بھی ان کو اپنی جانوں کا فائدہ بھلا دیا یہ لوگ اطاعت سے باہر نکلنے والے ہیں۔
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
(59۔ الحشر:21)
tilawat hashar1 hifz
►
آگ والے اور جنت والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ جنّتی ہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے۔ جنتی لوگ ہی کامیاب ہیں۔
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰهِ ؕ وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ
(59۔ الحشر:22)
tilawat hashar1 hifz
►
اگر ہم نے اِس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تُو ضرور دیکھتا کہ وہ اللہ کے خوف سے عجز اختیار کرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ اور یہ تمثیلات ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ تفکّر کریں۔
اگر یہ قرآن ہم کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تو اسے دیکھتا کہ وہ (ادب سے) جھک جاتا اور اللہ کے ڈر سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ اور یہ باتیں جو ہم (تجھ سے) کہتے ہیں یہ سب انسانوں کے لئے ہیں تا کہ وہ سوچیں۔
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَۃِ ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
(59۔ الحشر:23)
tilawat hashar1 hifz taraweeh
►
وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ غیب کا جاننے والا ہے اور حاضر کا بھی۔ وہی ہے جو بِن مانگے دینے والا، بے انتہا رحم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے وہی بے انتہا کرم کرنے والا (خدا) ہے (اور وہی) باربار رحم کرنے والا (خدا) ہے۔
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ
(59۔ الحشر:24)
tafseer tilawat hifz taraweeh
►
وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے (اور) کبر یائی والا ہے۔ پاک ہے اللہ اُس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔
(۔حق یہ ہے کہ) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ بادشاہ ہے‘ (خود) پاک ہے (اور دوسروں کو پاک کرتا ہے‘ خود) ہر عیب سے سلامت ہے (اور دوسروں کو سلامت رکھتا ہے) سب کو امن دینے والا ہے‘ اور سب کا نگران ہے غالب ہے اور سب ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتا ہے۔ بڑی شان والا ہے۔ جن چیزوں کو یہ لوگ اس کا شریک قرار دیتے ہیں ان سے اللہ پاک ہے۔
هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (ع)
(59۔ الحشر:25)
tilawat hashar1 hifz taraweeh
►
وہی اللہ ہے جو پیدا کرنے والا۔ پیدائش کا آغاز کرنے والا اور مصوّر ہے۔ تمام خوبصورت نام اسی کے ہیں۔ اُسی کی تسبیح کر رہا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
(۔حق یہی ہے کہ) اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا موجد بھی ہے۔ اور ہر چیز کو اس کی مناسب حال صورت دینے والا ہے اس کی بہت سی اچھی صفات ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی تسبیح کر رہا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔
لَا یَنْهٰٮکُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ
(60۔ الممتحنة:9)
kalam khamisas2
►
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم اُن سے نیکی کرو اور اُن سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔
اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٮۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ
(61۔ الصف:7)
kalam lahori masihmaud sadaqat taraweeh2 rakat1 saff
►
اور (یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! یقیناً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے ہے اور ایک عظیم رسول کی خوشخبری دیتے ہوئے جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پس جب وہ کھلے نشانوں کے ساتھ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا یہ تو ایک کھلا کھلا جادو ہے۔
اور (یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے اپنی قوم سے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں‘ جو (کلام) میرے آنے سے پہلے نازل ہو چکا ہے یعنی تورات‘ اس کی پیشگوئیوں کو میں پورا کرتا ہوں اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پھر جب وہ رسول دلائل لیکر آگیا‘ تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا فریب ہے۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ الْکَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤی اِلَی الْاِسْلَامِ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
(61۔ الصف:8)
taraweeh2 rakat1 saff
►
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹ گھڑے حالانکہ اُسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے‘ جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ کَرِهَ الْکٰفِرُوْنَ
(61۔ الصف:9)
taraweeh2 rakat1 saff
►
وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھادیں حالانکہ اللہ ہر حال میں اپنا نور پورا کرنے والا ہے خواہ کافر ناپسند کریں۔
وہ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں‘ اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے چھوڑے گا خواہ کافر (لوگ) کتنا ہی ناپسند کریں۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهٖ وَ لَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُوْنَ (ع)
(61۔ الصف:10)
taraweeh2 rakat1 saff
►
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اُسے دین (کے ہر شعبہ) پر کلیّۃً غالب کردے خواہ مشرک برا منائیں۔
وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور سچا دین دیکر بھیجا ہے تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(62۔ الجمعة:1)
jumma tilawat1
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(۔میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ
(62۔ الجمعة:2)
taraweeh2 rakat2 jumma tilawat1
►
اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدّوس ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے اس (اللہ) کی جو بادشاہ بھی ہے اور پاک (بھی ہے اور سب خوبیوں کا جامع) ہے اور غالب (اور) حکمت والا ہے۔
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَکِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ٭ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۙ
(62۔ الجمعة:3)
taraweeh2 rakat2 jumma tilawat1
►
وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔
وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو خدا کے احکام سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے۔
وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
(62۔ الجمعة:4)
taraweeh2 rakat2 jumma tilawat1
►
اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔
ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
(62۔ الجمعة:5)
taraweeh2 rakat2 jumma tilawat1
►
یہ اللہ کا فضل ہے وہ اُس کو جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰٮۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
(62۔ الجمعة:6)
taraweeh2 rakat3 jumma tilawat1
►
ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی پھر اُسے (جیسا کہ حق تھا) انہوں نے اُٹھائے نہ رکھا، گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ کیا ہی بُری ہے اُن لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
جن لوگوں پر تورات کی اطاعت واجب کی گئی ہے مگر باوجود اس کے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا‘ ان کی مثال گدھے کی ہے‘ جس نے بہت سی کتابیں اٹھائی ہوتی ہیں (مگر جانتا کچھ نہیں) اللہ کے احکام کا انکار کرنے والی قوم کی حالت بہت بری ہوتی ہے اور اللہ ظالم قوم کو کبھی کامیابی کا منہ نہیں دکھاتا۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
(62۔ الجمعة:7)
taraweeh2 rakat3 jumma tilawat1
►
تو کہہ دے کہ اے لوگو جو یہودی ہوئے ہو! اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ سب لوگوں کے سوا ایک تم ہی اللہ کے دوست ہو تو موت کی تمنّا کرو، اگر تم سچّے ہو۔
تو کہہ دے‘ اے یہودیو! اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم باقی دنیا کو چھوڑ کر اللہ کے دوست ہو اور اس کی پناہ میں ہو تو اگر تم (اس دعویٰ میں) سچے ہو‘ تو موت کی تمنا کرو۔ (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرو)
وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ
(62۔ الجمعة:8)
taraweeh2 rakat3 jumma tilawat1
►
اور وہ ہرگز اس کی تمنّا نہیں کریں گے بسبب اس کے جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
مگر وہ اپنے گذشتہ اعمال کی وجہ سے کبھی بھی مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوں گے اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (ع)
(62۔ الجمعة:9)
taraweeh2 rakat3 jumma tilawat1
►
تُو کہہ دے کہ یقیناً وہ موت جس سے تم بھاگ رہے ہو وہ یقیناً تمہیں آ لے گی۔ پھر تم غیب اور حاضر کا دائمی علم رکھنے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پس وہ تمہیں (اس کی) خبر دے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
تو کہہ دے کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو‘ ایک دن یقیناً تم کو آپکڑے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے خدا کی طرف لوٹائے جاٶ گے اور وہ تم کو تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ؕ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(62۔ الجمعة:10)
jumma fazail namaz taraweeh rakat4 22
►
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
اے مومنو! جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لئے بلایا جائے (یعنی نماز جمعہ کے لئے) تو اللہ کے ذکر کے لئے جلدی جلدی جایا کرو۔ اور (خرید اور) فروخت کو چھوڑ دیا کرو‘ اگر تم کچھ بھی علم رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے اچھی بات ہے۔
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْکُرُوا اللّٰهَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
(62۔ الجمعة:11)
taraweeh rakat4 22
►
پس جب نماز ادا کی جاچکی ہو تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور اللہ کے فضل میں سے کچھ تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اور جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جایا کرو‘ اور اللہ کا فضل تلاش کیا کرو‘ اور اللہ کو بہت یاد کیا کرو‘ تا کہ تم کامیاب ہو جاٶ۔
وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَهْوَاۨ انْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَکُوْکَ قَآئِمًا ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (ع)
(62۔ الجمعة:12)
taraweeh rakat4 22
►
اور جب وہ کوئی تجارت یا دل بہلاوا دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ تو کہہ دے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ دل بہلاوے اور تجارت سے بہت بہتر ہے اور اللہ رزق عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔
اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل کی بات دیکھتے ہیں تو تجھ سے الگ ہو کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ان سے کہدے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل کی بات بلکہ تجارت سے بھی اچھا ہے اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔
اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُهٗ ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ ۚ
(63۔ المنافقون:2)
kalam khamisas1 qatl murtad munafiq
►
جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ ضرور تُو اللہ کا رسول ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ تُویقیناً اس کا رسول ہے۔ پھر بھی اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق یقیناً جھوٹے ہیں۔
جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے۔ مگر (ساتھ ہی) اللہ قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
(63۔ المنافقون:3)
rabias1 kalam khamisas1 qatl murtad shiaism munafiq
►
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ پس وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یقیناً بہت بُرا ہے جو وہ عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی قسموں کو (تیری گرفت سے بچنے کے لئے) ڈھال بنا لیا ہے اور وہ اللہ کے رستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں‘ جو کچھ وہ کرتے ہیں بہت برا ہے۔
یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (ع)
(63۔ المنافقون:9)
kalam khamisas1 qalt murtad nabisaw fazail
►
وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اُسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ عزت تمام تر اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مومنوں کی، لیکن منافق لوگ جانتے نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اس سے نکال دے گا۔ اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
(64۔ التغابن:13)
hifz
►
اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم مُنہ موڑ لو تو (جان لو کہ) ہمارے رسول پر محض پیغام کا صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ لیکن اگر تم پھر جاٶ‘ تو ہمارے رسول پر صرف کھول کر بات پہنچا دینا ہی فرض ہے۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ وَ عَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ
(64۔ التغابن:14)
hifz
►
اللہ (وہ ہے کہ اس) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس چاہئے کہ مومن اللہ ہی پر توکل کریں۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
(64۔ التغابن:16)
hifz
►
تمہارے اموال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہیں۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اَجر ہے۔
تمہارے مال اور تمہاری اولادیں صرف ایک آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(64۔ التغابن:17)
hifz
►
پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس حد تک تمہیں توفیق ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو (یہ) تمہارے لئے بہتر ہوگا۔اور جو نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں تو یہی ہیں وہ لوگ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
پس جتنا ہو سکے اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو‘ اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہوگا اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ؕ وَ اللّٰهُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ۙ
(64۔ التغابن:18)
hifz
►
اگر تم اللہ کو قرضہِء حسنہ دو گے (تو) وہ اُسے تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت قدر شناس (اور) بردبار ہے۔
اگر تم اللہ کے لئے اپنے مالوں میں سے ایک اچھا حصہ کاٹ کر الگ کر دو‘ تو وہ اس حصہ کو تمہارے لئے بڑھائے گا اور تمہارے لئے بخشش کے سامان پیدا کرے گا اور اللہ بہت قدر دان (اور) ہر بات کو سمجھنے والا ہے۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِکُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَۃَ لِلّٰهِ ؕ ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۬ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۙ
(65۔ الطلاق:3)
kalam khamisas1 taqdeer allah
►
پس جب وہ اپنی مقررہ میعاد کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں معروف طریق پر روک لو یا انہیں معروف طریق پر جدا کردو اور اپنے میں سے دو صاحبِ انصاف (شخصوں) کو گواہ ٹھہرا لو اور اللہ کے لئے شہادت کو قائم کرو۔ یہ وہ امر ہے جس کی نصیحت کی جاتی ہے ہر اس شخص کو، جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لاتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے اُس کے لئے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے۔
پھر جب عورتیں عدت کی آخری حد کو پہنچ جائیں تو انہیں مناسب طریق پر روک لو یا انہیں مناسب طریق پر فارغ کردو۔ اور اپنے میں سے دو منصف گواہ مقرر کرو۔ اور خدا کے لئے سچی گواہی دو۔ تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے اس کو یہ نصیحت کی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔
وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا
(65۔ الطلاق:4)
kalam khamisas1 taqdeer allah paper
►
اور وہ اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اُس کے لئے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنے فیصلہ کو مکمل کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔
اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اسے خیال بھی نہیں ہوگا اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے وہ (اللہ) اس کے لئے کافی ہے اللہ یقیناً اپنے مقصد کو پورا کرکے چھوڑتا ہے اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر چھوڑا ہے۔
اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَی اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰٮهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۚ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَهِیْرٌ
(66۔ التحريم:5)
hadith kalam rabias2 khamisas1 paper
►
اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو (یہی زیبا ہے کیونکہ) تم دونوں کے دل مائل (بہ گناہ) ہوچکے تھے اور اگر تم دونوں اُس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناً اللہ ہی اس کا مولیٰ ہے اور جبرائیل بھی اور مومنوں میں سے ہر صالح شخص بھی اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے پشت پناہ ہیں۔
پھر اس نے کہا کہ اے دونوں بیویو! اگر تم اپنی غلطی پر اللہ سے توبہ کرو تو تم دونوں کے دل تو پہلے ہی اس بات کی طرف جھکے ہوئے ہیں (اور توبہ کے لئے تیار ہیں) اور اگر تم دونوں ایک دوسرے کی پشت پناہی کے لئے کھڑی ہو جاٶ تو یاد رکھو کہ اللہ اس رسول کا دوست ہے‘ اسی طرح جبریل اور سب مومن اور علاوہ اس کے فرشتے بھی نبی کی پشت پر ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَکُمْ وَ اَهْلِیْکُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ
(66۔ التحريم:7)
kalam khamisas1 malaikatullah tafseer paper
►
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اُس پر بہت سخت گیر قوی فرشتے (مسلط) ہیں۔ وہ اللہ کی، اُس بارہ میں جو وہ انہیں حکم دے، نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو وہ حکم دیئے جاتے ہیں۔
اے مومنو! اپنے اہل کو بھی اور اپنی جانوں کو بھی دوزخ سے بچاٶ جس کا ایندھن خاص لوگ (یعنی کافر) ہونگے اور اسی طرح پتھر (جن سے بت بنے) اس (دوزخ) پر ایسے ملائکہ مقرر ہیں جو کسی کی منت سماجت سننے والے نہیں بلکہ اپنے فرض کے ادا کرنے میں بڑے سخت ہیں اور اللہ نے ان کو جو حکم دیا ہے اس کی وہ نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ ؕ وَ مَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
(66۔ التحريم:10)
shiaism kalam rabias1
►
اے نبی! کفار سے اور منافقین سے جہاد کر اور ان کے مقابلہ پر سختی کر۔ اور اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
اے نبی! کافروں اور منافقوں کے خلاف خوب تبلیغ کر اور ان کا کوئی اثر قبول نہ کر‘ اور (سمجھ لے کہ) ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(67۔ الملك:1)
tilawat hifz mulk1
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْکُ ۫ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ ۣۙ
(67۔ الملك:2)
tilawat hifz mulk1 taraweeh
►
بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہء قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
بہت برکت والا ہے وہ (خدا) جس کے قبضہ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر ایک ارادہ کے پورا کرنے پر قادر ہے۔
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ ۙ
(67۔ الملك:3)
tilawat hifz mulk1 taraweeh
►
وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔
اس نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے‘ اور وہ غالب (اور) بہت بخشنے والا ہے۔
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ
(67۔ الملك:4)
tilawat hifz mulk1 taraweeh
►
وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تُو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟
وہی ہے جس نے سات آسمان درجہ بدرجہ بنائے ہیں (اور) تو رحمن (خدا) کی پیدائش میں کوئی رخنہ نہیں دیکھتا۔ اور تو اپنی آنکھ کو (ادھر ادھر) پھیر کر اچھی طرح سے دیکھ لے! کیا تجھے (خدا کی مخلوق میں کسی جگہ بھی) کوئی رخنہ نظر آتا ہے۔
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
(67۔ الملك:5)
tilawat hifz mulk1 taraweeh
►
نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا، تیری طرف نظر ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔
پھر باربار نظر کو چکر دے‘ وہ آخر تیری طرف ناکام ہو کر لوٹ آئے گی‘ اور وہ تھکی ہوئی ہوگی (اور کوئی رخنہ نظر نہ آئے گا)۔
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
(67۔ الملك:6)
tilawat hifz mulk1 taraweeh
►
اور یقیناً ہم نے نزدیک کے آسمان کو چراغوں سے زینت بخشی اور انہیں شیطانوں کو دھتکارنے کا ذریعہ بنایا اور اُن کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کیا۔
اور ہم نے نچلے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت دی ہے اور ان (چراغوں) کو شیطانوں کے لئے پتھراٶ کا باعث بنایا ہے اور ہم نے ان (شیطانوں) کے لئے ایک بھڑکنے والا عذاب مقرر کیا ہے۔
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ ۙ
(68۔ القلم:2)
kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔
(ہم) قلم اور دوات کو اور اس کو جو ان (کے ذریعہ) سے لکھا جاتا ہے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰی غَیْبِهٖۤ اَحَدًا ۙ
(72۔ الجن:27)
shahid kalam
►
وہ غیب کا جاننے والا ہے پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا۔
غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُکُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا ۙ
(72۔ الجن:28)
shahid kalam
►
بجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔ پس یقیناً وہ اس کے آگے اور اُس کے پیچھے حفاظت کرتے ہوئے چلتا ہے۔
سوائے ایسے رسول کے جس کو وہ اس کام کے لئے پسند کر لیتا ہے اور اس رسول کی یہ شان ہے کہ اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی محافظ فرشتوں کی گارد چلتی ہے۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا ۬ۙ شَاهِدًا عَلَیْکُمْ کَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ؕ
(73۔ المزّمِّل:16)
muwanzna rabias1 viva
►
یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف بھی ایک رسول بھیجا تھا۔
اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اسی طرح جس طرح فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔
وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃً ۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْکٰفِرُوْنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا هُوَ ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ (ع)
(74۔ المدّثر:32)
kalam khamisas1 malaikatullah haqiqat paper
►
اور ہم نے فرشتوں کے سوا کسی کو جہنّم کے داروغے نہیں بنایا اور ہم نے اُن کی تعداد مقرر نہیں کی مگر اُن لوگوں کی آزمائش کی خاطر جنہوں نے کفر کیا تاکہ وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی وہ یقین کرلیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ایمان میں بڑھ جائیں اور جن کو کتاب دی گئی وہ اور مومن کسی شک میں نہ رہیں اور تا وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار کہیں کہ آخر اللہ کا اس تمثیل سے کیا ارادہ ہے؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے اُسے ہدایت دیتا ہے اور تیرے ربّ کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔ اور یہ انسان کے لئے ایک بڑی نصیحت کے سوا اور کچھ نہیں۔
اور دوزخ کے داروغے ہم نے صرف فرشتوں میں سے مقرر کیے ہیں اور ان کی گنتی صرف کافروں کی آزمائش کے طور پر بتائی ہے اور اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ اہل کتاب کو یقین آجائے گا اور مومن ایمان میں زیادہ ہو جائیں گے اور نہ اہل کتاب شبہ کریں گے اور نہ مومن۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اور دوسرے کافر کہیں گے کہ اس بات کے کہنے سے اللہ کا کیا منشا ہے۔ اسی طرح اللہ اسے گمراہ قرار دیتا ہے جس کے متعلق ارادہ کر لیتا ہے اور جس کے متعلق ارادہ کر لیتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ (قرآن) انسان کے لئے صرف ایک نصیحت ہے۔
وَ اِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ۙ
(82۔ الإنفطار:11)
kalam khamisas1 malaikatullah paper
►
جبکہ یقیناً تم پر ضرور نگہبان مقرر ہیں۔
اور یقیناً تم پر (تمہارے خدا کی طرف سے) نگران مقرر ہیں۔
کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ۙ
(82۔ الإنفطار:12)
kalam khamisas1 malaikatullah paper
►
معزز لکھنے والے۔
(جو) شریف (اور) ہر بات کو لکھنے والے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(85۔ البروج:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۙ
(85۔ البروج:2)
taraweeh2 rakat4
►
قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔
میں برجوں والے آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۙ
(85۔ البروج:3)
taraweeh2 rakat4
►
اور موعود دن کی۔
اور اس دن کو بھی جس کا وعدہ ہے۔
وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ ؕ
(85۔ البروج:4)
taraweeh2 rakat4
►
اور ایک گواہی دینے والے کی اور اُس کی جس کی گواہی دی جائے گی۔
اور (موعود) گواہ کو اور اس شخص کو جس کی پیشگوئی پہلی کتب میں موجود ہے۔
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ۙ
(85۔ البروج:5)
taraweeh2 rakat4
►
ہلاک کردیئے جائیں گے کھائیوں والے۔
خندقوں والے ہلاک ہو گئے۔
النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۙ
(85۔ البروج:6)
taraweeh2 rakat4
►
یعنی اُس آگ والے جو بہت ایندھن والی ہے۔
یعنی (خندقوں میں) آگ (بھڑکانے والے) جس میں (خوب) ایندھن (جھونکا گیا) تھا۔
اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌ ۙ
(85۔ البروج:7)
taraweeh2 rakat4
►
جب وہ اُس کے گرد بیٹھے ہوں گے۔
جب وہ اس آگ پر (دھرنا مار کر) بیٹھے ہوئے تھے۔
وَّ هُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌ ؕ
(85۔ البروج:8)
taraweeh2 rakat4
►
اور وہ اُس پر گواہ ہوں گے جو وہ مومنوں سے کریں گے۔
اور وہ مومنوں سے جو کچھ (معاملہ) کر رہے تھے‘ ان کا دل اس کی حقیقت کو سمجھتا تھا۔
وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۙ
(85۔ البروج:9)
taraweeh2 rakat4
►
اور وہ اُن سے پرخاش نہیں رکھتے مگر اس بنا پر کہ وہ اللہ، کامل غلبہ رکھنے والے، صاحبِ حمد پر ایمان لے آئے۔
اور وہ ان سے صرف اس لئے دشمنی کرتے تھے کہ وہ غالب (اور) سب تعریفوں کے مالک اللہ پر ایمان کیوں لائے۔
الَّذِیْ لَهٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ؕ
(85۔ البروج:10)
taraweeh2 rakat4
►
جس کی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
وہ اللہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور (یہ نہیں سوچتے کہ) اللہ ہر چیز (کے حالات) سے واقف ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ؕ
(85۔ البروج:11)
taraweeh2 rakat4
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو فتنہ میں ڈالا پھر توبہ نہیں کی تو اُن کے لئے جہنّم کا عذاب ہے اور اُن کے لئے آگ کا عذاب (مقدر) ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو عذاب میں مبتلا کیا پھر (اپنے فعل سے) توبہ بھی نہ کی‘ انہیں یقیناً جہنم کا عذاب ملے گا۔ اور (اس دنیا میں بھی) انہیں (دل کو) جلا دینے والا عذاب ملے گا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۬ؕؑ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ ؕ
(85۔ البروج:12)
taraweeh2 rakat5
►
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن کے لئے ایسی جنّتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور ساتھ ہی اس (ایمان) کے مناسب حال عمل بھی انہوں نے کیے انہیں باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور) یہی بڑی کامیابی ہے۔
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ؕ
(85۔ البروج:13)
taraweeh2 rakat5
►
یقیناً تیرے ربّ کی پکڑ بہت سخت ہے۔
یقیناً تیرے رب کی گرفت سخت ہوا کرتی ہے۔
اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُ ۚ
(85۔ البروج:14)
taraweeh2 rakat5
►
یقیناً وہی شروع بھی کرتا ہے اور دُہراتا بھی ہے۔
(کیونکہ وہی دنیا کے عذاب کو شروع کرتا ہے اور (اگر کوئی قوم باز نہ آئے تو) باربار عذاب لاتا ہے۔
وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ۙ
(85۔ البروج:15)
taraweeh2 rakat5
►
باوجود اس کے کہ وہ بہت بخشنے والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔
اور (اس کے ساتھ ہی) وہ بے انتہا بخشنے والا (اور) بے انتہا محبت کرنے والا بھی ہے۔
ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۙ
(85۔ البروج:16)
taraweeh2 rakat5
►
صاحبِ عرش (اور) صاحبِ مجد ہے۔
(وہ) عرش کا مالک (اور) بزرگ شان والا ہے۔
فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ؕ
(85۔ البروج:17)
taraweeh2 rakat5
►
جو چاہتا ہے اُسے ضرور کرکے رہتا ہے۔
جس بات کا ارادہ کرے اسے کرکے رہنے والا ہے۔
هَلْ اَتٰٮکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ ۙ
(85۔ البروج:18)
taraweeh2 rakat5
►
کیا تجھ تک لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟
کیا تمہیں (دشمنان صداقت کے) لشکروں کی خبر نہیں ملی۔
فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَ ؕ
(85۔ البروج:19)
taraweeh2 rakat5
►
فرعون کی اور ثمود کی۔
یعنی فرعون اور ثمود کے لشکروں کی۔
بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ ۙ
(85۔ البروج:20)
taraweeh2 rakat5
►
بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ تکذیب ہی میں (لگے) رہتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کافر (شدید) انکار (کی مرض) میں (مبتلا) ہیں۔
وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌ ۚ
(85۔ البروج:21)
taraweeh2 rakat5
►
جبکہ اللہ اُن کے آگے پیچھے سے گھیرا ڈالے ہوئے ہے۔
حالانکہ اللہ (انہیں) ان کے پیچھے سے (آکر) گھیرنے والا ہے۔
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ ۙ
(85۔ البروج:22)
taraweeh2 rakat5
►
بلکہ وہ تو ایک صاحبِ مجد قرآن ہے۔
(اس کے علاوہ) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ (کلام جو ان امور کی خبر دے رہا ہے) ایک بزرگ کلام ہے اور ہر جگہ اور ہر زمانہ میں پڑھا جانے والا کلام ہے۔
فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (ع)
(85۔ البروج:23)
taraweeh2 rakat5
►
ایک لَوحِ محفوظ میں۔
(اور مزید کمال یہ ہے کہ) وہ لوح محفوظ میں ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(86۔ الطارق:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ
(86۔ الطارق:2)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
قسم ہے آسمان کی اور رات کو ظاہر ہونے والے کی۔
میں آسمان کو اور صبح کے ستارے کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا الطَّارِقُ ۙ
(86۔ الطارق:3)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
اور تُجھے کیا بتائے کہ رات کو ظاہر ہونے والا کیا ہے؟
اور کس چیز نے تجھے علم دیا ہے کہ صبح کا ستارہ کیا ہے۔
النَّجْمُ الثَّاقِبُ ۙ
(86۔ الطارق:4)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
بہت چمکتا ہوا ستارہ۔
وہ ستارہ (وہ ہے) جو بہت چمکتا ہے۔
اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ ؕ
(86۔ الطارق:5)
malaikatullah kalam taraweeh2 rakat6 hifz
►
کوئی (ایک) جان بھی نہیں جس پر کوئی محافظ نہ ہو۔
(ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اس قسم کی) کوئی جان نہیں‘ جس پر ایک نگران (خدا کی طرف سے) مقرر نہ ہو۔
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ؕ
(86۔ الطارق:6)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
پس انسان غور کرے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔
پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ ۙ
(86۔ الطارق:7)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔
وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ
(86۔ الطارق:8)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
وہ (پانی یا انسان) پیٹھ اور سینہ (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔
اِنَّهٗ عَلٰی رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ ؕ
(86۔ الطارق:9)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
یقیناً وہ اس کے واپس لے جانے پر ضرور قادر ہے۔
وہ (یعنی خدا) اس کے دوبارہ لوٹانے پر بھی یقیناً قادر ہے۔
یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۙ
(86۔ الطارق:10)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
جس دن پوشیدہ باتیں ظاہر کی جائیں گی۔
اس دن جب پوشیدہ بھید ظاہر کیے جائیں گے۔
فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّ لَا نَاصِرٍ ؕ
(86۔ الطارق:11)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
پس نہ تو اُسے کوئی قوّت حاصل ہوگی اور نہ ہی کوئی مددگار۔
جس کے نتیجہ میں نہ تو (اپنے اوپر سے مصیبت ٹلانے کی) کوئی طاقت اس (انسان) کے پاس رہے گی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۙ
(86۔ الطارق:12)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
قسم ہے موسلادھار بارش والے آسمان کی۔
میں شہادت کے طور پر اس بادل کو پیش کرتا ہوں جو بارش سے بھرا ہوا باربار برستا ہے۔
وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۙ
(86۔ الطارق:13)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
اور روئیدگی اُگانے والی زمین کی۔
اور اس زمین کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں جو بارش کے نازل ہونے کے بعد پھٹ کر روئیدگی نکالتی ہے۔
اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ۙ
(86۔ الطارق:14)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
یقیناً وہ ضرور ایک فیصلہ کن کلام ہے۔
یہ شہادت اس امر پر ہے کہ وہ (قرآن) یقیناً قطعی اور آخری بات ہے۔
وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ ؕ
(86۔ الطارق:15)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
اور وہ ہرگز کوئی بیہودہ کلام نہیں۔
اور وہ کوئی (بے فائدہ اور) کمزور کلام نہیں۔
اِنَّهُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا ۙ
(86۔ الطارق:16)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
یقیناً وہ کوئی چال چلیں گے۔
وہ لوگ یقیناً (اس قرآن کے خلاف) خوب داٶ پیچ کریں گے۔
وَّ اَکِیْدُ کَیْدًا ۚۖ
(86۔ الطارق:17)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
اور میں بھی ایک چال چلوں گا۔
اور میں (خدا ان کے خلاف) خوب تدبیریں کروں گا (اور حق کھل جائے گا)
فَمَهِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا (ع)
(86۔ الطارق:18)
taraweeh2 rakat6 hifz
►
پس کافروں کو ڈھیل دے۔ اُنہیں ایک مدت تک ڈھیل دےدے۔
پس (اے رسول)! کفار کو مہلت دو (ہاں) انہیں کچھ دن کی اور مہلت دو (تا کہ جو زور لگانا چاہیں لگالیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(87۔ الأعلى:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی ۙ
(87۔ الأعلى:2)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اپنے بزرگ و بالا ربّ کے نام کا ہر عیب سے پاک ہونا بیان کر۔
(اے رسول)! اپنے بزرگ (وبرتر) رب کے نام کا بے عیب ہونا بیان کر۔
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ
(87۔ الأعلى:3)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کیا۔
(وہ) جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور (اسے) بے عیب بنایا۔
وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰی ۪ۙ
(87۔ الأعلى:4)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اور جس نے (عناصر کو) ترکیب دی پھر ہدایت دی۔
اور جس نے (اس کی طاقتوں کا) اندازہ کیا اور (ان کے مطابق) اسے ہدایت دی۔
وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی ۪ۙ
(87۔ الأعلى:5)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اور جس نے زندگی کی حفاظت کےلئے سبزہ نکالا۔
اور جس نے زمین سے چارہ نکالا۔
فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰی ؕ
(87۔ الأعلى:6)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
پھر اسے (ناقدروں کےلئے) سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا۔
پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا۔
سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰۤی ۙ
(87۔ الأعلى:7)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
ہم ضرور تجھے قراءَ ت سکھائیں گے پس تو نہیں بھولے گا۔
(اے مسلمان) ہم تجھے (اس طرح) پڑھائیں گے کہ اس کے نتیجہ میں تو بھولے گا نہیں۔
اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰی ؕ
(87۔ الأعلى:8)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔ یقیناً وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جو مخفی ہے۔
سوائے اس کے جو اللہ بھلانا چاہے‘ وہ یقیناً ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جو مخفی ہے۔
وَ نُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی ۚۖ
(87۔ الأعلى:9)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اور ہم تجھے آسانی مہیا کریں گے۔
اور ہم (اے مسلمان) تیرے لئے (کامیابیوں اور) آسانیوں کا حصول آسان کر دیں گے۔
فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی ؕ
(87۔ الأعلى:10)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
پس نصیحت کر۔ نصیحت بہرحال فائدہ دیتی ہے۔
پس تم بھی نصیحت کرو‘ نصیحت کرنا (ہمیشہ دنیا میں) مفید ہوتا رہا ہے۔
سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی ۙ
(87۔ الأعلى:11)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
وہ ضرور نصیحت پکڑے گا جو ڈرتا ہے۔
جو (خدا سے) ڈرتا ہے وہ یقیناً نصیحت حاصل کرے گا۔
وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَی ۙ
(87۔ الأعلى:12)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اور سخت بدبخت (شخص) اُس سے اجتناب کرے گا۔
اور (اس کے برخلاف) جو نہایت بدبخت ہوگا وہ اس سے گریز ہی کرتا رہے گا۔
الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْکُبْرٰی ۚ
(87۔ الأعلى:13)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
جو سب سے بڑی آگ میں داخل ہوگا۔
(وہی) جو بڑی آگ میں داخل ہونے والا ہے۔
ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰی ؕ
(87۔ الأعلى:14)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
پھر وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔
پھر (اس میں داخل ہونے کے بعد) نہ تو وہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی ۙ
(87۔ الأعلى:15)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوا۔
جو پاک بنے گا‘ وہ یقیناً کامیاب ہوگا۔
وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰی ؕ
(87۔ الأعلى:16)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
اور اپنے ربّ کے نام کا ذکر کیا اور نماز پڑھی۔
بشرطیکہ (پاک بننے کے ساتھ ساتھ) اس نے اپنے رب کا نام بھی لیا‘ اور نماز پڑھتا رہا۔
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ۫ۖ
(87۔ الأعلى:17)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
درحقیقت تم تو دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
مگر (اے مخالفو)! تم (لوگ) تو ورلی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو۔
وَ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی ؕ
(87۔ الأعلى:18)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیرپا ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی ۙ
(87۔ الأعلى:19)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
یقیناً یہ ضرور پہلے صحیفوں میں بھی ہے۔
یقیناً یہی (بات) پہلے صحیفوں میں بھی (درج) ہے۔
صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰی (ع)
(87۔ الأعلى:20)
taraweeh2 rakat7 hifz
►
ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔
(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(88۔ الغاشية:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
هَلْ اَتٰٮکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ؕ
(88۔ الغاشية:2)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
کیا تجھے مدہوش کردینے والی (ساعت) کی خبر پہنچی ہے؟
کیا تجھے (دنیا پر) چھا جانے والی (مصیبت) کی بھی خبر پہنچی ہے؟
وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:3)
taraweeh2 rakat8 hifz hayat akhrat kalam
►
بعض چہرے اُس دن سخت خوفزدہ ہوں گے۔
اس دن (جب وہ مصیبت چھا جائے گی) کچھ چہرے اترے ہوئے ہونگے۔
عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:4)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
(یعنی قبل ازیں دنیا کی جستجو میں) سخت مشقت کرنے والے (اور) تھک کر چور ہوجانے والے۔
(وہ) محنت کر رہے ہوں گے (اور) تھک کر چور ہو رہے ہوں گے۔
تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ
(88۔ الغاشية:5)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔
(لیکن اس محنت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور) وہ جماعت (بہرحال) ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگی۔
تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ
(88۔ الغاشية:6)
taraweeh2 rakat8 hifz hayat akhrat kalam
►
ایک کھولتے ہوئے چشمے سے انہیں پلایا جائے گا۔
اور اس (ساری جماعت) کو ابلتے ہوئے چشمہ سے (پانی) پلایا جائے گا۔
لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ ۙ
(88۔ الغاشية:7)
taraweeh2 rakat8 hifz hayat akhrat kalam
►
ان کے لئے کوئی کھانا نہ ہوگا مگر تھوہر سے بنا ہوا۔
اس کو سوکھے شبرق گھاس کے سوا اور کوئی کھانا نہیں ملے گا۔
لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ؕ
(88۔ الغاشية:8)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے نجات دے گا۔
جو نہ تو انہیں موٹا کرے گا اور نہ بھوک (کی تکلیف) سے بچائے گا۔
وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:9)
taraweeh2 rakat8 hifz hayat akhrat kalam khamisas1
►
بعض چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔
کچھ (اور) چہرے اس دن خوش بخوش ہوں گے۔
لِّسَعْیِهَا رَاضِیَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:10)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اپنی کوششوں پر بہت خوش۔
اپنی (سابقہ) کوششوں پر مطمئن ہوں گے۔
فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۙ
(88۔ الغاشية:11)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
ایک بلند و بالا جنت میں۔
بلند (وبالا) جنت میں (رہ رہے) ہوں گے۔
لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَۃً ؕ
(88۔ الغاشية:12)
taraweeh2 rakat8 hifz hayat akhrat kalam
►
تُو اس میں کوئی بےہودہ بات نہیں سنے گا۔
وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔
فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ ۘ
(88۔ الغاشية:13)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اس میں ایک جاری چشمہ ہوگا۔
اس میں ایک بہتا ہوا چشمہ ہوگا۔
فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:14)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اس میں اونچے بچھائے ہوئے تخت ہوں گے۔
(اور) اس (جنت) میں اونچے تخت (بھی) رکھے ہوں گے۔
وَّ اَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:15)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور (سلیقے سے) چُنے ہوئے پیالے۔
اور آب خورے دھرے ہوئے ہونگے۔
وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ ۙ
(88۔ الغاشية:16)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور صف بہ صف لگائے ہوئے تکیے۔
اور سہارا لینے والے چھوٹے سائز کے تکیے قطاروں میں (ٹیک لگانے کے لئے) رکھے ہوں گے۔
وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ ؕ
(88۔ الغاشية:17)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور بچھائی ہوئی مَسندیں۔
اور قالینیں بچھی ہوئی ہوں گی۔
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ٝ
(88۔ الغاشية:18)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
کیا وہ اُونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کئے گئے؟
کیا وہ بادلوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے ہیں۔
وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ ٝ
(88۔ الغاشية:19)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور آسمان کی طرف کہ اُسے کیسے رِفعت دی گئی؟
اور آسمان کو (نہیں دیکھتے کہ) کس طرح اونچا کیا گیا ہے۔
وَ اِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ٝ
(88۔ الغاشية:20)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے مضبوطی سے گاڑے گئے؟
اور پہاڑوں کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح گاڑے ہوئے ہیں۔
وَ اِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ٝ
(88۔ الغاشية:21)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے ہموار کی گئی؟
اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح ہموار کی ہوئی ہے۔
فَذَکِّرْ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَکِّرٌ ؕ
(88۔ الغاشية:22)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
پس بکثرت نصیحت کر۔ تُو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔
پس نصیحت کر کہ تو تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔
لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ ۙ
(88۔ الغاشية:23)
taraweeh2 rakat8 hifz kalam qatl murtad
►
تُو ان پر داروغہ نہیں۔
تو ان (لوگوں) پر داروغہ (کے طور پر) مقرر نہیں ہے۔
اِلَّا مَنْ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ۙ
(88۔ الغاشية:24)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
ہاں وہ جو پیٹھ پھیر جائے اور انکار کردے۔
مگر جس نے پیٹھ پھیر لی اور کفر کا مرتکب ہوا۔
فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ ؕ
(88۔ الغاشية:25)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
تو اُسے اللہ سب سے بڑا عذاب دے گا۔
اس کے نتیجہ میں اللہ اسے سب سے بڑا عذاب دے گا۔
اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْ ۙ
(88۔ الغاشية:26)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
یقیناً ہماری طرف ہی اُن کا لَوٹنا ہے۔
یقیناً انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ (ع)
(88۔ الغاشية:27)
taraweeh2 rakat8 hifz
►
پھر یقیناً ہم پر ہی اُن کا حساب ہے۔
پھر ان سے حساب لینا بھی یقیناً ہمارا ہی کام ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(89۔ الفجر:1)
hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الْفَجْرِ ۙ
(89۔ الفجر:2)
hifz taraweeh
►
قَسم ہے فجر کی۔
میں شہادت کے طور پر ایک آنے والی فجر کو پیش کرتا ہوں۔
وَ لَیَالٍ عَشْرٍ ۙ
(89۔ الفجر:3)
hifz taraweeh
►
اور دس راتوں کی۔
اور دس راتوں کو بھی۔
وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ ۙ
(89۔ الفجر:4)
hifz taraweeh
►
اور جُفت کی اور طاق کی۔
اور ایک جفت کو اور ایک وتر کو۔
وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۚ
(89۔ الفجر:5)
hifz taraweeh
►
اور رات کی جب وہ چل پڑے۔
اور (مذکورہ بالا دس راتوں کے بعد آنے والی) رات کو جب وہ چل پڑے۔
هَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ؕ
(89۔ الفجر:6)
hifz taraweeh
►
کیا اس میں کسی صاحبِ عقل کےلئے کوئی قَسم ہے؟
کیا اس میں عقل مند کے لئے کوئی قسم (یعنی شہادت) ہے (یا نہیں؟)
اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۪ۙ
(89۔ الفجر:7)
hifz taraweeh
►
کیا تُو نے دیکھا نہیں کہ تیرے ربّ نے عاد سے کیا کیا؟
کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے رب نے عاد سے کیا (معاملہ) کیا۔
اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۪ۙ
(89۔ الفجر:8)
hifz taraweeh
►
(یعنی عاد کی شاخ) اِرم کے ساتھ، جو بڑے ستونوں والے تھے۔
یعنی (عاد) ارم سے جو بڑی بڑی عمارتوں والے تھے۔
الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ ۪ۙ
(89۔ الفجر:9)
hifz taraweeh
►
جن جیسی تعمیر ملکوں میں کبھی نہیں کی گئی۔
وہ لوگ جن کی مانند کوئی قوم ان ملکوں میں پیدا ہی نہیں کی گئی تھی۔
وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۪ۙ
(89۔ الفجر:10)
hifz taraweeh
►
اور ثمود کے ساتھ، جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں۔
اور (کیا) ثمود (کے متعلق بھی تجھے معلومات ہیں) جو وادیوں میں کھود کر (اپنے مکان) بناتے تھے۔
وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ ۪ۙ
(89۔ الفجر:11)
hifz taraweeh
►
اور فرعون کے ساتھ، جو کِیل کانٹوں سے لیس تھا۔
اور فرعون (کے متعلق بھی تجھے کچھ پتہ ہے) جو پہاڑوں کا مالک تھا۔
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ ۪ۙ
(89۔ الفجر:12)
hifz taraweeh
►
(یہ) وہ لوگ (تھے) جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی۔
وہ (پہاڑ) جنہوں نے شہروں میں سخت فساد کر رکھا تھا۔
فَاَکْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ ۪ۙ
(89۔ الفجر:13)
hifz taraweeh
►
اور ان میں بہت زیادہ فساد کیا۔
اور فساد میں بڑھتے ہی جاتے تھے۔
فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ۚۙ
(89۔ الفجر:14)
hifz taraweeh
►
پس تیرے ربّ نے عذاب کا کوڑا ان پر برسایا۔
جس پر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔
اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ؕ
(89۔ الفجر:15)
hifz taraweeh
►
یقیناً تیرا ربّ ضرور گھات میں تھا۔
تیرا رب یقیناً گھات میں (لگا ہوا) ہے۔
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰٮهُ رَبُّهٗ فَاَکْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ۬ۙ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَکْرَمَنِ ؕ
(89۔ الفجر:16)
hifz taraweeh
►
پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس کا ربّ اُس کی آزمائش کرتا ہے پھر اُسے عزّت دیتا اور اُسے نعمت عطا کرتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے میرا اِکرام کیا ہے۔
پس (ذرا دیکھ تو) انسان کی حالت کو کہ جب اس کا رب اسے آزمائش میںڈالتا ہے‘ اور اس کی عزت کرتا ہے اور اس پر نعمت نازل کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ (میں ایسا ذیشان ہوں کہ) میرے رب نے (بھی) میری عزت کی۔
وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰٮهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ ۬ۙ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِ ۚ
(89۔ الفجر:17)
hifz taraweeh
►
اور اس کے برعکس جب وہ اُس کی آزمائش کرتا اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے میری بے عزتی کی ہے۔
اور جب (خدا) اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے‘ میرے رب نے (بلاوجہ) میری بے عزتی کی۔
کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۙ
(89۔ الفجر:18)
hifz taraweeh
►
خبردار! درحقیقت تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے۔
(خدا بلا وجہ سزا نہیں دیتا) بلکہ (قصور تمہارا اپنا ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے تھے۔
وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۙ
(89۔ الفجر:19)
hifz taraweeh
►
اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو رغبت دلاتے تھے۔
وَ تَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا ۙ
(89۔ الفجر:20)
hifz taraweeh
►
اور تم ورثہ تمام تر ہڑپ کر جاتے ہو۔
اور ورثہ کا مال سب کا سب (عیش میں) اڑا جاتے تھے۔
وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ؕ
(89۔ الفجر:21)
hifz taraweeh
►
اور مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔
اور تم مال سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔
کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ۙ
(89۔ الفجر:22)
hifz taraweeh
►
خبردار! جب زمین کُوٹ کُوٹ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔
سنو! جب زمین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔
وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ۚ
(89۔ الفجر:23)
hifz taraweeh
►
اور تیرا ربّ آئے گا اور صف بہ صف فرشتے بھی۔
اور تیرا رب اس شان میں آئے گا کہ فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔
وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۬ۙ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰی لَهُ الذِّکْرٰی ؕ
(89۔ الفجر:24)
hifz taraweeh
►
اور اُس دن جہنّم کو لایا جائے گا۔ اُس دن انسان نصیحت حاصل کرنا چاہے گا مگر اب نصیحت پکڑنا اُس کے لئے کہاں ممکن ہے؟
اور اس دن جہنم (قریب) لائی جائے گی‘ اس عذاب کے وقت انسان چاہے گا کہ نصیحت حاصل کرے مگر وہ وقت نصیحت سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا نہیں ہوگا۔
یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۚ
(89۔ الفجر:25)
hifz taraweeh
►
وہ کہے گا اے کاش! میں نے اپنی زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیجا ہوتا۔
وہ کہے گا‘ کاش میں نے اپنی (اس) زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔
فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ ۙ
(89۔ الفجر:26)
hifz taraweeh
►
پس اس دن اُس جیسا عذاب کوئی اور نہ دے گا۔
پس اس دن خدا کے عذاب جیسا اسے کوئی عذاب نہ دے گا۔
وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ؕ
(89۔ الفجر:27)
hifz taraweeh
►
اور کوئی اُس جیسی مُشکیں نہیں کسے گا۔
اور نہ اس کی گرفت جیسی کوئی گرفت کرے گا۔
ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۚ
(89۔ الفجر:29)
hifz hayat akhrat kalam taraweeh
►
اپنے ربّ کی طرف لَوٹ جا، راضی رہتے ہوئے اور رضا پاتے ہوئے۔
اپنے رب کی طرف لوٹ آ (اس حال میں کہ تو اسے) پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی۔
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۙ
(89۔ الفجر:30)
hifz hayat akhrat kalam taraweeh
►
پس میرے بندوں میں داخل ہوجا۔
پھر (تیرا رب تجھے کہتا ہے کہ) آ میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔
وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (ع)
(89۔ الفجر:31)
hifz taqdeer allah kalam hayat akhrat taraweeh
►
اور میری جنت میں داخل ہوجا۔
اور (آ) میری جنت میں بھی داخل ہو جا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(90۔ البلد:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۙ
(90۔ البلد:2)
all hifz
►
خبردار! میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں۔
سن لو! تمہاری بات غلط ہے میں اس شہر (مکہ) کو تیری سچائی کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۙ
(90۔ البلد:3)
all hifz
►
جبکہ تو اس شہر میں (ایک دن) اُترنے والا ہے۔
اور (کہتا ہوں کہ اے محمد) تو (ایک دن) پھر اس شہر (مکہ) میں واپس آنے والا ہے۔
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ
(90۔ البلد:4)
all hifz
►
اور باپ کی اور جو اُس نے اولاد پیدا کی۔
اور باپ کو بھی اور بیٹے کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں)
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ؕ
(90۔ البلد:5)
all hifz
►
یقیناً ہم نے انسان کو ایک مسلسل محنت میں (رہنے کے لئے) پیدا کیا۔
ہم نے یقیناً انسان کو رہین محنت بنایا ہے۔
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌ ۘ
(90۔ البلد:6)
all hifz
►
کیا وہ گمان کرتا ہے کہ ہرگز اُس پر کوئی غلبہ نہ پا سکےگا۔
کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کسی کا زور نہیں چلے گا۔
یَقُوْلُ اَهْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ
(90۔ البلد:7)
all hifz
►
وہ کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال لُٹا دیا۔
وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ڈھیروں ڈھیر مال لٹا دیا ہے۔
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌ ؕ
(90۔ البلد:8)
all hifz
►
کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا؟
کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔
اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِ ۙ
(90۔ البلد:9)
all hifz
►
کیا ہم نے اُس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟
کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں پیدا کیں؟
وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِ ۙ
(90۔ البلد:10)
all hifz
►
اور زبان اور دو ہونٹ؟
اور زبان بھی اور دو ہونٹ بھی (پیدا نہیں کیے؟)
وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ ۚ
(90۔ البلد:11)
all hifz
►
اور ہم نے اُسے دو مرتفع راستوں کی طرف ہدایت دی۔
پھر ہم نے اسے (ہدایت اور گمراہی کے) دونوں راستے بھی بتا دئیے ہیں۔
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۫ۖ
(90۔ البلد:12)
all hifz
►
پس وہ عَقَبَہ پر نہیں چڑھا۔
(مگر) وہ پھر بھی چوٹی پر نہ چڑھا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا الْعَقَبَۃُ ؕ
(90۔ البلد:13)
all hifz
►
اور تُجھے کیا سمجھائے کہ عَقَبَہ کیا ہے؟
اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ چوٹی کیا (ہے اور کس چیز کا نام) ہے؟
فَکُّ رَقَبَۃٍ ۙ
(90۔ البلد:14)
all hifz
►
گردن کاآزاد کرنا۔
(چوٹی پر چڑھنا غلام کی) گردن چھڑانا ہے۔
اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۙ
(90۔ البلد:15)
all hifz
►
یا ایک عام فاقے والے دن میں کھانا کھلانا۔
یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔
یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۙ
(90۔ البلد:16)
all hifz
►
ایسے یتیم کو جو قرابت والا ہو۔
یتیم کو‘ جو قریبی ہو۔
اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ؕ
(90۔ البلد:17)
all hifz
►
یا ایسے مسکین کو جو خاک آلودہ ہو۔
یا مسکین کو جو زمین پر گرا ہوا ہو۔
ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ ؕ
(90۔ البلد:18)
all hifz
►
پھر وہ اُن میں سے ہو جائے جو ایمان لے آئے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کرتے ہیں۔
پھر (چوٹی پر چڑھنا یہ تھا کہ ان کاموں کے علاوہ) یہ ان میں سے بن جاتا جو ایمان لائے اور (جنہوں نے) ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی نصیحت کی۔
اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ؕ
(90۔ البلد:19)
all hifz
►
یہی ہیں دائیں طرف والے۔
یہی لوگ تو برکت والے ہونگے۔
وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَۃِ ؕ
(90۔ البلد:20)
all hifz
►
اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کردیا وہ بائیں طرف والے ہیں۔
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا وہ نحوست والے ہونگے۔
عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ (ع)
(90۔ البلد:21)
all hifz
►
اُن پر (لپکنے کے لئے) ایک بند کی ہوئی آگ (مقدر) ہے۔
ان پر بھٹی کی آگ (کی سزا) نازل ہوگی۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(91۔ الشمس:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:2)
all hifz
►
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔
میں سورج کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں‘ اور ضحی کے وقت کو‘ جب وہ طلوع ہونے کے بعد اونچا ہو جاتا ہے۔
وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:3)
all hifz
►
اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔
اور چاند کو جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے۔
وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:4)
all hifz
►
اور دن کی جب وہ اُس (یعنی سورج) کو خوب روشن کردے۔
اور دن کو (بھی شہادت کے طور پر پیش کرتاہوں) جب وہ اس (سورج) کو ظاہر کر دیتا ہے۔
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:5)
all hifz
►
اور رات کی جب وہ اُسے ڈھانپ لے۔
اور رات کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب وہ اس (سورج) کی روشنی کو آنکھوں سے اوجھل کر دیتی ہے۔
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:6)
all hifz
►
اور آسمان کی اور جیسے اُس نے اُسے بنایا۔
اور آسمان کو اور اس کے بنائے جانے کو بھی۔
وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:7)
all hifz
►
اور زمین کی اور جیسے اُس نے اسے بچھایا۔
اور زمین کو بھی اور اس کے بچھائے جانے کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں)
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:8)
all hifz
►
اور ہر جان کی اور جیسے اس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا۔
اور انسانی نفس کو بھی اور اس کے بے عیب بنائے جانے کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں)
فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:9)
kalam khamisas1 malaikatullah paper
►
پس اُس کی بے اعتدالیوں اور اس کی پرہیزگاریوں (کی تمیز کرنے کی صلاحیت) کو اس کی فطرت میں ودیعت کیا۔
کہ اس (اللہ) نے نفس پر اس کی بدکاری (کی راہوں کو بھی) اور اس کے تقویٰ (کے راستوں) کو بھی اچھی طرح کھول دیا ہے۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:10)
all hifz
►
یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اُس (تقویٰ) کو پروان چڑھایا۔
پس جس نے اس (نفس) کو پاک کیا وہ تو (سمجھو کہ) اپنے مقصود کو پاگیا۔
وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٮهَا ؕ
(91۔ الشمس:11)
all hifz
►
اور نامراد ہوگیا جس نے اُسے مٹی میں گاڑ دیا۔
اور جس نے اسے (مٹی میں) گاڑ دیا (سمجھ لو کہ) وہ نامراد ہو گیا۔
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٮهَاۤ ۪ۙ
(91۔ الشمس:12)
all hifz
►
ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلادیا۔
ثمود نے اپنی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی کی وجہ سے (زمانہ کے نبی کو) جھٹلایا۔
اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:13)
all hifz
►
جب اُن میں سے سب سے بدبخت شخص اٹھ کھڑا ہوا۔
اس وقت جبکہ اس کی قوم میں سے سب سے بڑا بدبخت اس (زمانہ کے نبی) کی مخالفت کے لئے کھڑا ہوا۔
فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَۃَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَا ؕ
(91۔ الشمس:14)
all hifz
►
تب اللہ کے رسول نے اُن سے کہا اللہ کی اونٹنی اور اُس کے پانی پینے کا حق (یاد رکھنا)۔
اس پر ان (یعنی ثمود کی قوم) کو اللہ کے رسول (صالح) نے کہا کہ اللہ کے لئے وقف شدہ اونٹنی سے بچتے رہو اور اسی طرح اس کے پانی پلانے کے معاملہ میں بھی ہر قسم کی سرکشی سے باز آٶ۔
فَکَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ۪۬ۙ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰٮهَا ۪ۙ
(91۔ الشمس:15)
all hifz
►
پھر بھی انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تب اُن کے گناہ کے سبب اُن کے ربّ نے اُن پر پَے بہ پَے ضربیں لگائیں اور اس (بستی) کو ہموار کردیا۔
لیکن انہوں نے اس (نبی) کی بات نہ مانی بلکہ اس کو جھٹلا دیا اور (وہ) اونٹنی (جس سے بچتے رہنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اس) کی کونچیں کاٹ دیں جس کی وجہ سے اللہ نے ان کو خاک میں ملانے کا فیصلہ کر دیا اور ایسی تدبیریں کیں کہ اسی طرح ہو بھی گیا۔
وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا (ع)
(91۔ الشمس:16)
all hifz
►
جبکہ وہ اُس کے انجام کی کوئی پروا نہیں کررہا تھا۔
اور وہ (اسی طرح) ان (مکہ والوں) کے انجام کی بھی پروا نہیں کرے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(92۔ الليل:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی ۙ
(92۔ الليل:2)
all hifz
►
قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لے۔
میں رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں جب وہ ڈھانک لے۔
وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰی ۙ
(92۔ الليل:3)
all hifz
►
اور دن کی جب وہ روشن ہوجائے۔
اور دن کو بھی (میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب وہ خوب روشن ہوجائے۔
وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الْاُنْثٰۤی ۙ
(92۔ الليل:4)
all hifz
►
اور اس کی جو اُس نے نر اور مادہ پیدا کئے۔
اور نر اور مادہ کی پیدائش کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں)
اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی ؕ
(92۔ الليل:5)
all hifz
►
تمہاری کوشش یقیناً الگ الگ ہے۔
کہ تمہاری کوششیں یقیناً مختلف ہیں۔
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی ۙ
(92۔ الليل:6)
all hifz
►
پس وہ جس نے (راہِ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔
پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔
وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۙ
(92۔ الليل:7)
all hifz
►
اور بہترین نیکی کی تصدیق کی۔
اور نیک بات کی تصدیق کی۔
فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی ؕ
(92۔ الليل:8)
all hifz
►
تو ہم اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے۔
اسے تو ہم ضرور آسانی (کے مواقع) بہم پہنچائیں گے۔
وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰی ۙ
(92۔ الليل:9)
all hifz
►
اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی۔
اور ایسا (شخص) جس نے بخل سے کام لیا اور بے پروائی کا اظہار کیا۔
وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی ۙ
(92۔ الليل:10)
all hifz
►
اور بہترین نیکی کی تکذیب کی۔
اور نیک بات کو جھٹلایا۔
فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی ؕ
(92۔ الليل:11)
all hifz
►
تو ہم اُسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے۔
اسے ہم تکلیف (کا سامان) بہم پہنچائیں گے۔
وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَا لُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ؕ
(92۔ الليل:12)
all hifz
►
اور اس کا مال جب تباہ ہو جائے گا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔
اور جب وہ ہلاک ہوگا تو اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا۔
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی ۫ۖ
(92۔ الليل:13)
all hifz
►
یقیناً ہدایت دینا ہم پر بہرحال فرض ہے۔
ہدایت دینا یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے۔
وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَۃَ وَ الْاُوْلٰی
(92۔ الليل:14)
all hifz
►
اور یقیناً انجام بھی لازماً ہمارے تصرف میں ہے اور آغاز بھی۔
اور ہر بات کی انتہا اور ابتدا بھی یقیناً ہمارے ہی اختیار میں ہے۔
فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی ۚ
(92۔ الليل:15)
all hifz
►
پس میں تمہیں اس آگ سے ڈراتا ہوں جو شعلہ زن ہے۔
پس (یاد رکھو کہ) میں نے (تو) تم کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ہوشیار کر دیا ہے۔
لَا یَصْلٰٮهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۙ
(92۔ الليل:16)
all hifz
►
اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر سخت بدبخت۔
اس میں سوائے کسی بڑے بدبخت کے کوئی داخل نہ ہوگا۔
الَّذِیْ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ؕ
(92۔ الليل:17)
all hifz
►
وہ جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیر لی۔
(ایسا بدبخت) جس نے (حق کو) جھٹلایا اور (سچ سے) منہ پھیر لیا۔
وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَی ۙ
(92۔ الليل:18)
all hifz
►
جبکہ سب سے بڑھ کر متّقی اس سے ضرور بچایا جائے گا۔
اور جو بڑا متقی ہوگا وہ ضرور اس سے دور رکھا جائے گا۔
الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَکّٰی ۚ
(92۔ الليل:19)
all hifz
►
جو اپنا مال دیتا ہے پاکیزگی چاہتے ہوئے۔
(ایسا متقی) جو اپنا مال (اس لئے خدا کی راہ میں) دیتا ہے کہ (اس سے) تزکیہ حاصل کرے۔
وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰۤی ۙ
(92۔ الليل:20)
all hifz
►
اور اس پر کسی کا احسان نہیں ہے کہ جس کا (اس کی طرف سے) بدلہ دیا جا رہا ہو۔
اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہوتا جس کا بدلہ اتارنے کا اس کو خیال ہو۔
اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی ۚ
(92۔ الليل:21)
all hifz
►
(یہ) محض اپنے ربّ ِ اعلیٰ کی خوشنودی چاہتے ہوئے (خرچ کرتا ہے)۔
ہاں مگر اپنے عالی شان رب کی خوشنودی حاصل کرنا (اس کا مقصود ہوتا ہے)
وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی (ع)
(92۔ الليل:22)
all hifz
►
اور وہ ضرور راضی ہو جائے گا۔
اور وہ (خدا) ضرور اس سے راضی ہو جائے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(93۔ الضحى:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الضُّحٰی ۙ
(93۔ الضحى:2)
all hifz
►
قَسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہوچکا ہو۔
میں دن کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں‘ جب وہ روشن ہو جائے۔
وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی ۙ
(93۔ الضحى:3)
all hifz
►
اور رات کی جب وہ خوب تاریک ہوجائے۔
اور رات کو (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جائے۔
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ
(93۔ الضحى:4)
all hifz
►
تجھے تیرے ربّ نے نہ چھوڑا ہے اور نہ نفرت کی ہے۔
کہ نہ تیرے رب نے تجھے ترک کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔
وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ؕ
(93۔ الضحى:5)
all hifz
►
اور یقیناً آخرت تیرے لئے (ہر) پہلی (حالت) سے بہتر ہے۔
اور (دیکھ تو سہی کہ) تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہوتی ہے۔
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ
(93۔ الضحى:6)
all hifz
►
اور تیرا ربّ ضرور تجھے عطا کرے گا۔ پس تُو راضی ہو جائے گا۔
اور ضرور تیرا رب تجھے (وہ کچھ دے کر رہے گا جس پر تو خوش ہو جائے گا۔
اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی ۪
(93۔ الضحى:7)
all hifz
►
کیا اُس نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا؟ پس پناہ دی۔
کیا (اس زندگی میں اس کا سلوک تیرے ساتھ غیر معمولی نہیں رہا اور) اس نے تجھے یتیم پاکر (اپنے زیر سایہ) جگہ نہیں دی۔
وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَهَدٰی ۪
(93۔ الضحى:8)
all hifz
►
اور تجھے تلاش میں سرگرداں (نہیں) پایا، پس ہدایت دی۔
اور (جب) اس نے تجھے (اپنی قوم کی محبت میں) سرشار دیکھا تو (ان کی اصلاح کا) صحیح راستہ تجھے بتا دیا۔
وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی ؕ
(93۔ الضحى:9)
all hifz
►
اور تجھے ایک بڑے کنبہ والا (نہیں) پایا، پس غنی کردیا۔
اور جب تجھے کثیر العیال پایا تو (اپنے فضل سے) غنی کر دیا۔
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ ؕ
(93۔ الضحى:10)
all hifz
►
پس جہاں تک یتیم کا تعلق ہے تو اُس پر سختی نہ کر۔
پس (ان احسانوں کے نتیجہ میں) تو بھی یتیموں کو ابھارنے میں لگا رہ۔
وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ ؕ
(93۔ الضحى:11)
all hifz
►
اور جہاں تک سوالی کا تعلق ہے تو اُسے مت جھڑک۔
اور سوالی کو تو جھڑک مت۔
وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (ع)
(93۔ الضحى:12)
all hifz
►
اور جہاں تک تیرے ربّ کی نعمت کا تعلق ہے تو (اسے) بکثرت بیان کیا کر۔
اور تو اپنے رب کی نعمت کا ضرور اظہار کرتا رہ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(94۔ الشرح:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۙ
(94۔ الشرح:2)
all hifz
►
کیا ہم نے تیری خاطر تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟
کیا ہم نے تیرے لئے تیرے سینہ کو کھول نہیں دیا۔
وَ وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۙ
(94۔ الشرح:3)
all hifz
►
اور تجھ سے ہم نے تیرا بوجھ اتار نہیں دیا؟
اور تیرے اس بوجھ کو تجھ پر سے اتار کر پھینک نہیں دیا۔
الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَکَ ۙ
(94۔ الشرح:4)
all hifz
►
جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی-
ایسا بوجھ‘ جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی۔
وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ؕ
(94۔ الشرح:5)
all hifz
►
اور ہم نے تیرے لئے تیرا ذکر بلند کردیا-
اور تیرے ذکر کو بھی ہم نے بلند کر دیا ہے۔
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۙ
(94۔ الشرح:6)
all hifz
►
پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسائش ہے-
پس (یاد رکھ کہ) اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ
(94۔ الشرح:7)
all hifz
►
یقیناً تنگی کے ساتھ آسائش ہے-
(ہاں) یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک (اور بھی) بڑی کامیابی (مقدر) ہے۔
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۙ
(94۔ الشرح:8)
all hifz
►
پس جب تُو فارغ ہو جائے تو کمر ہمت کَس لے-
پس جب (بھی) تو فارغ ہو تو (خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے) پھر کوشش میں لگ جا۔
وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ (ع)
(94۔ الشرح:9)
all hifz
►
اور اپنے ربّ ہی کی طرف رغبت کر-
اور تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(95۔ التين:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ ۙ
(95۔ التين:2)
all hifz
►
قَسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔
میں انجیر کو اور زیتون کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ ۙ
(95۔ التين:3)
all hifz
►
اور طورِ سینین کی۔
اور اسی طرح سینین کے پہاڑ کو۔
وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ۙ
(95۔ التين:4)
all hifz
►
اور اس امن والے شہر کی۔
اور اس امن والے شہر (مکہ) کو بھی۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۫
(95۔ التين:5)
all hifz
►
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ارتقائی حالت میں پیدا کیا۔
(یہ ساری شہادتیں ثابت کرتی ہیں کہ) یقیناً ہم نے انسان کو موزوں سے موزوں حالت میں پیدا کیا ہے۔
ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۙ
(95۔ التين:6)
all hifz
►
پھر ہم نے اُسے نچلے درجے کی طرف لَوٹنے والوں میں سب سے نیچے لَوٹا دیا۔
پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجوں سے (بھی) بدتر درجہ کی طرف لوٹا دیا۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ؕ
(95۔ التين:7)
all hifz
►
سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے۔ پس اُن کے لئے غیرمنقطع اجر ہے۔
باستثنا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے مناسب حال عمل کیے سو ان کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا نیک بدلہ ہوگا۔
فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ؕ
(95۔ التين:8)
all hifz
►
پس اس کے بعد وہ کیا ہے جو تجھے دین کے معاملہ میں جھٹلائے ؟
پس اس (حقیقت کے کھل جانے) کے بعد کونسی چیز تجھ کو جزا سزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے۔
اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ (ع)
(95۔ التين:9)
all hifz
►
کیا اللہ سب فیصلہ کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ اچھا فیصلہ کرنے والا نہیں؟
کیا (اب بھی کوئی خیال کر سکتا ہے کہ) اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(96۔ العلق:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۚ
(96۔ العلق:2)
all hifz kalam khamisas1 qatl murtad paper
►
پڑھ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔
اپنے رب کا نام لے کر پڑھ‘ جس نے (سب اشیا کو) پیدا کیا۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۚ
(96۔ العلق:3)
all hifz
►
اُس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
(اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ
(96۔ العلق:4)
all hifz
►
پڑھ، اور تیرا ربّ سب سے زیادہ معزز ہے۔
(پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن کو) پڑھ کر سناتا رہ‘ کیونکہ تیرا رب بڑا کریم ہے۔
الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ
(96۔ العلق:5)
all hifz
►
جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔
وہ رب جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا (ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا)
عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ
(96۔ العلق:6)
all hifz
►
انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
اس نے انسان کو (وہ کچھ) سکھایا ہے جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔
کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤی ۙ
(96۔ العلق:7)
all hifz
►
خبردار! انسان یقیناً سرکشی کرتا ہے۔
(جیسا وہ خیال کرتے ہیں اس طرح) نہیں بلکہ انسان یقیناً حد سے گذر رہا ہے ۔
اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰی ؕ
(96۔ العلق:8)
all hifz
►
(اس لئے) کہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھا۔
اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو (خدا کے فضل سے) مستغنی سمجھتا ہے۔
اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی ؕ
(96۔ العلق:9)
all hifz
►
یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰی ۙ
(96۔ العلق:10)
all hifz
►
کیا تُو نے اُس شخص پر غور کیا جو روکتا ہے؟
(اے مخاطب)! تو (مجھے) اس (شخص) کی (حالت کی) خبر دے‘ جو ایک
عَبْدًا اِذَا صَلّٰی ؕ
(96۔ العلق:11)
all hifz
►
ایک عظیم بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
(عبادت گذار) بندے کو جب وہ نماز میں مشغول ہوتا ہے (نماز سے) روکتا ہے
اَرَءَیْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْهُدٰۤی ۙ
(96۔ العلق:12)
all hifz
►
کیا تُو نے غور کیا کہ اگر وہ (عظیم بندہ) ہدایت پرہو؟
(اے مخاطب) تو (مجھے) بتا تو سہی کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا بندہ) ہدایت پر ہو۔
اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی ؕ
(96۔ العلق:13)
all hifz
►
یا تقویٰ کی تلقین کرتا ہو؟
یا تقویٰ کا حکم دیتا ہو۔
اَرَءَیْتَ اِنْ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ؕ
(96۔ العلق:14)
all hifz
►
کیا تُو نے غور کیا کہ اگر اس (نماز سے روکنے والے) نے (پھر بھی) جھٹلا دیا اور پیٹھ پھیرلی؟
اور اس کو روکنے والا (ہدایت کا) منکر ہو اور (اس سے) منہ پھیرتا ہو (تو پھر اس روکنے والے کا کیا انجام ہوگا)
اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی ؕ
(96۔ العلق:15)
all hifz
►
(تو) کیا وہ نہیں جانتا کہ یقیناً اللہ دیکھ رہا ہے؟
کیا وہ (اتنا بھی) نہیں جانتا کہ اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے (اس لئے وہ کان کھول کر سن لے کہ وہ غلطی کر رہا ہے)
کَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ ۬ۙ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ۙ
(96۔ العلق:16)
all hifz
►
خبردار! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یقیناً اُسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے۔
جس طرح وہ چاہتا ہے اس طرح نہیں ہوگا بلکہ اگر وہ (اپنے اس کام سے) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر زور سے گھسیٹیں گے۔
نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۚ
(96۔ العلق:17)
all hifz
►
جھوٹی خطاکار پیشانی کے بالوں سے۔
ایسی پیشانی کی چوٹی جو جھوٹی ہے اور وہ خطا کار بھی ہے۔
فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ ۙ
(96۔ العلق:18)
all hifz
►
پس چاہئے کہ وہ اپنی مجلس والوں کو بُلا دیکھے۔
پس (کافر کو) چاہیئے کہ وہ اپنی مجلس کو بلائے۔
سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۙ
(96۔ العلق:19)
all hifz
►
ہم ضرور دوزخ کے فرشتے بلائیں گے۔
ہم بھی اپنی پولیس کو بلائیں گے۔
کَلَّا ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ (ع)ٛ
(96۔ العلق:20)
all hifz
►
خبردار! اُس کی پیروی نہ کر اور سجدہ ریز ہو جا اور قرب (حاصل کرنے) کی کوشش کر۔
دشمن کی مرضی کے مطابق معاملہ نہیں ہوگا (پس اے نبی)! تو اس (قسم کے کافر) کی اطاعت نہ کر اور (صرف اپنے رب کے حضور میں) سجدہ کر اور (اس سجدہ کے نتیجہ میں اپنے رب کے) قریب تر ہوتا جا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(97۔ القدر:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لیکر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۚۖ
(97۔ القدر:2)
all hifz
►
یقیناً ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا ہے۔
ہم نے یقیناً اس (قرآن) کو ایک (عظیم الشان) تقدیر والی رات میں اتارا ہے۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ؕ
(97۔ القدر:3)
all hifz
►
اور تُجھے کیا سمجھائے کہ قدر کی رات کیا ہے۔
اور (اے مخاطب)! تجھے کیا معلوم ہے کہ (یہ عظیم الشان) رات جس میں تقدیریں اترتی ہیں کیا شے ہے۔
لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ۬ۙ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ؕؔ
(97۔ القدر:4)
all hifz
►
قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
یہ (عظیم الشان) تقدیروں والی رات تو ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے۔
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ۙۛ
(97۔ القدر:5)
all hifz
►
بکثرت نازل ہوتے ہیں اُس میں فرشتے اور روح القدس اپنے ربّ کے حکم سے ۔ ہر معاملہ میں۔
(ہر قسم کے) فرشتے اور (کامل) روح اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے تمام (دینی و دنیوی) امور لے کر اترتے ہیں۔
سَلٰمٌ ۟ۛ هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (ع)
(97۔ القدر:6)
all hifz
►
سلام ہے۔ یہ (سلسلہ) طلوعِ فجر تک جاری رہتا ہے۔
(پھر فرشتوں کے اترنے کے بعد تو) سلامتی (ہی سلامتی ہوتی) ہے (اور) یہ (حال) صبح کے طلوع ہونے تک (رہتا) ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(98۔ البينة:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَۃُ ۙ
(98۔ البينة:2)
all hifz
►
وہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، ہرگز باز آنے والے نہ تھے باوجود اس کے کہ اُن کے پاس کھلی کھلی دلیل آ چکی تھی۔
وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے یعنی اہل کتاب اور مشرک (دونوں ہی) کبھی (اپنے کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے‘ جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آجاتی۔
رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَۃً ۙ
(98۔ البينة:3)
all hifz
►
اللہ کا رسول مُطَہَّّر صحیفے پڑھتا تھا۔
یعنی اللہ کی (طرف) سے آنے والا ایک رسول جو (انہیں ایسے) پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا۔
فِیْهَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ
(98۔ البينة:4)
all hifz
►
اُن میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔
جن میں قائم رہنے والے احکام ہوں۔
وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَۃُ ؕ
(98۔ البينة:5)
all hifz
►
اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی، اُنہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ اُن کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔
اور (عجیب بات یہ ہے کہ) جن لوگوں کو (قرآن مجید جیسی مکمل) کتاب دی گئی ہے وہ اس واضح دلیل (یعنی رسول) کے آنے کے بعد ہی (مختلف گروہوں میں) تقسیم ہوئے ہیں۔
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ ؕ
(98۔ البينة:6)
all hifz
►
اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے، ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے، اور نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات کا دین ہے۔
حالانکہ انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کریں اور عبادت کو صرف اس کے لئے مخصوص کر دیں (اس حالت میں کہ) وہ اپنے نیک میلانوں میں ثابت قدم رہنے والے ہوں اور (پھر صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ) نماز باجماعت ادا کرتے رہیں اور زکٰوۃ دیں اور یہی (ہمیشہ صداقت پر) قائم رہنے والا دین ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ اُولٰٓئِکَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ ؕ
(98۔ البينة:7)
all hifz
►
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا جہنّم کی آگ میں ہوں گے۔ وہ اُس میں ایک لمبے عرصہ تک رہنے والے ہوں گے۔ یہی ہیں وہ جو بدترین مخلوق ہیں۔
اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کفر پر قائم رہنے والے لوگ یقیناً جہنم کی آگ میں (داخل) ہوں گے (اور وہ) اس میں رہتے چلے جائیں گے وہی لوگ بدترین خلائق ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ ؕ
(98۔ البينة:8)
all hifz
►
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے، یہی ہیں وہ جو بہترین مخلوق ہیں۔
(اس کے مقابل پر) وہ لوگ جو (اہل کتاب اور مشرکوں میں سے) ایمان لے آئے اور انہوں نے (ایمان کے) مناسب حال عمل بھی کیے‘ وہی لوگ بہترین خلائق ہیں۔
جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ (ع)
(98۔ البينة:9)
all hifz
►
اُن کی جزا اُن کے ربّ کے پاس ہمیشہ کی جنتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ابدالآباد تک ان میں رہنے والے ہوں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اُس سے راضی ہوگئے۔ یہ اُس کے لئے ہے جو اپنے ربّ سے خائف رہا۔
ان کا بدلہ ان کے رب کے حضور میں قائم رہنے والے باغات ہونگے جن کے تلے نہریں بہتی ہونگی وہ ان میں رہتے چلے جائیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس (اللہ) سے راضی ہو گئے۔ یہی (جزا) اس کی شان کے مطابق ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(99۔ الزلزلة:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ
(99۔ الزلزلة:2)
all hifz
►
جب زمین اپنے بھونچال سے جنبش دی جائے گی ۔
جب زمین کو پوری طرح ہلا دیا جائے گا۔
وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا ۙ
(99۔ الزلزلة:3)
all hifz
►
اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔
اور زمین اپنے بوجھ کو نکال (کر پھینک) دے گی۔
وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا ۚ
(99۔ الزلزلة:4)
all hifz
►
اور انسان کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔
اور انسان کہہ اٹھے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔
یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا ۙ
(99۔ الزلزلة:5)
all hifz
►
اُس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
اس دن وہ اپنی (ساری ہی پوشیدہ) خبریں بیان کر دے گی۔
بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَهَا ؕ
(99۔ الزلزلة:6)
all hifz
►
کیونکہ تیرے ربّ نے اسے وحی کی ہوگی۔
اس لئے کہ تیرے رب نے اس (زمین) کے حق میں وحی کر چھوڑی ہے۔
یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْ ؕ
(99۔ الزلزلة:7)
all hifz
►
اس دن لوگ پراگندہ حال نکل کھڑے ہوں گے تاکہ اُنہیں اُن کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔
اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں جمع ہونگے۔ تا کہ انہیں ان کے اعمال کی حقیقت دکھائی جائے۔
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَهٗ ؕ
(99۔ الزلزلة:8)
all hifz
►
پس جو کوئی ذرّہ بھر بھی نیکی کرے گا وہ اُسے دیکھ لے گا۔
پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَهٗ (ع)
(99۔ الزلزلة:9)
all hifz
►
اور جو کوئی ذرّہ بھر بھی بدی کرے گا وہ اُسے دیکھ لے گا۔
اور جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(100۔ العاديات:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۙ
(100۔ العاديات:2)
all hifz
►
سینے سے آواز نکالتے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کی قَسم۔
میں شہادت کے طور پر ان جماعتوں کو پیش کرتا ہوں جو گھوڑوں پر چڑھ کر اس طرح بے تحاشا دوڑتی ہیں کہ ان کے گھوڑوں کے منہ سے آوازیں نکلنے لگ جاتی ہیں۔
فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا ۙ
(100۔ العاديات:3)
all hifz
►
پھر چنگاریاں اُڑاتے ہوئے شعلے اُگلنے والوں کی۔
نیز ان گھوڑ سواروں کو جن کے مرکب چوٹ مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا ۙ
(100۔ العاديات:4)
all hifz
►
پھر ان کی جو صبح دم چھاپہ مارتے ہیں۔
پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کو۔
فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا ۙ
(100۔ العاديات:5)
all hifz
►
پھر وہ اس (حملے) کے ساتھ غبار اُڑاتے ہیں۔
جس کے نتیجہ میں اس (صبح کے وقت) میں غبار اڑاتے ہیں۔
فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا ۙ
(100۔ العاديات:6)
all hifz
►
پھر وہ اُس (غبار) کے ساتھ ایک جمعیّت کے بیچوں بیچ جا پہنچتے ہیں۔
اور لشکر میں گھس جاتے ہیں۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَکَنُوْدٌ ۚ
(100۔ العاديات:7)
all hifz
►
یقیناً انسان اپنے ربّ کا سخت ناشکرا ہے۔
انسان یقیناً اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر گذار ہے۔
وَ اِنَّهٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَهِیْدٌ ۚ
(100۔ العاديات:8)
all hifz
►
اور یقیناً وہ اس پر ضرور گواہ ہے۔
اور وہ یقیناً اس پر (اپنے قول اور فعل سے) گواہی دے رہا ہے۔
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ ؕ
(100۔ العاديات:9)
all hifz
►
اور یقیناً مال کی محبت میں وہ بہت شدید ہے۔
اور وہ (باوجود اس کے) یقیناً مال کی محبت میں بہت بڑھا ہوا ہے۔
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ ۙ
(100۔ العاديات:10)
all hifz
►
پس کیا وہ نہیں جانتا کہ جب اُسے نکالا جائےگا جو قبروں میں ہے؟
کیا ایسا انسان نہیں جانتا کہ جب وہ (لوگ) جو قبروں میں ہیں اٹھائے جائیں گے۔
وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ ۙ
(100۔ العاديات:11)
all hifz
►
اور وہ حاصل کیا جائے گا جو سینوں میں ہے۔
اور جو کچھ سینوں میں (چھپا پڑا) ہے نکال لیا جائے گا۔
اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ (ع)
(100۔ العاديات:12)
all hifz
►
یقیناً اُن کا ربّ اُس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔
اس دن ان کا رب یقیناً ان کی نگرانی کرنے والا ہوگا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(101۔ القارعة:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَلْقَارِعَۃُ ۙ
(101۔ القارعة:2)
all hifz kalam khamisas1 hayat akhrat paper
►
(خوابِ غفلت سے جگانے والی) ہولناک آواز۔
(دنیا پر) ایک شدید مصیبت (آنے والی ہے)
مَا الْقَارِعَۃُ ۚ
(101۔ القارعة:3)
all hifz
►
وہ ہولناک آواز کیا ہے؟
اور تجھے کیا معلوم کہ وہ مصیبت کیسی ہے۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا الْقَارِعَۃُ ؕ
(101۔ القارعة:4)
all hifz
►
اور تُجھے کیا سمجھائے کہ وہ ہولناک آواز کیا ہے؟
اور (پھر ہم کہتے ہیں کہ اے مخاطب)! تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (عظیم الشان) مصیبت کیا چیز ہے۔
یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۙ
(101۔ القارعة:5)
all hifz
►
جس دن لوگ پراگندہ ٹڈیوں کی طرح ہو جائیں گے۔
(یہ مصیبت جب آئے گی) اس وقت لوگ پراگندہ پروانوں کی طرح (حیران پھر رہے) ہوں گے۔
وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ؕ
(101۔ القارعة:6)
all hifz
►
اور پہاڑ دُھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔
اور پہاڑ اس پشم کی مانند ہو جائیں گے جو دھنکی ہوئی ہوتی ہے۔
فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ ۙ
(101۔ القارعة:7)
all hifz
►
پس وہ جس کے وزن بھاری ہوں گے۔
اس وقت جس کے (اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔
فَهُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ
(101۔ القارعة:8)
all hifz
►
تو وہ ضرور ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔
وہ تو (بہترین اور) پسندیدہ حالت میں ہوگا۔
وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ ۙ
(101۔ القارعة:9)
all hifz
►
اور وہ جس کے وزن ہلکے ہوں گے۔
اور جس کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے۔
فَاُمُّهٗ هَاوِیَۃٌ ؕ
(101۔ القارعة:10)
all hifz
►
تو اُس کی ماں ہاویہ ہوگی۔
اس کا ٹھکانا ہاویہ (یعنی جہنم) ہوگا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا هِیَهْ ؕ
(101۔ القارعة:11)
all hifz
►
اور تُجھے کیا سمجھائے کہ یہ کیا ہے؟
اور (اے مخاطب)! تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (ہاویہ) کیا ہے۔
نَارٌ حَامِیَۃٌ (ع)
(101۔ القارعة:12)
all hifz
►
ایک بھڑکتی ہوئی آگ۔
یہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(102۔ التكاثر:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَلْهٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ
(102۔ التكاثر:2)
all hifz
►
تمہیں غافل کردیا ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی دوڑ نے۔
تم کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خواہش نے غفلت میں ڈال دیا (اور تم اسی طرح غافل رہو گے)
حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ
(102۔ التكاثر:3)
all hifz
►
یہاں تک کہ تم نے مقبروں کی بھی زیارت کی۔
یہاں تک کہ تم مقبروں میں جا پہنچو گے۔
کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ
(102۔ التكاثر:4)
all hifz
►
خبردار! تم ضرور جان لو گے۔
(خوب یاد رکھو کہ) تم لوگ عنقریب (قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کو) جان لوگے۔
ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ؕ
(102۔ التكاثر:5)
all hifz
►
پھر خبردار! تم ضرور جان لوگے۔
پھر (ہم کہتے ہیں کہ تمہاری حالت اس طرح نہیں جس طرح تم سمجھتے ہو اور) عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا (کہ تمہاری اندرونی حالت حقیقتہً وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے)
کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ؕ
(102۔ التكاثر:6)
all hifz
►
خبردار! اگر تم یقینی علم کی حد تک جان لو۔
(اصل حقیقت تمہارے خیالات کے مطابق) ہرگز نہیں (ہے) کاش تم اصل حقیقت علم یقین کی مدد سے جان سکتے۔
لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۙ
(102۔ التكاثر:7)
all hifz hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
تو ضرور تم جہنّم کو دیکھ لو گے۔
(تب تم کو معلوم ہو جاتا کہ) تم ضرور جہنم کو (اسی دنیا میں) دیکھو گے۔
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۙ
(102۔ التكاثر:8)
all hifz hayat akhrat kalam khamisas1 paper
►
پھر تم ضرور اُسے آنکھوں دیکھے یقین کی طرح دیکھو گے۔
اور اس کے بعد تم اسے یقین کی آنکھ سے (آخرت میں) بھی دیکھ لو گے۔
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (ع)
(102۔ التكاثر:9)
all hifz
►
پھر اس دن تم ناز و نعم کے متعلق ضرور پوچھے جاؤگے۔
پھر (یہ بھی یاد رکھو کہ) تم سے اس دن (ہر بڑی) نعمت کے متعلق سوال کیا جائے گا (کہ تم نے اس کا شکر ادا کیا ہے یا نہیں کیا)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(103۔ العصر:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَ الْعَصْرِ ۙ
(103۔ العصر:2)
all hifz
►
زمانے کی قَسم۔
میں (محمد کے) زمانہ کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۙ
(103۔ العصر:3)
all hifz
►
یقیناً انسان ایک بڑے گھاٹے میں ہے۔
(کہ) یقیناً (نبیوں کا مخالف) انسان (ہمیشہ ہی) گھاٹے میں (رہتا) ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (ع)
(103۔ العصر:4)
all hifz
►
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اور حق پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
مگر وہ لوگ جو (انبیاء پر) ایمان لے آئے اور (پھر) انہوں نے (موقعہ کے) مناسب حال عمل کیے اور صداقت کے اصول پر قائم رہنے کی آپس میں ایک دوسرے کو تلقین کی اور (پیش آمدہ مشکلات پر صبر سے کام لینے کی) ایک دوسرے کو ہدایت کرتے رہے (ایسے لوگ کبھی بھی گھاٹے میں نہیں پڑ سکتے)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(104۔ الهُمَزَة:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
وَیْلٌ لِّکُلِّ هُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ ۣ ۙ
(104۔ الهُمَزَة:2)
all hifz
►
ہلاکت ہو ہر غیبت کرنے والے سخت عیب جُو کےلئے۔
ہر غیبت کرنے والے (اور) عیب چینی کرنے والے کے لئے عذاب (ہی عذاب) ہے۔
الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ ۙ
(104۔ الهُمَزَة:3)
all hifz
►
جس نے مال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔
جو مال کو جمع کرتا ہے اور اس کو شمار کرتا رہتا ہے۔
یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ ۚ
(104۔ الهُمَزَة:4)
all hifz
►
وہ گُمان کیا کرتا تھا کہ اُس کا مال اُسے دوام بخش دے گا۔
وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس (کے نام) کو باقی رکھے گا۔
کَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ ۫ۖ
(104۔ الهُمَزَة:5)
all hifz
►
خبردار! وہ ضرور حُطَمَہ میں گرایا جائے گا۔
ہرگز ایسا نہیں (جیسا اس کا خیال ہے بلکہ) وہ یقیناً (اپنے مال سمیت) حطمہ میں پھینکا جائے گا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰٮکَ مَا الْحُطَمَۃُ ؕ
(104۔ الهُمَزَة:6)
all hifz
►
اور تُجھے کیا بتائے کہ حُطَمَہ کیا ہے۔
اور (اے مخاطب)! تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ حطمہ کیا شے ہے؟
نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَۃُ ۙ
(104۔ الهُمَزَة:7)
all hifz
►
وہ اللہ کی آگ ہے بھڑکائی ہوئی۔
یہ (حطمہ) اللہ کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔
الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ ؕ
(104۔ الهُمَزَة:8)
all hifz
►
جو دلوں پر لپکے گی۔
جو دلوں کے اندر تک جا پہنچے گی۔
اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَۃٌ ۙ
(104۔ الهُمَزَة:9)
all hifz
►
یقیناً وہ اُن کے خلاف بند رکھی گئی ہے۔
پھر وہ (آگ) سب طرف سے بند کر دی جائے گی تا کہ اس کی گرمی ان کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو۔
فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ (ع)
(104۔ الهُمَزَة:10)
all hifz
►
ایسے ستونوں میں جو کھینچ کر لمبے کئے گئے ہیں۔
اور (وہ لوگ اس وقت) لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہونگے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(105۔ الفيل:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ؕ
(105۔ الفيل:2)
all hifz
►
کیا تُو نہیں جانتا کہ تیرے ربّ نے ہاتھی والوں سے کیا سلوک کیا؟
(اے محمد)! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی (استعمال کرنے) والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۙ
(105۔ الفيل:3)
all hifz
►
کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو رائیگاں نہیں کردیا؟
کیا (ان کو حملہ سے قبل ہلاک کرکے) ان کے منصوبہ کو باطل نہیں کر دیا۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ ۙ
(105۔ الفيل:4)
all hifz
►
اور اُن پر غَول در غَول پرندے (نہیں) بھیجے؟
اور (اس کے بعد) ان (کی لاشوں) پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے‘
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ۪ۙ
(105۔ الفيل:5)
all hifz
►
وہ اُن پر کنکر ملی خشک مٹی کے ڈھیلوں سے پتھراؤ کر رہے تھے۔
(جو) ان (کے گوشت) کو سخت قسم کے پتھروں پر مارتے (اور نوچتے) تھے۔
فَجَعَلَهُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ (ع)
(105۔ الفيل:6)
all hifz
►
پس اس نے اُنہیں کھائے ہوئے بُھوسے کی طرح کردیا۔
سو اس کے نتیجہ میں اس نے انہیں ایسا بھوسا کی طرح کر دیا جسے جانوروں نے کھا لیا ہو۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(106۔ قريش:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۙ
(106۔ قريش:2)
all hifz
►
قریش میں باہم ربط پیدا کرنے کے لئے۔
(دوسری اغراض کے علاوہ) قریش کے دلوں کو مانوس کرنے کے لئے۔
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِ ۚ
(106۔ قريش:3)
all hifz
►
(ہاں) اُن میں ربط بڑھانے کے لئے (ہم نے) سردیوں اور گرمیوں کے سفر بنائے ہیں۔
یعنی ان کے دلوں کو گرمائی اور سرمائی سفروں سے مانوس کرنے کے لئے (ہم نے ابرہہ کو تباہ کیا)
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ ۙ
(106۔ قريش:4)
all hifz
►
پس وہ عبادت کریں اس گھر کے ربّ کی۔
پس انہیں لازم ہے کہ وہ (قریش) اس گھر (یعنی کعبہ) کے مالک کی عبادت کریں‘ جس نے انہیں (ہر قسم کی) بھوک (کی حالت) میں کھانا کھلایا اور (ہر قسم کی) خوف کی حالت میں امن بخشا۔
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ (ع)
(106۔ قريش:5)
all hifz
►
جس نے اُنہیں بھوک سے (نجات دیتے ہوئے) کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔
پس انہیں لازم ہے کہ وہ (قریش) اس گھر (یعنی کعبہ) کے مالک کی عبادت کریں‘ جس نے انہیں (ہر قسم کی) بھوک (کی حالت) میں کھانا کھلایا اور (ہر قسم کی) خوف کی حالت میں امن بخشا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(107۔ الماعون:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ؕ
(107۔ الماعون:2)
all hifz
►
کیا تُو نے اس شخص پر غور کیا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟
(اے مخاطب)! کیا تو نے اس شخص کو پہچانا جو دین کو جھٹلاتا ہے۔
فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۙ
(107۔ الماعون:3)
all hifz
►
پس وہی شخص ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے۔
وہی تو ہے جو یتیم کو دھتکارا کرتا تھا۔
وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ؕ
(107۔ الماعون:4)
all hifz
►
اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔
اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے کے لئے (لوگوں کو کبھی) ترغیب نہیں دیتا تھا۔
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ۙ
(107۔ الماعون:5)
all hifz
►
پس اُن نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو۔
اور ان نمازیوں کے لئے بھی ہلاکت ہے۔
الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ۙ
(107۔ الماعون:6)
all hifz
►
جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔
جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔
الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ ۙ
(107۔ الماعون:7)
all hifz
►
وہ لوگ جو دکھاوا کرتے ہیں۔
(اور) جو لوگ صرف دکھاوے سے کام لیتے ہیں۔
وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (ع)
(107۔ الماعون:8)
all hifz
►
اور روزمرہ کی ضروریات کی چیزیں بھی (لوگوں سے) روکے رکھتے ہیں۔
اور وہ اپنے گھر کے معمولی سامان تک دینے سے (اپنے نفسوں کو اور دوسروں کو) روکتے رہتے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(108۔ الكوثر:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ
(108۔ الكوثر:2)
all hifz
►
یقیناً ہم نے تجھے کوثر عطا کی ہے۔
(اے نبی)! یقیناً ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے۔
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ
(108۔ الكوثر:3)
all hifz
►
پس اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھ اور قربانی دے۔
سو تو (اس کے شکریہ میں) اپنے رب کی (کثرت سے) عبادت کر اور اسی کی خاطر قربانیاں کر ۔
اِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْاَبْتَرُ (ع)
(108۔ الكوثر:4)
all hifz
►
یقیناً تیرا دشمن ہی ہے جو اَبتررہے گا۔
اور یقین رکھ کہ تیرا مخالف ہی نرینہ اولاد سے محروم ثابت ہوگا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(109۔ الكافرون:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْکٰفِرُوْنَ ۙ
(109۔ الكافرون:2)
all hifz
►
کہہ دے کہ اے کافرو !
(ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ) تو (اپنے زمانہ کے کفار سے) کہتا چلا جا (کہ) سنو! اے کافرو
لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ۙ
(109۔ الكافرون:3)
all hifz
►
میں اُس کی عبادت نہیں کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔
میں تمہارے طریق کے مطابق عبادت نہیں کرتا۔
وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ ۚ
(109۔ الكافرون:4)
all hifz
►
اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
اور نہ تم میرے طریق کے مطابق عبادت کرتے ہو۔
وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ ۙ
(109۔ الكافرون:5)
all hifz
►
اور میں کبھی اُس کی عبادت کرنے والا نہیں بنوں گا جس کی تم نے عبادت کی ہے۔
اور نہ میں (ان کی) عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے چلے آئے ہو۔
وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ ؕ
(109۔ الكافرون:6)
all hifz
►
اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے بنوگے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
اور نہ تم (اس کی) عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔
لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (ع)
(109۔ الكافرون:7)
hifz kalam khamisas1 qatl murtad khamisas2
►
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔
(اوپر کا اعلان نتیجہ ہے اس کا کہ) تمہارا دین تمہارے لئے (ایک طریق کار مقرر کرتا) ہے اور میرا دین میرے لئے (دوسرا طریق کار مقرر کرتا) ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(110۔ النصر:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ ۙ
(110۔ النصر:2)
all hifz
►
جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی۔
جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا ۙ
(110۔ النصر:3)
all hifz
►
اور تُو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔
اور تو اس بات کے آثار دیکھ لے گا کہ اللہ کے دین میں لوگ فوج در فوج داخل ہوں گے۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ اسْتَغْفِرْهُ ؕؔ اِنَّهٗ کَانَ تَوَّابًا (ع)
(110۔ النصر:4)
all hifz
►
پس اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ (اس کی) تسبیح کر اور اُس سے مغفرت مانگ۔ یقیناً وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
اس وقت تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ (ساتھ) اس کی پاکیزگی بیان کرنے میں بھی مشغول ہو جائیو اور (مسلمانوں کی تربیت میں جو کوتاہیاں ہوئی ہوں ان پر) اس (خدا) سے پردہ ڈالنے کی دعا کیجیئو۔ وہ یقیناً اپنے بندے کی طرف رحمت کے ساتھ لوٹ لوٹ کر آنے والا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(111۔ المسد / الہب:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ ؕ
(111۔ المسد / الہب:2)
all hifz
►
ابو لَہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوئے اور وہ بھی ہلاک ہوگیا۔
شعلہ کے باپ کے دونوں ہاتھ ہی شل ہو گئے ہیں اور وہ (خود) بھی شل ہو کر رہ گیا ہے۔
مَاۤ اَغْنٰی عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ
(111۔ المسد / الہب:3)
all hifz
►
اُس کے کچھ کام نہ آیا اُس کا مال اور جو کچھ اُس نے کمایا۔
اس کے مال نے اسے کوئی فائدہ نہیں دیا اور نہ اس کی کوششوں نے (کوئی فائدہ) دیا ہے۔
سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۚۖ
(111۔ المسد / الہب:4)
all hifz
►
وہ ضرور ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
وہ ضرور آگ میں پڑے گا جو (اسی کی طرح) شعلے مارنے والی ہوگی۔
وَّ امْرَاَتُهٗ ؕ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۚ
(111۔ المسد / الہب:5)
all hifz
►
اور اُس کی عورت بھی، اس حال میں کہ وہ بہت ایندھن اٹھائے ہوئے ہوگی۔
اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھا اٹھا کر لاتی ہے (آگ میں پڑے گی)
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ (ع)
(111۔ المسد / الہب:6)
all hifz
►
اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا مضبوطی سے بٹا ہوا رسّہ ہوگا۔
اس کی (بیوی کی) گردن میں کھجور کا سخت بٹا ہوا رسا باندھا جائے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(112۔ الإخلاص:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۚ
(112۔ الإخلاص:2)
all hifz
►
تُو کہہ دے کہ وہ اللہ ایک ہی ہے۔
(ہم ہر زمانہ کے مسلمان کو حکم دیتے ہیں کہ) تو (دوسرے لوگوں سے) کہتا چلا جا‘ کہ (اصل) بات یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۚ
(112۔ الإخلاص:3)
all hifz
►
اللہ بے احتیاج ہے۔
اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں (اور وہ کسی کا محتاج نہیں)
لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوْلَدْ ۙ
(112۔ الإخلاص:4)
all hifz
►
نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔
نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔
وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ (ع)
(112۔ الإخلاص:5)
all hifz
►
اور اُس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا۔
اور (اس کی صفات میں) اس کا کوئی بھی شریک کار نہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(113۔ الفلق:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۙ
(113۔ الفلق:2)
all hifz
►
تُو کہہ دے کہ میں (چیزوں کو) پھاڑ کر (نئی چیز) پیدا کرنے والے ربّ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ) تو (دوسرے لوگوں سے) کہتا چلا جا کہ میں مخلوقات کے رب سے (اس کی) پناہ طلب کرتا ہوں۔
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ
(113۔ الفلق:3)
all hifz
►
اُس کے شر سے جو اس نے پیدا کیا۔
اس کی ہر مخلوق کی (ظاہری و باطنی) برائی سے (بچنے کے لئے)
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ
(113۔ الفلق:4)
all hifz
►
اور اندھیرا کرنے والے کے شر سے جب وہ چھا چکا ہو۔
اور اندھیرا کرنے والے کی ہر شرارت سے (بچنے کے لئے) جب وہ اندھیرا کر دیتا ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ۙ
(113۔ الفلق:5)
all hifz
►
اور گِرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔
اور تمام ایسے نفوس کی شرارت سے (بچنے کے لئے بھی) جو (باہمی تعلقات کی) گرہ میں (تعلق تڑوانے کی نیت سے) پھونکیں مارتے ہیں۔
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (ع)
(113۔ الفلق:6)
all hifz
►
اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
اور ہر حاسد کی شرارت سے (بھی) جب وہ حسد پر تل جاتا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(114۔ الناس:1)
all hifz
►
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
(میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ
(114۔ الناس:2)
all hifz
►
تُو کہہ دے کہ میں انسانوں کے ربّ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ) تو (دوسرے لوگوں سے) کہتا چلا جا‘ کہ میں تمام انسانوں کے رب سے (اس کی) پناہ طلب کرتا ہوں۔
مَلِکِ النَّاسِ ۙ
(114۔ الناس:3)
all hifz
►
انسانوں کے بادشاہ کی۔
(وہ رب) جو تمام انسانوں کا بادشاہ (بھی) ہے۔
اِلٰهِ النَّاسِ ۙ
(114۔ الناس:4)
all hifz
►
انسانوں کے معبود کی۔
اور تمام انسانوں کا معبود (بھی) ہے۔
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ۬ۙ الْخَنَّاسِ ۪ۙ
(114۔ الناس:5)
all hifz
►
بکثرت وسوسے پیدا کرنے والے کے شرّ سے، جو وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
(میں اس کی پناہ طلب کرتا ہوں) ہر وسوسہ ڈالنے والے کی شرارت سے۔ جو (ہر قسم کے وسوسے ڈال کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ۙ
(114۔ الناس:6)
all hifz
►
وہ جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
(اور) جو انسانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کر دیتا ہے۔
مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ (ع)
(114۔ الناس:7)
all hifz
►
(خواہ) وہ جنوں میں سے ہو (یعنی بڑے لوگوں میں سے) یا عوام النا س میں سے۔
خواہ وہ (فتنہ پرداز) مخفی رہنے والی ہستیوں میں سے ہو‘ خواہ عام انسانوں میں سے ہو۔